گوگل کا اوپل
مصنوعی ذہانت کے اس دور میں مسئلہ یہ نہیں کہ لوگ نئے ٹولز استعمال نہیں کر رہے، اصل مسئلہ یہ ہے کہ زیادہ تر لوگ انہیں غلط طریقے سے استعمال کر رہے ہیں۔ گوگل اوپل بھی اسی فہرست میں شامل ہے۔ اکثر صارفین اوپل کے بارے میں جانتے تو ہیں، ایک آدھ بار آزما بھی لیتے ہیں، مگر پھر اسے ایک سادہ سا ٹوائے ٹول سمجھ کر چھوڑ دیتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر اوپل کو درست طریقے سے استعمال کیا جائے تو یہ ہر ہفتے گھنٹوں کا کام بچا سکتا ہے اور مکمل بزنس ورک فلو کو خودکار بنا سکتا ہے۔
گوگل اوپل بنیادی طور پر ایک نو کوڈ پلیٹ فارم ہے، جہاں آپ عام زبان میں بتاتے ہیں کہ آپ کیا بنانا چاہتے ہیں اور سسٹم خود بخود ایک مکمل ورک فلو تیار کر دیتا ہے۔ اس ورک فلو میں مختلف نوڈز ہوتے ہیں، جیسے ان پٹ، لاجک، اے آئی پراسیسنگ اور انٹیگریشنز، جو ایک دوسرے سے جڑے ہوتے ہیں۔ یہی وہ نکتہ ہے جہاں زیادہ تر لوگ غلطی کرتے ہیں۔ وہ فوراً کوئی پیچیدہ آئیڈیا بنانے کی کوشش کرتے ہیں، ناکام ہوتے ہیں اور پھر یہ نتیجہ نکال لیتے ہیں کہ اوپل “زیادہ خاص نہیں”۔
درست طریقہ یہ ہے کہ ابتدا میں سادہ مگر عملی مسئلے سے آغاز کیا جائے۔ مثال کے طور پر ایک ایسا لیڈ کوالیفائر ٹول جو صارف سے بجٹ، ٹائم لائن اور ضروریات پوچھے، اس ڈیٹا کی بنیاد پر اسکور دے اور نتیجہ گوگل شیٹس میں محفوظ کر دے۔ یہ کوئی ڈیمو نہیں بلکہ ایک حقیقی بزنس ٹول ہے جو روزانہ استعمال ہو سکتا ہے۔ اوپل اس طرح کے ٹولز چند منٹوں میں تیار کر دیتا ہے، اور سب کچھ بصری انداز میں سامنے ہوتا ہے تاکہ صارف سمجھ سکے کہ ڈیٹا کہاں سے آ رہا ہے اور کہاں جا رہا ہے۔
جب بنیادی سطح سمجھ میں آ جائے تو اگلا مرحلہ درمیانی درجے کا ہوتا ہے، جہاں اصل طاقت سامنے آتی ہے۔ اس سطح پر اصل کھیل نوڈز کو جوڑنے، چین بنانے اور اے آئی کو درست ہدایات دینے کا ہے۔ مثال کے طور پر ایک کانٹینٹ ری پرپوزنگ سسٹم، جہاں آپ صرف ایک بلاگ یو آر ایل دیتے ہیں اور سسٹم خود بخود اس کا خلاصہ بناتا ہے، لنکڈ اِن پوسٹس، ٹویٹس اور نیوز لیٹر ڈرافٹس تیار کرتا ہے۔ یہاں ماہر بننے کا مطلب یہ ہے کہ آپ اوپل کے بنائے گئے ورک فلو کو جوں کا توں قبول نہیں کرتے بلکہ اس میں اپنی برانڈ وائس، کنڈیشنل لاجک اور مختلف آؤٹ پٹس شامل کرتے ہیں۔
اصل مہارت اُس وقت آتی ہے جب اوپل کو ایک پروڈکٹ بلڈر کے طور پر استعمال کیا جائے۔ اس درجے پر صارف پورے بزنس پروسیس کو خودکار بنا سکتا ہے، جیسے کمپیٹیٹر اینالیسس، پروپوزل جنریشن، کلائنٹ آن بورڈنگ یا انوائس آٹومیشن۔ یہاں انٹیگریشنز کا کردار بہت اہم ہو جاتا ہے، جہاں جی میل، گوگل ڈرائیو، گوگل شیٹس اور ویب سرچ کو ایک ہی ورک فلو میں جوڑا جاتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ کنڈیشنل لاجک استعمال کر کے مختلف قسم کے کلائنٹس کے لیے مختلف نتائج تیار کیے جا سکتے ہیں، جو عام ٹیموں کے لیے دستی طور پر کرنا تقریباً ناممکن ہوتا ہے۔
اس سارے عمل کا سب سے اہم جزو پرامپٹ انجینئرنگ ہے۔ نو آموز صارف پرامپٹ ایسے لکھتے ہیں جیسے وہ کسی عام چیٹ بوٹ سے بات کر رہے ہوں، جبکہ ماہر صارف پرامپٹ ایسے لکھتا ہے جیسے وہ کسی تجربہ کار ملازم کو بریف دے رہا ہو۔ جتنا واضح، مخصوص اور سیاق و سباق سے بھرپور پرامپٹ ہوگا، نتیجہ اتنا ہی بہتر نکلے گا۔ یہی فرق عام صارف اور ماہر صارف کے درمیان لکیر کھینچتا ہے۔
آخر میں اصل فائدہ تب حاصل ہوتا ہے جب بنائے گئے ٹولز کو پبلش کر کے ٹیم یا کلائنٹس کے ساتھ شیئر کیا جائے۔ اوپل کی خاص بات یہ ہے کہ استعمال کرنے والے کو خود اوپل اکاؤنٹ کی بھی ضرورت نہیں ہوتی۔ ایک لنک کافی ہوتا ہے، جہاں صارف اپنا ڈیٹا ڈالتا ہے اور نتیجہ حاصل کر لیتا ہے۔ یہی وہ طریقہ ہے جس سے ایک بار بنایا گیا سسٹم بار بار استعمال ہوتا ہے، وقت بچاتا ہے اور بزنس کو اسکیل کرنے میں مدد دیتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ زیادہ تر لوگ ایسے مواد کو دیکھ کر متاثر تو ہوتے ہیں مگر عمل نہیں کرتے۔ جو لوگ واقعی فائدہ اٹھاتے ہیں وہ فوراً جا کر ایک سادہ مگر حقیقی ورک فلو بناتے ہیں اور پھر اسے آہستہ آہستہ بہتر کرتے ہیں۔ گوگل اوپل کوئی جادو نہیں، مگر اگر اسے درست طریقے سے استعمال کیا جائے تو یہ روزمرہ کے کاموں کو خاموشی سے خودکار بنا کر انسان کو اصل کام پر توجہ دینے کا موقع دیتا ہے۔ یہی وہ فرق ہے جو ٹول استعمال کرنے اور ٹول سے فائدہ اٹھانے کے درمیان ہوتا ہے۔
یہ تحریر اے آئی کی دنیا کے فیس بک پیج پر پوسٹ کی گئی ہے
#AiKiDuniya, #GoogleOpal, #NoCode, #AIAutomation, #Productivity, #FutureOfWork, #AISkills