مصنوعی ذہانت کے بارے میں ہونے والی بحث اب صرف نئے چیٹ بوٹس، بہتر کوڈنگ یا تیز تر ماڈلز تک محدود نہیں رہی۔ سوال اب یہ ہے کہ اگر AI واقعی انسان سے زیادہ ذہین ہوگئی، روبوٹس کے ذریعے جسمانی دنیا میں بھی کام کرنے لگی اور معیشت کے بڑے حصے کو خودکار بنا دیا، تو روزگار، دولت، انسانی اختیار اور عالمی طاقت کا پورا تصور کس طرح بدل جائے گا۔ ایلون مسک نے اپنے حالیہ طویل انٹرویو میں انہی سوالات پر تفصیل سے بات کی اور ایک ایسا مستقبل بیان کیا جو بیک وقت امید افزا بھی ہے اور تشویش ناک بھی۔
مسک کے مطابق آئندہ تقریباً پانچ سال میں مصنوعی ذہانت مجموعی انسانی ذہانت سے آگے نکل سکتی ہے۔ ان کا خیال ہے کہ دس سال کے اندر AI کی ذہانت انسانوں کی مجموعی ذہنی صلاحیت سے کہیں زیادہ ہوسکتی ہے اور اس مرحلے پر شاید ایسا کوئی اہم ذہنی کام باقی نہ رہے جسے AI انسان سے بہتر نہ کرسکے۔ ان کے نزدیک انسان کی واحد منفرد خصوصیت شاید انسان ہونا ہی رہ جائے، کیونکہ تجزیہ، منصوبہ بندی، کوڈنگ، تحقیق، تحریر اور فیصلہ سازی جیسے کام AI کے لیے معمول بن سکتے ہیں۔
اس پیش گوئی کے ساتھ مسک نے ایک اور اہم فرق واضح کیا۔ ان کے مطابق آج کی AI بنیادی طور پر ڈیجیٹل دنیا تک محدود ہے۔ وہ معلومات سمجھ سکتی ہے، کوڈ لکھ سکتی ہے، سوالات کے جواب دے سکتی ہے اور مختلف سافٹ ویئر ٹولز کے ساتھ کام کرسکتی ہے، لیکن مادی دنیا میں خود حرکت نہیں کرتی۔ اصل انقلاب اس وقت آئے گا جب اسی ڈیجیٹل ذہانت کو ہیومنوئیڈ روبوٹس اور دیگر جسمانی مشینوں کے ساتھ جوڑ دیا جائے گا۔
مسک کے تصور میں روبوٹ دراصل AI کے جسمانی ہاتھ اور پاؤں ہوں گے۔ مرکزی ذہانت کسی بڑے ماڈل یا ڈیٹا سینٹر میں موجود ہوگی، جبکہ روبوٹ اس ذہانت کے احکامات کو حقیقی دنیا میں نافذ کریں گے۔ اس امتزاج کے بعد AI صرف رپورٹ تیار نہیں کرے گی بلکہ سامان اٹھائے گی، فیکٹری چلائے گی، گھر کے کام کرے گی، تعمیرات میں حصہ لے گی اور خدمات فراہم کرے گی۔ ان کے مطابق اسی مرحلے پر معیشت کی نوعیت بنیادی طور پر بدل سکتی ہے، کیونکہ پیداوار صرف انسانی محنت سے محدود نہیں رہے گی۔
معیشت کے مستقبل پر بات کرتے ہوئے مسک نے کہا کہ اگر بڑی تعداد میں روبوٹس مسلسل اشیا تیار کریں اور خدمات فراہم کریں تو دنیا غیر معمولی فراوانی کی طرف بڑھ سکتی ہے۔ ان کا تصور یہ ہے کہ ایک وقت ایسا آسکتا ہے جب کھانا، رہائش، نقل و حمل، تفریح اور روزمرہ کی دیگر ضروریات اتنی زیادہ مقدار میں دستیاب ہوں کہ موجودہ مالی نظام کی اہمیت کم ہونے لگے۔ اسی وجہ سے انہوں نے یہاں تک کہا کہ 2036 تک پیسے کی موجودہ اہمیت شاید باقی نہ رہے۔
یہ دعویٰ بظاہر بہت دور کی بات محسوس ہوتا ہے، لیکن مسک کی منطق یہ ہے کہ پیسے کی ضرورت اشیا اور خدمات حاصل کرنے کے لیے ہوتی ہے۔ اگر AI اور روبوٹس ان اشیا اور خدمات کو تقریباً لامحدود مقدار میں پیدا کرنے لگیں تو قلت کم ہوجائے گی اور قیمتوں کا موجودہ تصور بدل سکتا ہے۔ تاہم یہ ایک نظریاتی اور انتہائی پُرامید منظرنامہ ہے۔ انٹرویو میں اس بات کا کوئی عملی خاکہ پیش نہیں کیا گیا کہ ملکیت، رسائی اور وسائل کی تقسیم کیسے ہوگی یا یہ فراوانی سب لوگوں تک یکساں طور پر کیسے پہنچے گی۔
انسانی اختیار کے سوال پر مسک کا جواب زیادہ غیر معمولی تھا۔ ان کے مطابق اگر AI کی ذہانت انسان سے اتنی زیادہ ہوگئی جتنی انسان اور بندر کی ذہانت میں فرق ہے، تو یہ تصور کرنا مشکل ہوگا کہ انسان بدستور مکمل کنٹرول میں رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ کسی انسان کا یہ سمجھنا کہ وہ اپنے سے کہیں زیادہ ذہین نظام کو ہمیشہ قابو میں رکھ سکے گا، شاید خود فریبی ہوگی۔
اس کے باوجود مسک نے یہ مؤقف اختیار کیا کہ مقصد AI کو مکمل طور پر روکنا نہیں بلکہ اس کے اندر ایسی اقدار پیدا کرنا ہونا چاہیے جو انسانیت کے لیے فائدہ مند ہوں۔ ان کے مطابق سب سے اہم خصوصیات سچ کی تلاش، تجسس اور انسانوں کی خوش حالی سے دلچسپی ہوسکتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر AI زیادہ سے زیادہ حقیقت پسند، متجسس اور انسانوں کے لیے ہمدردانہ اقدار رکھتی ہو تو اس کے مثبت رہنے کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔
حفاظتی خطرات پر مسک کے خیالات میں واضح تبدیلی بھی نظر آئی۔ ماضی میں وہ بار بار AI کی تباہ کن صلاحیتوں اور تیز رفتار خود بہتری کے خطرے پر خبردار کرتے رہے ہیں۔ انٹرویو میں انہوں نے تسلیم کیا کہ خطرہ اب بھی صفر نہیں، لیکن ان کا رویہ پہلے کی نسبت زیادہ قبولیت پر مبنی ہے۔ ان کے مطابق AI اور روبوٹس کی ترقی کو روکنے کا کوئی حقیقی راستہ دکھائی نہیں دیتا، اس لیے بہتر حکمت عملی یہ ہے کہ خطرات کم کیے جائیں اور ممکنہ مثبت نتائج کے لیے تیاری کی جائے۔
یہاں مسک کی سوچ مکمل طور پر بے فکری پر مبنی نہیں تھی۔ انہوں نے کہا کہ بعض اوقات وہ ایک ہی دن میں AI کے بارے میں جوش اور خوف، دونوں کیفیتوں سے گزرتے ہیں۔ ان کے نزدیک مستقبل بیک وقت پُرجوش اور خوف ناک ہوسکتا ہے۔ یعنی وہ اس خیال کو رد نہیں کرتے کہ AI بہت بڑا نقصان پہنچا سکتی ہے، لیکن ان کا خیال ہے کہ اس عمل کی رفتار اب اتنی بڑھ چکی ہے کہ مکمل رکاوٹ عملی طور پر ممکن نہیں رہی۔
حفاظت کے لیے مسک نے ایک عملی تجویز بھی دی۔ ان کے مطابق دنیا کی بڑی AI کمپنیوں کو باقاعدگی سے ایک دوسرے کے ساتھ رابطہ رکھنا چاہیے اور نئے طاقتور ماڈلز کی ریلیز سے پہلے انہیں محدود مدت کے لیے حریف اداروں کی جانچ کے لیے پیش کرنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کوئی کمپنی ایسا ماڈل جاری کرنے والی ہو جو موجودہ نظاموں سے کہیں زیادہ طاقتور ہو تو دیگر ماہر کمپنیاں ایک یا دو ہفتے پہلے اس کے حفاظتی مسائل، سائبر خطرات اور ممکنہ غلط استعمال کی جانچ کرسکتی ہیں۔
مسک کے مطابق اس نظام میں حکومت کا کردار آخری حفاظتی مرحلے کے طور پر ہونا چاہیے۔ ان کی تجویز یہ تھی کہ اگر کئی بڑی AI کمپنیاں کسی نئے ماڈل کو خطرناک سمجھیں اور اسے بنانے والی کمپنی خدشات دور کرنے کے لیے تیار نہ ہو، تب حکومت کو مداخلت کرنی چاہیے۔ ان کے خیال میں تکنیکی طور پر حریف کمپنیاں خطرات کو کسی عام سرکاری ادارے کے مقابلے میں زیادہ جلدی اور درست انداز میں پہچان سکتی ہیں، کیونکہ وہ خود جدید ماڈلز تیار کررہی ہوتی ہیں۔
بین الاقوامی سطح پر مسک نے اس تعاون میں چینی AI کمپنیوں کو بھی شامل کرنے کی حمایت کی۔ ان کے مطابق اگر حفاظتی نظام صرف امریکی اداروں تک محدود رہا تو وہ عالمی سطح پر مؤثر نہیں ہوگا، کیونکہ چین بھی تیزی سے جدید ماڈلز تیار کررہا ہے۔ انہوں نے یہ امکان ظاہر کیا کہ امریکی اور چینی حکومتیں ہی ایسی بڑی طاقتیں ہیں جو انتہائی خطرناک ماڈل کی ریلیز کو حقیقی طور پر محدود کرسکتی ہیں۔
چین کی AI ترقی کے بارے میں مسک کا انداز خاصا سنجیدہ تھا۔ انہوں نے کہا کہ چینی کمپنیاں نسبتاً محدود کمپیوٹنگ وسائل کے باوجود بہت اچھی کارکردگی دکھا رہی ہیں۔ ان کے مطابق اگر انہیں زیادہ مقدار میں جدید چپس اور کمپیوٹ مل جائے تو ان کے عالمی رہنما بننے کے امکانات موجود ہیں۔ انہوں نے خاص طور پر نئے Kimi ماڈل کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ چینی نظام تیزی سے بہترین مغربی ماڈلز کے قریب پہنچ رہے ہیں۔
اس مقابلے میں مسک نے بجلی اور چپس کو سب سے بڑی بنیادی رکاوٹ قرار دیا۔ ان کے مطابق AI کی ترقی کا دارومدار صرف الگورتھمز پر نہیں بلکہ اس بات پر بھی ہے کہ کتنی کمپیوٹنگ طاقت دستیاب ہے، کتنی بجلی پیدا کی جاسکتی ہے اور ڈیٹا سینٹرز کو کس طرح ٹھنڈا رکھا جاسکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بعض علاقوں میں بجلی اور کولنگ کی کمی چپس سے بھی زیادہ اہم رکاوٹ بن رہی ہے، کیونکہ جدید AI چپس بہت زیادہ توانائی استعمال کرتی ہیں۔
روزگار کے حوالے سے مسک کی پیش گوئی شاید عام لوگوں کے لیے سب سے زیادہ اہم ہے۔ ان کے مطابق کمپیوٹر اور فون پر کیے جانے والے تقریباً تمام کام بہت جلد AI کے دائرے میں آسکتے ہیں۔ سافٹ ویئر انجینئرنگ کے بارے میں انہوں نے دعویٰ کیا کہ AI پہلے ہی بہت سے پیشہ ور پروگرامرز سے بہتر کوڈ لکھ رہی ہے اور جلد ایسا مرحلہ آسکتا ہے جہاں انسان کے لیے اس کا مقابلہ کرنا ممکن نہ رہے۔
یہ دعویٰ صرف پروگرامنگ تک محدود نہیں تھا۔ مسک کے مطابق وہی اصول تحریر، تجزیہ، ڈیزائن، دفتری امور اور دیگر ڈیجیٹل کاموں پر بھی لاگو ہوگا۔ ان کے نزدیک پہلے وہ ملازمتیں متاثر ہوں گی جن میں انسان کا زیادہ تر وقت اسکرین، فون یا کمپیوٹر کے سامنے گزرتا ہے۔ جسمانی ملازمتوں کے لیے ہیومنوئیڈ روبوٹس کی ترقی ضروری ہوگی، لیکن وہ بھی AI کے ساتھ تیزی سے آگے بڑھ سکتے ہیں۔
مستقبل کے کام کو سمجھانے کے لیے مسک نے باغبانی کی مثال دی۔ ان کے مطابق ایک وقت ایسا آسکتا ہے جب کام معاشی مجبوری کے بجائے ذاتی پسند بن جائے۔ جیسے کوئی شخص سبزیاں بازار سے خرید سکتا ہے لیکن پھر بھی شوق سے اپنے باغ میں اگاتا ہے، اسی طرح لوگ مستقبل میں روزی کمانے کے لیے نہیں بلکہ دلچسپی، مقصد اور ذاتی تسکین کے لیے کام کرسکتے ہیں۔
تاہم مسک نے یہ بھی تسلیم کیا کہ اس مستقبل تک پہنچنے کا راستہ ہموار نہیں ہوگا۔ ان کے مطابق AI کی وجہ سے ملازمتوں میں تبدیلی کی رفتار ماضی کی صنعتی یا کمپیوٹر انقلابات سے کہیں زیادہ تیز ہوسکتی ہے۔ نئی ملازمتیں بننے اور پرانی ملازمتیں ختم ہونے کے درمیان اتنا وقت شاید نہ ملے جتنا ماضی میں ملا تھا، جس سے عبوری دور میں بڑے سماجی اور معاشی مسائل پیدا ہوسکتے ہیں۔
اس پوری گفتگو میں سب سے نمایاں بات یہ تھی کہ مسک اب AI کو ایک ایسی طاقت سمجھتے ہیں جسے مکمل طور پر روکنا ممکن نہیں۔ ان کی نظر میں اصل سوال یہ نہیں کہ AI آئے گی یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ اس کے ساتھ انسانی اقدار، حفاظتی نظام، عالمی تعاون اور معاشی تقسیم کو کس طرح ترتیب دیا جائے گا۔ ان کا مستقبل کا خاکہ غیر معمولی فراوانی، اختیاری کام اور انتہائی طاقتور ذہانت پر مبنی ہے، لیکن اسی خاکے میں انسانی اختیار کم ہونے، روزگار کی تیز تبدیلی اور حفاظتی ناکامیوں کا خطرہ بھی موجود ہے۔
مصنوعی ذہانت کے بارے میں ان پیش گوئیوں کو حتمی حقیقت نہیں سمجھنا چاہیے۔ پانچ سال میں مجموعی انسانی ذہانت سے آگے نکلنے، دس سال میں تقریباً ہر کام انسان سے بہتر کرنے اور پیسے کی اہمیت کم ہونے جیسے دعوے مسک کی ذاتی پیش گوئیاں ہیں، ثابت شدہ نتائج نہیں۔ لیکن ان کا وزن اس لیے ضرور ہے کہ وہ AI ماڈلز، روبوٹس، چپس، توانائی اور بڑے پیمانے کی کمپیوٹنگ پر براہ راست کام کرنے والی کمپنیوں کی قیادت کرتے ہیں۔
اصل سوال شاید یہ نہیں کہ مسک کی ہر تاریخ درست نکلے گی یا نہیں۔ زیادہ اہم بات یہ ہے کہ مصنوعی ذہانت کی ترقی پہلے ہی اتنی تیز ہوچکی ہے کہ روزگار، تعلیم، قانون، معیشت اور حفاظت سے متعلق فیصلے مستقبل پر چھوڑنا خطرناک ہوسکتا ہے۔ اگر تبدیلی واقعی ان کے اندازے کے قریب بھی ہوئی تو دنیا کو اس کے لیے ابھی سے تیاری کرنا ہوگی۔
ماخذ: یہ تحریر 20 جولائی 2026 کو ریکارڈ کیے گئے ایلون مسک اور دی اکانومسٹ کی مدیرِ اعلیٰ زینی منٹن بیڈوز کے تفصیلی انٹرویو کے فراہم کردہ ٹرانسکرپٹ کی بنیاد پر تیار کی گئی ہے۔
نوٹ: اس پوسٹ میں صرف مصنوعی ذہانت، روبوٹس، AI سیفٹی، روزگار اور مستقبل کی معیشت سے متعلق گفتگو شامل کی گئی ہے۔ انٹرویو میں موجود سیاست، جنگ، امیگریشن، میڈیا اور دیگر سیاسی موضوعات جان بوجھ کر شامل نہیں کیے گئے۔
یہ تحریر اے آئی کی دنیا کے فیس بک پیج پر پوسٹ کی گئی ہے
#AiKiDuniya, #ElonMusk, #ArtificialIntelligence, #FutureOfAI, #AISafety, #HumanoidRobots, #AGI, #FutureOfWork, #Automation, #Technology