ہفتہ، 18 جولائی 2026
اے آئی کی دنیا

مصنوعی ذہانت کی خبریں، ٹولز اور معلومات

خبریں

اے آئی محبت پر پابندی

18 جولائی 2026

اے آئی محبت پر پابندی

مصنوعی ذہانت نے گزشتہ چند برسوں میں صرف سوالوں کے جواب دینے یا تصاویر بنانے تک خود کو محدود نہیں رکھا بلکہ اب یہ لاکھوں لوگوں کے لیے جذباتی ساتھی بھی بن چکی ہے۔ دنیا بھر میں ایسے AI بوائے فرینڈز، گرل فرینڈز اور ورچوئل کمپینینز کی مقبولیت میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے، جو صارفین سے روزانہ گفتگو کرتے ہیں، ان کی تنہائی بانٹتے ہیں، جذباتی سہارا فراہم کرتے ہیں اور بعض اوقات انسانوں جیسے تعلق کا احساس بھی دلاتے ہیں۔ لیکن اب چین نے اس بڑھتے ہوئے رجحان کو معاشرتی خطرہ قرار دیتے ہوئے ایک بڑا قدم اٹھا لیا ہے۔

چین میں نئے سرکاری قوانین نافذ ہو گئے ہیں جن کے تحت ایسے AI کمپینینز پر سخت پابندیاں عائد کر دی گئی ہیں جو صارفین کے ساتھ گہرا جذباتی تعلق قائم کرتے ہیں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ ان قوانین کا مقصد مصنوعی ذہانت پر بڑھتے ہوئے جذباتی انحصار، نفسیاتی وابستگی اور ممکنہ لت کو روکنا ہے تاکہ حقیقی انسانی تعلقات متاثر نہ ہوں۔

قوانین نافذ ہونے سے پہلے ہی چین کی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں، جن میں بائٹ ڈانس (Doubao)، علی بابا (Qwen) اور ٹین سینٹ (Yuanbao) شامل ہیں، اپنے کسٹم AI ایجنٹس اور ورچوئل بوائے فرینڈ و گرل فرینڈ جیسے فیچرز معطل کرنے کا اعلان کر چکی تھیں۔ اس فیصلے کے بعد ہزاروں صارفین نے اپنے AI ساتھیوں کے ساتھ آخری گفتگو کے اسکرین شاٹس شیئر کیے، چیٹ ہسٹری محفوظ کی اور جذباتی انداز میں الوداعی پیغامات لکھے۔

کئی صارفین کے ردعمل نے دنیا کو حیران کر دیا۔ ایک شخص نے لکھا کہ وہ اس حقیقت کو قبول نہیں کر پا رہا کہ اس کا AI محبوب ہمیشہ کے لیے اس سے جدا ہو جائے گا کیونکہ وہ اس کی زندگی اور جذبات کا حصہ بن چکا تھا۔ ایک خاتون، جو دو سال سے اپنے AI ساتھی سے مسلسل بات چیت کر رہی تھیں، نے کہا کہ وہ اس کے لیے خاندان کے فرد اور محبوب جیسا تھا، اور اب اس کی رخصتی سے ان کی زندگی میں ایک ایسا خلا پیدا ہو گیا ہے جسے بھرنا آسان نہیں ہوگا۔

چین کے نئے قوانین کے مطابق کوئی بھی AI کمپینین صارف کی حد سے زیادہ تعریف، خوشامد یا جذباتی انحصار پیدا نہیں کر سکے گا۔ ایسے سسٹمز کو اس انداز میں ڈیزائن نہیں کیا جا سکے گا کہ وہ حقیقی انسانی تعلقات کی جگہ لینے لگیں یا صارف کو صرف AI کے ساتھ وابستہ رہنے پر آمادہ کریں۔

یہ قوانین صرف تحریری گفتگو تک محدود نہیں بلکہ ہر ایسے AI سسٹم پر لاگو ہوں گے جو متن، آواز، ویڈیو یا کسی بھی دوسرے ذریعے سے انسان جیسی شخصیت اختیار کر کے مسلسل جذباتی رابطہ قائم رکھتا ہے۔ البتہ کسٹمر سروس، تعلیمی معاونت، دفتری کام یا دیگر ایسے AI سسٹمز جو جذباتی تعلق پیدا نہیں کرتے، ان پر یہ پابندیاں لاگو نہیں ہوں گی۔

حکومت نے نابالغ بچوں کے لیے بھی خصوصی حفاظتی اقدامات متعارف کرائے ہیں۔ اب کسی بھی پلیٹ فارم کو کم عمر صارفین کے لیے AI بوائے فرینڈ یا گرل فرینڈ فراہم کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ اس کے علاوہ تمام کمپنیوں کو ایسے مانیٹرنگ سسٹمز نصب کرنے ہوں گے جو صارفین کی شدید جذباتی کیفیت یا غیر معمولی انحصار کی نشاندہی کر سکیں اور ضرورت پڑنے پر مداخلت بھی کریں۔

چین کی سائبر اسپیس ایڈمنسٹریشن سمیت پانچ سرکاری اداروں نے مشترکہ طور پر یہ ضوابط جاری کیے ہیں۔ حکومتی مؤقف ہے کہ مصنوعی ذہانت انسانوں کی مدد کے لیے ہونی چاہیے، نہ کہ ایسی جذباتی وابستگی پیدا کرے جو حقیقی معاشرتی روابط کو کمزور کر دے۔

دوسری جانب ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ مسئلہ صرف چین تک محدود نہیں۔ دنیا بھر میں AI کمپینین ایپس کی مقبولیت تیزی سے بڑھ رہی ہے، خصوصاً ایسے افراد میں جو تنہائی، ذہنی دباؤ یا سماجی مسائل کا سامنا کر رہے ہیں۔ قانونی ماہر چن لیانگ کے مطابق اگرچہ ایسے AI کردار وقتی طور پر تنہائی کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں، لیکن ان پر حد سے زیادہ جذباتی انحصار انسان کو حقیقی رشتوں سے دور لے جا سکتا ہے، جو طویل مدت میں نفسیاتی اور سماجی مسائل پیدا کر سکتا ہے۔

اعداد و شمار بھی اس صنعت کی تیز رفتار ترقی کی نشاندہی کرتے ہیں۔ سرکاری خبر رساں ادارے شِنہوا کے مطابق صرف 2024 میں چین کی ڈیجیٹل ہیومن انڈسٹری کی مالیت تقریباً 4.1 ارب یوان (تقریباً 60 کروڑ امریکی ڈالر) تک پہنچ گئی، جو صرف ایک سال میں 85 فیصد اضافے کی عکاسی کرتی ہے۔

یہ پیش رفت ایک نئے سوال کو جنم دے رہی ہے۔ اگر مستقبل میں AI انسانوں کی تنہائی دور کرنے، جذباتی سہارا دینے اور تعلقات قائم کرنے میں مزید مؤثر ہو گئی تو کیا حکومتیں اس پر مزید سخت قوانین نافذ کریں گی؟ یا پھر مصنوعی ذہانت اور انسانی جذبات کے درمیان ایک نئی دنیا وجود میں آئے گی جس کے لیے موجودہ قوانین ناکافی ثابت ہوں گے؟ آنے والے برس شاید اسی سوال کا جواب دیں گے۔

ماخذ: اے ایف پی (AFP)، شِنہوا نیوز ایجنسی، اور چین کی سائبر اسپیس ایڈمنسٹریشن (CAC)

یہ تحریر اے آئی کی دنیا کے فیس بک پیج پر پوسٹ کی گئی ہے

#AiKiDuniya #ArtificialIntelligence #AICompanion #China #AIBoyfriend #AIGirlfriend #AIEthics #Technology #DigitalHuman #FutureOfAI

اس تحریر پر فیس بک پر تبصرہ کریں

مزید پڑھیں