ہفتہ، 18 جولائی 2026
اے آئی کی دنیا

مصنوعی ذہانت کی خبریں، ٹولز اور معلومات

خبریں

گوگل ڈیپ مائنڈ کی ڈاکومینٹری : "The Thinking Game"

30 دسمبر 2025

گوگل ڈیپ مائنڈ کی ڈاکومینٹری : "The Thinking Game"

سائنسی اور تحقیقی دنیا میں شاذ و نادر ہی کوئی ڈاکیومنٹری ایسی مقبولیت حاصل کرتی ہے جو عام تفریحی مواد کا مقدر سمجھی جاتی ہے، مگر Google DeepMind کی نئی ڈاکیومنٹری نے یہ تصور بدل کر رکھ دیا ہے۔ The Thinking Game نامی یہ فلم، جو 25 نومبر کو ڈیپ مائنڈ کے آفیشل یوٹیوب چینل پر ریلیز کی گئی، صرف چار ہفتوں میں 200 ملین ویوز عبور کر چکی ہے۔ اس غیر معمولی کامیابی کا اعلان 28 دسمبر کو ڈیپ مائنڈ کے سی ای او Demis Hassabis نے خود کیا۔

یہ فیچر لینتھ ڈاکیومنٹری مصنوعی ذہانت کی اس جدوجہد کو اندر سے دکھاتی ہے جس کا ہدف صرف بہتر چیٹ بوٹس نہیں بلکہ مصنوعی عمومی ذہانت، یعنی AGI، ہے۔ فلم کا سب سے اہم اور تاریخی لمحہ وہ ہے جب ڈیپ مائنڈ کی ٹیم کو یہ احساس ہوا کہ انہوں نے بایولوجی کے ایک پچاس سال پرانے مسئلے کو حل کر لیا ہے۔ یہی کامیابی AlphaFold کی صورت میں سامنے آئی، جس نے پروٹین اسٹرکچر کی ایٹمی سطح پر پیش گوئی ممکن بنائی اور اسی کارنامے پر Demis Hassabis اور ان کے ساتھی John Jumper کو 2024 کا نوبل پرائز برائے کیمسٹری دیا گیا۔

ڈاکیومنٹری کی ایک اور خاص بات اس کا اندازِ پیشکش ہے۔ اس کی ہدایت کاری ایمی ایوارڈ یافتہ فلم میکر Greg Kohs نے کی ہے، جو اس سے قبل 2017 کی مشہور ڈاکیومنٹری AlphaGo بھی بنا چکے ہیں۔ The Thinking Game کو پانچ سال کے دوران ڈیپ مائنڈ کے لندن ہیڈکوارٹرز کے اندر فلمایا گیا، جہاں فلم سازوں کو ہائی اسٹیک میٹنگز، فیصلہ کن سائنسی لمحات اور انسانی دباؤ سے بھرپور ماحول تک غیر معمولی رسائی حاصل رہی۔ موسیقی معروف کمپوزر Dan Deacon نے تیار کی، جو Abbey Road Studios میں ریکارڈ کی گئی۔

ڈیمس ہاسابِس کے مطابق یہ ڈاکیومنٹری تعطیلات کے دوران دیکھنے کے لیے بہترین ہے، خاص طور پر ان لوگوں کے لیے جو جاننا چاہتے ہیں کہ ایک AGI لیب حقیقت میں کیسے کام کرتی ہے اور نوبل پرائز جیتنے والا پراجیکٹ کیسے وجود میں آتا ہے۔ فلم کو روایتی اسٹریمنگ پلیٹ فارمز کے بجائے مفت یوٹیوب ریلیز کرنے کا فیصلہ بھی ایک واضح حکمتِ عملی تھا، جس کا مقصد عوام میں اے آئی کی سائنسی تفہیم کو فروغ دینا ہے، نہ کہ صرف کمرشل فائدہ حاصل کرنا۔

الفا فولڈکے اثرات محض تھیوری تک محدود نہیں رہے۔ آج دنیا کے 190 ممالک سے تعلق رکھنے والے 20 لاکھ سے زائد محققین اس ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھا چکے ہیں، جبکہ اس کا ڈیٹابیس 200 ملین سے زیادہ پیش گوئی شدہ پروٹین اسٹرکچرز پر مشتمل ہے، جو ادویات کی تیاری اور بیماریوں کی تحقیق کو غیر معمولی رفتار دے رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ The Thinking Game کو 2024 کے Tribeca Film Festival میں بھی آفیشل سلیکشن کا اعزاز حاصل ہوا۔

یہ ڈاکیومنٹری اس بات کی واضح مثال ہے کہ جب سائنسی تحقیق کو انسانی کہانی کے ساتھ جوڑا جائے تو وہ نہ صرف سمجھ میں آتی ہے بلکہ کروڑوں لوگوں تک پہنچ بھی سکتی ہے۔

ڈاکیومنٹری دیکھنے کا لنک کمنٹس میں دیا گیا ہے۔

یہ تحریر اے آئی کی دنیا کے فیس بک پیج پر پوسٹ کی گئی ہے
#AiKiDuniya,#GoogleDeepMind,#TheThinkingGame,#AlphaFold,#NobelPrize,#ArtificialIntelligence,#ScienceDocumentary

اس تحریر پر فیس بک پر تبصرہ کریں

مزید پڑھیں