مصنوعی ذہانت سے تیار ہونے والے مواد کی شناخت ایک نئے مرحلے میں داخل ہو رہی ہے۔ اب ضروری نہیں کہ کسی AI سے لکھی گئی تحریر پر واضح طور پر یہ لکھا ہو کہ اسے مصنوعی ذہانت نے تیار کیا ہے۔ Anthropic کی جانب سے Claude کے لیے متعارف کرائے جانے والے نئے نظام میں معاون ماڈلز کی تیار کردہ تحریر کے اندر ایسا ڈیجیٹل واٹرمارک شامل کیا جائے گا جو عام قاری کو دکھائی نہیں دے گا، لیکن اسے مشینی نظاموں کے ذریعے شناخت کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔
یہ طریقہ روایتی واٹرمارک سے کافی مختلف ہے۔ تصویر پر لگائے جانے والے لوگو یا کسی دستاویز پر نظر آنے والے نشان کے برعکس Claude کا یہ واٹرمارک خود متن کے اندر شامل ہوگا۔ Anthropic کے مطابق اس سے تحریر کے معنی، معیار یا پڑھنے میں آسانی متاثر نہیں ہوگی۔ قاری کو وہی عام متن دکھائی دے گا، لیکن اس کے اندر ایک ایسا نشان موجود ہو سکتا ہے جو اس مواد کی AI سے وابستگی کی شناخت میں مدد دے۔
اس نظام کی ایک اہم خصوصیت یہ ہے کہ واٹرمارک صرف اصل Claude گفتگو تک محدود رہنے کے لیے نہیں بنایا گیا۔ چونکہ نشان متن میں شامل کیا جاتا ہے، اس لیے تحریر کو نقل کرکے کسی دوسری دستاویز، ویب سائٹ یا سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر چسپاں کرنے کے بعد بھی یہ اس کے ساتھ رہ سکتا ہے۔ Anthropic کے مطابق بعض قسم کی ایڈیٹنگ کے باوجود بھی یہ نشان برقرار رہنے کی صلاحیت رکھ سکتا ہے۔
اس کا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ مستقبل میں صرف کسی تحریر کو Claude سے نقل کرکے دوسری جگہ پوسٹ کر دینا اس کے AI سے تعلق کے تمام تکنیکی آثار ختم کرنے کے لیے کافی نہ ہو۔ تاہم یہ سمجھنا بھی ضروری ہے کہ Anthropic نے اسے ایسا ناقابل شکست نظام قرار نہیں دیا جو ہر قسم کی تبدیلی کے باوجود لازماً برقرار رہے۔
کلاڈ کے مطابق 2 اگست 2026 سے جاری ہونے والے معاون ماڈلز میں marking کی یہ صلاحیت ابتدا ہی سے شامل کرنے کا منصوبہ ہے، جبکہ پہلے سے موجود ماڈلز کے لیے Anthropic اسے بتدریج شامل کرنے پر کام کر رہا ہے۔ اسی لیے محض یہ فرض کرنا درست نہیں ہوگا کہ Claude سے تیار ہونے والا ہر موجودہ متن لازماً ایک ہی قسم کا پوشیدہ واٹرمارک رکھتا ہے۔
تحریر کے مقابلے میں تصاویر اور دوسری معاون فائلوں کے لیے طریقہ مختلف رکھا گیا ہے۔ SVG، PNG اور JPG جیسی فائلوں کے ساتھ signed provenance metadata منسلک کیا جا سکتا ہے۔ یہ metadata صنعت میں استعمال ہونے والے C2PA معیار پر مبنی ہے اور اس کا مقصد فائل کے ماخذ اور اس پر ہونے والی processing کے بارے میں قابل تصدیق معلومات فراہم کرنا ہے۔
اس ڈیجیٹل ریکارڈ کے ذریعے یہ اشارہ مل سکتا ہے کہ متعلقہ فائل Claude کے ذریعے پراسیس ہوئی تھی، جبکہ فائل میں بعد میں ہونے والی بعض تبدیلیوں کا پتا لگانے میں بھی یہ نظام مدد دے سکتا ہے۔ لیکن یہاں ایک بنیادی فرق موجود ہے۔ متن والا واٹرمارک تحریر کے اندر شامل کیا جاتا ہے، جبکہ C2PA سے متعلق معلومات فائل کے metadata کے ساتھ وابستہ ہوتی ہیں۔
اسی وجہ سے کسی تصویر کا اسکرین شاٹ لینا، اسے کسی دوسرے فارمیٹ میں تبدیل کرنا یا ایسے طریقے سے دوبارہ محفوظ کرنا جس میں metadata برقرار نہ رہے، اس provenance information کو ختم کر سکتا ہے۔ تاہم فائل کے metadata اور متن کے اندر شامل کیے جانے والے واٹرمارک کو ایک ہی ٹیکنالوجی سمجھنا درست نہیں ہوگا۔
اس تبدیلی کا تعلق مصنوعی ذہانت کی صنعت میں بڑھتے ہوئے شفافیت کے تقاضوں سے بھی ہے۔ یورپی یونین کے AI Act کے Article 50 میں مصنوعی ذہانت سے تیار یا تبدیل کیے جانے والے مخصوص مواد کو machine-readable شکل میں قابل شناخت بنانے سے متعلق ذمہ داریاں شامل ہیں۔ ان تقاضوں کا مقصد یہ ہے کہ مستقبل میں AI سے تیار شدہ مواد اور انسانی تخلیق کے درمیان فرق جاننے کے لیے صرف ظاہری انداز یا اندازوں پر انحصار نہ کرنا پڑے۔
حوالہ: Claude Support
یہ تحریر اے آئی کی دنیا کے فیس بک پیج پر پوسٹ کی گئی ہے۔
#AiKiDuniya, #Claude, #Anthropic, #AIWatermark, #ArtificialIntelligence, #AIContent, #C2PA, #AITransparency, #GenerativeAI, #FutureOfAI