منگل، 21 جولائی 2026
اے آئی کی دنیا

مصنوعی ذہانت کی خبریں، ٹولز اور معلومات

تجزیے

گوگل کی نئی AI سرچ، کیا اوپن ویب کا پرانا نظام بدل رہا ہے؟ نیویارک ٹائمز کی رپورٹ

21 جولائی 2026

گوگل کی نئی AI سرچ، کیا اوپن ویب کا پرانا نظام بدل رہا ہے؟ نیویارک ٹائمز کی رپورٹ

انٹرنیٹ کی تاریخ میں گوگل نے طویل عرصے تک ایک ایسے دروازے کا کردار ادا کیا جو صارفین کو دنیا بھر کی ویب سائٹس تک پہنچاتا تھا۔ لوگ سوال لکھتے، گوگل متعلقہ روابط دکھاتا اور پھر صارف کسی اخبار، کاروباری ادارے، یونیورسٹی، بلاگ یا دوسری ویب سائٹ پر جا کر مکمل معلومات حاصل کرتا۔ اسی ماڈل نے نہ صرف گوگل کو دنیا کی طاقتور ترین ٹیکنالوجی کمپنیوں میں شامل کیا بلکہ لاکھوں ویب سائٹس کے لیے ٹریفک، قارئین اور آمدن کا ایک بنیادی ذریعہ بھی پیدا کیا۔ اب مصنوعی ذہانت کے دور میں یہی تعلق تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے۔

سنہ 2004 میں گوگل کے شریک بانی Larry Page نے کمپنی کی عوامی فہرست سازی سے قبل حصص یافتگان کے نام خط میں لکھا تھا کہ ایک بہتر معاشرے کے لیے معیاری معلومات تک وسیع، آزاد اور غیر جانب دار رسائی ضروری ہے۔ کئی برس تک گوگل نے اسی تصور کے تحت خود کو انٹرنیٹ کے داخلی راستے کے طور پر پیش کیا۔ اس کی کامیابی کا بنیادی طریقہ یہ تھا کہ صارف کو جواب اپنے اندر بند رکھنے کے بجائے اسے مختلف ویب سائٹس کی طرف بھیجا جائے۔

موجودہ دور میں یہ ماڈل بنیادی تبدیلی سے گزر رہا ہے۔ گوگل نے اپنی سرچ سروس میں مصنوعی ذہانت کو تیزی سے شامل کرتے ہوئے AI Overviews اور پھر AI Mode جیسی سہولیات متعارف کرائیں۔ روایتی سرچ میں جہاں صارف کو روابط کی فہرست دکھائی جاتی تھی، وہاں AI Mode اب Gemini کی مدد سے سوال کا ایک مربوط، گفتگو کی طرز کا جواب براہ راست سرچ کے اندر تیار کر سکتا ہے۔ صارف مزید سوالات بھی پوچھ سکتا ہے اور کئی مواقع پر مطلوبہ معلومات حاصل کرنے کے لیے کسی دوسری ویب سائٹ پر جانے کی ضرورت محسوس نہیں کرتا۔

مزید حالیہ تبدیلیوں میں گوگل نے اپنی مشہور سرچ باکس کو بھی تقریباً پچیس برس بعد نمایاں طور پر تبدیل کیا ہے۔ صارف اب صرف الفاظ کے ذریعے سوال پوچھنے تک محدود نہیں بلکہ تصاویر اور ویڈیوز بھی شامل کر سکتا ہے، جبکہ بعض کاموں کے لیے مصنوعی ذہانت پر مبنی ایجنٹس کو تحقیق اور تلاش کی ذمہ داری دی جا سکتی ہے۔ گوگل کے مطابق یہ نئی سرچ پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ پیچیدہ، طویل اور کثیر مرحلہ سوالات سمجھ سکتی ہے۔

صارفین کے رویے میں بھی اس تبدیلی کے واضح آثار نظر آ رہے ہیں۔ گوگل نے اپنی مئی 2026 کی ڈویلپر کانفرنس میں بتایا کہ AI پر مبنی سرچ میں صارفین کے سوالات روایتی کلیدی الفاظ والی سرچ کے مقابلے میں تقریباً تین گنا زیادہ طویل ہو رہے ہیں۔ کمپنی کے مطابق AI Mode ایک ارب ماہانہ صارفین کی سطح عبور کر چکا ہے، جبکہ اس میں کیے جانے والے سوالات کی تعداد بھی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔

مختلف تحقیقی جائزوں سے یہ بھی ظاہر ہوا ہے کہ لوگ AI Mode میں روایتی گوگل سرچ کے مقابلے میں زیادہ وقت گزار رہے ہیں۔ نیویارک ٹائمز کی جانب سے جمع کیے گئے تین مختلف مطالعات میں صارفین کے AI Mode میں ایک سے نو منٹ زیادہ گزارنے کی نشاندہی کی گئی۔ Growth Memo کی ایک تحقیق کے مطابق زیرِ مطالعہ تقریباً 75 فیصد سیشنز میں صارف AI Mode استعمال کرنے کے بعد کسی بیرونی ویب سائٹ پر نہیں گیا۔ گوگل نے اس مخصوص مطالعے کے طریقۂ کار پر اعتراض کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کا نمونہ محدود تھا اور صارفین کو دیے گئے کام عام سرچ کے رویے کی درست نمائندگی نہیں کرتے۔

ویب سائٹ مالکان کے لیے اصل مسئلہ یہی ہے۔ جس سرچ نظام پر انہوں نے برسوں اپنی قارئین کی تعداد، اشتہاری آمدن اور کاروباری حکمت عملی قائم کی، وہ اب صارف کو ویب سائٹ تک پہنچانے کے بجائے اکثر خود ہی جواب فراہم کر رہا ہے۔ اخبار، میگزین، بینک، آن لائن دکان یا معلوماتی ویب سائٹ جس مواد کی تیاری میں وقت اور سرمایہ خرچ کرتی ہے، مصنوعی ذہانت اسی مواد سے جواب تیار کر سکتی ہے اور صارف گوگل کی حدود کے اندر ہی اپنی ضرورت پوری کر سکتا ہے۔

ٹیکنالوجی ویب سائٹ The Verge کے مدیر اعلیٰ Nilay Patel کئی برسوں سے ایک ایسی صورتحال کے بارے میں خبردار کرتے رہے ہیں جسے انہوں نے “Google Zero” کا نام دیا، یعنی وہ مرحلہ جب گوگل سے ویب سائٹس کو ملنے والی ٹریفک انتہائی کم ہو جائے۔ ان کے مطابق AI Mode کی آمد نے اس خدشے کو ایک نظریاتی امکان کے بجائے عملی حقیقت کے قریب پہنچا دیا ہے اور بعض پبلشرز کے لیے یہ مرحلہ پہلے ہی شروع ہو چکا ہے۔

اوپن ویب کے لیے یہ سوال اس لیے بھی اہم ہے کہ ورلڈ وائڈ ویب کا بنیادی تصور ہی مختلف آزاد ویب سائٹس کے درمیان آزادانہ نقل و حرکت پر قائم تھا۔ اس نظام کے خالق Tim Berners-Lee نے ویب کو ایک ایسے عالمی تعاون کے پلیٹ فارم کے طور پر تصور کیا تھا جہاں کوئی بھی اپنی ویب سائٹ بنا سکتا ہے اور صارف آزادانہ طور پر مختلف مقامات تک پہنچ سکتا ہے۔ وقت کے ساتھ بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں نے ایسے بند ماحولیاتی نظام قائم کیے جن میں صارف اپنی بیشتر سرگرمیاں ایک ہی کمپنی کی خدمات کے اندر مکمل کرتا ہے۔

اسی تناظر میں Tim Berners-Lee نے 2024 میں لکھا تھا کہ بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی طاقت اور منافع پر مبنی بند نظام پہلے ہی ویب کے بنیادی تصور کو نقصان پہنچا رہے تھے اور مصنوعی ذہانت کی تیز رفتار ترقی نے ان خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے۔ اب مسئلہ صرف سوشل میڈیا یا ایپ اسٹورز تک محدود نہیں بلکہ سرچ، معلومات اور ویب سائٹس تک رسائی کے پورے طریقۂ کار تک پہنچ چکا ہے۔

گوگل اس مؤقف کو مسترد کرتا ہے کہ اس کی مصنوعی ذہانت پر مبنی سرچ اوپن ویب کو نقصان پہنچا رہی ہے۔ کمپنی کی سرچ سربراہ Liz Reid نے اگست 2025 میں کہا تھا کہ گوگل بدستور روزانہ اربوں کلکس ویب سائٹس کو بھیج رہا ہے اور مجموعی سرچ ٹریفک میں بڑی تباہ کن کمی کی رپورٹس درست تصویر پیش نہیں کرتیں۔ ان کے مطابق سرچ میں AI شامل ہونے کے باوجود کمپنی ویب ماحولیاتی نظام کی صحت کو انتہائی اہم سمجھتی ہے۔

اپنی حالیہ تبدیلیوں میں گوگل نے بیرونی ویب سائٹس تک رسائی کو مزید نمایاں بنانے کی بھی کوشش کی ہے۔ کمپنی نے بعض AI جوابات کے ساتھ ویب سائٹس کے پیش منظر، متعلقہ مضامین کے براہ راست روابط اور ایسے فیچرز شامل کیے ہیں جو صارفین کو اصل مواد تک جانے میں مدد دیتے ہیں۔ صارفین کے لیے پسندیدہ ذرائع منتخب کرنے کی سہولت بھی متعارف کرائی گئی ہے تاکہ AI نتائج میں ان کی ترجیحی خبری یا معلوماتی ویب سائٹس زیادہ نمایاں ہو سکیں۔

کمپنی کا مؤقف ہے کہ مصنوعی ذہانت پر مبنی سرچ لوگوں کے سوالات کی نوعیت بدل رہی ہے، لیکن ویب تک روابط ختم نہیں کیے جا رہے۔ گوگل کے مطابق اس کی AI Search سہولیات ہر ہفتے اربوں کلکس بیرونی ویب پر بھیجتی ہیں اور صارفین پہلے کے مقابلے میں ایسے پیچیدہ سوالات بھی پوچھ رہے ہیں جن کے لیے وہ شاید روایتی سرچ استعمال ہی نہ کرتے۔

اس کے باوجود ویب کے مجموعی اعدادوشمار پبلشرز کی تشویش کو تقویت دیتے ہیں۔ انٹرنیٹ انفراسٹرکچر کمپنی Cloudflare کے مطابق ویب ٹریفک کا نصف سے زیادہ حصہ اب غیر انسانی سرگرمیوں پر مشتمل ہے، جس میں مختلف خودکار بوٹس اور AI کرالرز بھی شامل ہیں۔ کمپنی کے مطابق جون 2025 سے اپریل 2026 کے دوران مالیات، اشاعت اور ریٹیل سمیت مختلف شعبوں کی ویب سائٹس پر انسانی ٹریفک میں تقریباً 40 فیصد کمی دیکھی گئی۔

یہ تبدیلی اوپن ویب کے پرانے معاشی ماڈل کے لیے ایک بنیادی مسئلہ پیدا کرتی ہے۔ ماضی میں سرچ انجن ویب سائٹ سے معلومات حاصل کرتا، اسے انڈیکس کرتا اور پھر صارف کو اصل صفحے پر بھیج دیتا تھا۔ نئی AI سرچ میں بوٹ ویب سے معلومات حاصل کرتا ہے، ان معلومات کو ایک نئے جواب کی شکل دیتا ہے اور صارف وہ جواب سرچ انجن کے اندر ہی پڑھ لیتا ہے۔ اس صورت میں اصل ویب سائٹ کو مواد فراہم کرنے کے باوجود ضروری نہیں کہ قارئین یا اشتہاری آمدن بھی حاصل ہو۔

آن لائن انسائیکلوپیڈیا Wikipedia بھی اس تبدیلی کے اثرات محسوس کر رہا ہے۔ Wikimedia Foundation کے مطابق گزشتہ ایک سال کے دوران اس کی ویب سائٹ پر انسانی صارفین کی تعداد میں تقریباً آٹھ فیصد کمی ہوئی، جبکہ اسی عرصے میں AI ماڈلز کے لیے ڈیٹا حاصل کرنے والے خودکار بوٹس کی سرگرمی میں اضافہ ہوا۔ یوں ایک ایسی ویب سائٹ جو دنیا بھر میں مفت معلومات فراہم کرتی ہے، اب خود اس سوال کا سامنا کر رہی ہے کہ صارف تک براہ راست کیسے پہنچا جائے۔

اسی وجہ سے Wikimedia Foundation نے گوگل پر مکمل انحصار کم کرنے کے لیے اپنی ایپ اور سوشل میڈیا چینلز کو زیادہ نمایاں کرنا شروع کیا ہے۔ ادارے نے بڑی AI کمپنیوں کے لیے اپنے ڈیٹا تک منظم رسائی کو تجارتی بنیادوں پر فراہم کرنے کا سلسلہ بھی شروع کیا ہے تاکہ بڑے پیمانے پر اس کے مواد سے فائدہ اٹھانے والی کمپنیاں اس بنیادی انفراسٹرکچر کی مالی مدد بھی کریں جس پر یہ معلومات تیار اور برقرار رکھی جاتی ہیں۔

برطانیہ میں اس مسئلے نے ریگولیٹری سطح پر بھی عملی شکل اختیار کر لی ہے۔ برطانوی Competition and Markets Authority نے جون 2026 میں گوگل سرچ کے لیے نئے قواعد نافذ کیے جن کے تحت پبلشرز کو یہ اختیار دینا ضروری قرار دیا گیا کہ وہ اپنے مواد کو سرچ کی جنریٹو AI سہولیات میں استعمال ہونے سے روک سکیں۔ اسی طرح گوگل کو AI سے تیار کردہ سرچ نتائج میں اصل پبلشرز کو واضح انداز میں منسوب کرنے اور صارف کو اصل مواد تک پہنچنے کے لیے نمایاں روابط فراہم کرنے کی ہدایت بھی دی گئی ہے۔

برطانوی ریگولیٹر نے اس کے ساتھ گوگل کی سرچ رینکنگ کے لیے مزید شفافیت اور منصفانہ اصول بھی نافذ کیے ہیں۔ ان ضوابط میں AI Overviews اور دوسری جنریٹو سرچ سہولیات بھی شامل ہیں۔ اس اقدام کی اہمیت یہ ہے کہ پہلی مرتبہ ایک بڑی ریگولیٹری اتھارٹی نے واضح طور پر تسلیم کیا ہے کہ AI سرچ اور پبلشرز کے درمیان موجودہ تعلق میں نئے قواعد کی ضرورت پیدا ہو چکی ہے۔

دوسری جانب اوپن ویب کے بعض حامی اس معاملے کو مکمل طور پر بند نظام میں تبدیلی نہیں سمجھتے۔ Electronic Frontier Foundation سے وابستہ قانونی ماہرین کا مؤقف ہے کہ گوگل اب بھی صارف کو بیرونی ویب سائٹس تک جانے کا راستہ فراہم کرتا ہے، اس لیے اسے Facebook جیسے مکمل بند ماحولیاتی نظام کے برابر نہیں رکھا جا سکتا جہاں پلیٹ فارم تک بنیادی رسائی کے لیے بھی صارف کو اسی نظام کا حصہ بننا پڑتا ہے۔

پبلشرز کے لیے یہ فرق عملی طور پر بہت کم تسلی بخش ہے۔ اگر صارف کے پاس بیرونی ویب سائٹ پر جانے کا راستہ موجود بھی ہو لیکن اسے اپنی ضرورت کا مکمل جواب گوگل کے اندر ہی مل جائے تو اس کے پاس رابطے پر کلک کرنے کی وجہ کم رہ جاتی ہے۔ یہی تبدیلی خبروں، ٹیکنالوجی میڈیا، معلوماتی ویب سائٹس اور دوسرے آن لائن کاروباروں کے لیے آمدن کا مسئلہ پیدا کر رہی ہے۔

امریکی میڈیا کمپنی Vox Media بھی اس دباؤ کی ایک اہم مثال بن چکی ہے۔ کمپنی کے سربراہ Jim Bankoff کے مطابق سرچ ٹریفک میں شدید کمی نے انہیں قارئین تک پہنچنے کے دوسرے طریقوں، خصوصاً پوڈکاسٹس اور براہ راست صارف تعلقات، پر زیادہ توجہ دینے پر مجبور کیا۔ مئی 2026 میں کمپنی نے اپنے بعض کاروباری اثاثے فروخت کرنے کا عمل شروع کیا اور جون میں The Verge سمیت کئی ویب سائٹس Penske Media کو فروخت کر دی گئیں۔

یہ صورتحال ایک بڑے تضاد کو نمایاں کرتی ہے۔ گوگل کا کہنا ہے کہ وہ اب بھی ویب کو اربوں کلکس بھیج رہا ہے اور مصنوعی ذہانت لوگوں کو زیادہ اور بہتر سرچ کرنے میں مدد دے رہی ہے، جبکہ دوسری طرف متعدد پبلشرز کا کہنا ہے کہ ان کی سرچ سے آنے والی ٹریفک مسلسل کم ہو رہی ہے اور ان کے کاروباری ماڈلز پر براہ راست دباؤ بڑھ رہا ہے۔ دونوں دعوے بیک وقت مختلف پیمانوں پر درست بھی ہو سکتے ہیں، کیونکہ مجموعی طور پر اربوں کلکس برقرار رہنے کے باوجود مخصوص اقسام کی ویب سائٹس یا مخصوص سوالات پر ٹریفک نمایاں طور پر کم ہو سکتی ہے۔

اصل تبدیلی دراصل سرچ کے مقصد میں نظر آ رہی ہے۔ روایتی سرچ کا کام صارف کو جواب کی جگہ بتانا تھا، جبکہ نئی AI سرچ خود جواب بننے کی کوشش کر رہی ہے۔ یہی فرق اوپن ویب کے مستقبل کے بارے میں بنیادی سوال پیدا کرتا ہے۔ اگر صارف کو معلومات حاصل کرنے کے لیے اصل ویب سائٹ تک جانے کی ضرورت نہ رہے تو پھر ان ویب سائٹس کو معیاری مواد، تحقیق، صحافت اور معلومات تیار کرنے کے لیے مالی وسائل کہاں سے ملیں گے؟

طویل مدت میں یہ مسئلہ خود AI کمپنیوں کے لیے بھی اہم ہو سکتا ہے۔ جدید AI نظاموں کو نئے، مستند اور انسانی طور پر تیار کردہ مواد کی مسلسل ضرورت رہتی ہے۔ اگر پبلشرز، آزاد ویب سائٹس اور معلوماتی اداروں کی آمدن کم ہونے کے نتیجے میں اصل مواد کی تیاری گھٹتی ہے تو مصنوعی ذہانت کے لیے دستیاب معیاری معلومات کا ذخیرہ بھی متاثر ہو سکتا ہے۔ یوں وہ نظام جو آج ویب کے مواد کو استعمال کرکے زیادہ مؤثر بن رہے ہیں، مستقبل میں اسی اوپن ویب کی کمزوری سے خود بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔

مجموعی طور پر گوگل کی AI سرچ صرف سرچ انجن میں ایک نئی سہولت کا اضافہ نہیں بلکہ انٹرنیٹ کے بنیادی معاشی اور معلوماتی ڈھانچے میں ایک ممکنہ تبدیلی کی نمائندگی کرتی ہے۔ صارف کے لیے یہ تبدیلی زیادہ تیز، آسان اور مکمل جواب فراہم کر سکتی ہے، لیکن ویب سائٹ مالکان کے لیے یہی سہولت قارئین اور آمدن میں کمی کا باعث بن سکتی ہے۔ آنے والے برسوں میں اصل سوال یہ ہوگا کہ آیا گوگل اور دوسری AI کمپنیاں ایسا توازن قائم کر پاتی ہیں جہاں صارف کو فوری جواب بھی ملے اور اس جواب کو ممکن بنانے والے اوپن ویب، پبلشرز اور تخلیق کاروں کا معاشی نظام بھی برقرار رہ سکے۔

ماخذ:

۱۔ The New York Times، Kate Conger، “Google Is Building an A.I. Fence Around the Internet It Once Championed”، 20 جولائی 2026۔

یہ تحریر اے آئی کی دنیا کے فیس بک پیج پر پوسٹ کی گئی ہے

#AiKiDuniya, #Google, #GoogleSearch, #AISearch, #AIMode, #Gemini, #OpenWeb, #ArtificialIntelligence, #DigitalMedia, #FutureOfSearch

اس تحریر پر فیس بک پر تبصرہ کریں

مزید پڑھیں