ہفتہ، 18 جولائی 2026
اے آئی کی دنیا

مصنوعی ذہانت کی خبریں، ٹولز اور معلومات

خبریں

کیا آپ کی نوکری ان تین میں شامل ہے؟

12 دسمبر 2025

کیا آپ کی نوکری ان تین میں شامل ہے؟

مصنوعی ذہانت کے تیز رفتار پھیلاؤ نے اب واضح کر دیا ہے کہ مستقبل میں کس قسم کی نوکریاں سب سے پہلے بدلنے والی ہیں۔ اوپن اے آئی کے بزنس پراڈکٹس کے ہیڈ اولیویے گودمانٹ نے ایک تازہ پوڈکاسٹ گفتگو میں تین ایسے سیکٹرز کی نشاندہی کی ہے جن پر سب سے تیز رفتار آٹومیشن کا اثر پڑے گا۔ ان کے مطابق لائف سائنسز، سافٹ ویئر انجینئرنگ، اور کسٹمر سروس وہ شعبے ہیں جہاں AI انسانی محنت کے بڑے حصے کو سنبھالنے کے قریب ہے۔ یہ پیش گوئی کسی مبالغے پر مبنی نہیں بلکہ ان حقیقی تبدیلیوں کا عکس ہے جو بڑے اداروں میں پہلے ہی شروع ہو چکی ہیں۔

لائف سائنسز میں سب سے بڑی تبدیلی دوا سازی کے عمل میں آ سکتی ہے۔ آج نئی ادویات کی ڈویلپمنٹ میں مہینوں سے لے کر برسوں تک کا وقت لگتا ہے لیکن AI ماڈلز کی طاقت یہ ہے کہ وہ انتہائی پیچیدہ، بکھرے ہوئے، اور مختلف ذرائع سے جمع ہونے والے ڈیٹا کو ایک جگہ جوڑ کر اس سے فوری نتائج اخذ کر سکتے ہیں۔ اولیویے نے اپنی مثال Amgen جیسے بڑے فارماسیوٹیکل اداروں کے ساتھ کام کرتے ہوئے دی، جہاں AI کی مدد سے ریسرچ اور ڈاکومنٹ اپ ڈیٹس کے وہ مراحل منٹوں میں پورے ہو جاتے ہیں جو پہلے انسانی ٹیموں کو طویل وقت درکار ہوتا تھا۔ اس کا براہ راست مطلب یہ ہے کہ نئی دواؤں کو مارکیٹ تک پہنچنے میں درکار وقت ڈرامائی طور پر کم ہو سکتا ہے۔

سافٹ ویئر انجینئرنگ بھی اسی تیز لہر کے سامنے کھڑی ہے۔ AI کوڈ لکھ سکتا ہے، غلطیاں پکڑ سکتا ہے، بڑے کوڈ بیس سمجھ سکتا ہے، اور فیچر ڈویلپمنٹ کے وہ مراحل مکمل کر سکتا ہے جن کے لیے پہلے انجینئرز کی ٹیمیں درکار ہوتی تھیں۔ GPT 5 سیریز جیسے ماڈلز اب پروڈکشن لیول کے پیچیدہ کوڈنگ ٹاسکس بھی تیزی سے حل کر لیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر کی ٹیک کمپنیوں میں انجینئرنگ ورک فلو پہلے ہی AI کی بنیاد پر دوبارہ ترتیب دیا جا رہا ہے۔

کسٹمر سروس کا معاملہ اور بھی واضح ہے۔ کال سینٹرز، لائیو چیٹ، اور رٹائی جانے والی درخواستوں کے جواب AI انتہائی درستگی سے دے سکتا ہے۔ یہی وہ خطرہ ہے جس پر جیوفری ہنٹن جیسے AI پائنیر پہلے ہی خبردار کر چکے ہیں۔ ہنٹن کے مطابق “mundane intellectual labor” یعنی ایسا ذہنی کام جو بار بار دہرایا جاتا ہے، سب سے پہلے AI کے سپرد ہو جائے گا۔ اسی لیے انہوں نے paralegals اور call center ملازمین کو خاص طور پر کمزور پیشہ ور گروپس میں شمار کیا ہے۔

خلاصہ یہ ہے کہ آٹومیشن اب صرف فیکٹری مشینوں کا مسئلہ نہیں رہا۔ AI نے وہ کام بھی خود کار بنا دیے ہیں جن کے بارے میں چند سال پہلے سوچا بھی نہیں جاتا تھا۔ اب سوال یہ نہیں کہ AI نوکریاں بدلے گا یا نہیں بلکہ یہ ہے کہ ہم اپنے اسکل سیٹس کو کتنی تیزی سے نئے دور کے مطابق ڈھال سکتے ہیں۔ مستقبل انہی کا ہے جو وقت پر اپ گریڈ ہونے کا فیصلہ کر لیں گے۔
یہ تحریر اے آئی کی دنیا کے فیس بک پیج پر شیئر کی گئی ہے۔

اس تحریر پر فیس بک پر تبصرہ کریں

مزید پڑھیں