پیر، 10 اگست 2026
اے آئی کی دنیا

مصنوعی ذہانت کی خبریں، ٹولز اور معلومات

خبریں

مصنوعی ذہانت سے کنٹرول ہونے والی بایونک آنکھ، نابینا افراد کے لیے امید کی نئی کرن

10 اگست 2026

مصنوعی ذہانت سے کنٹرول ہونے والی بایونک آنکھ، نابینا افراد کے لیے امید کی نئی کرن

بینائی بحال کرنے کی کوشش میں سائنس کئی دہائیوں سے آنکھ کے ساتھ ساتھ دماغ کو بھی سمجھنے کی کوشش کر رہی ہے، کیونکہ بعض صورتوں میں مسئلہ صرف یہ نہیں ہوتا کہ آنکھ روشنی نہیں دیکھ سکتی، بلکہ اصل چیلنج یہ ہوتی ہے کہ بصری معلومات کو دماغ تک کس طرح پہنچایا جائے۔ اب ایک نئی تحقیق میں مصنوعی ذہانت کو اسی مسئلے کے حل کے لیے استعمال کیا گیا ہے، اور ابتدائی نتائج نے مستقبل کے بایونک وژن سسٹمز کے لیے ایک دلچسپ راستہ دکھایا ہے۔

یونیورسٹی آف کیلیفورنیا سانتا باربرا، ای ٹی ایچ زیورخ اور اسپین کی میگوئل ہرنانڈیز یونیورسٹی سے وابستہ محققین نے ایک ایسا ڈیپ لرننگ ماڈل تیار کیا ہے جو نابینا شخص کے دماغ کے بصری حصے کو برقی طور پر متحرک کرنے کے لیے زیادہ مؤثر پیٹرن تیار کر سکتا ہے۔

تحقیق کا بنیادی تصور سمجھنے کے لیے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ دماغ میں بصارت کیسے پیدا ہوتی ہے۔ ہماری آنکھیں روشنی اور مناظر سے معلومات حاصل کرتی ہیں، لیکن ہم جس تصویر کو حقیقتاً محسوس کرتے ہیں اس کی تشکیل دماغ کے بصری نظام میں ہوتی ہے۔ اسی وجہ سے اگر آنکھ یا دماغ تک بصری معلومات پہنچانے والا قدرتی راستہ متاثر ہو جائے تو ایک ممکنہ طریقہ یہ ہے کہ دماغ کے بصری حصے کو براہ راست برقی سگنلز کے ذریعے متحرک کیا جائے۔

یہی وہ مقام ہے جہاں بایونک وژن اور مصنوعی ذہانت ایک دوسرے سے ملتے ہیں۔

اس طرح کے نظام میں دماغ کے visual cortex کے قریب یا اس میں موجود الیکٹروڈز کے ذریعے مخصوص برقی تحریک دی جاتی ہے۔ اس تحریک سے بعض نابینا افراد روشنی کے چھوٹے نقطے یا مخصوص بصری احساسات محسوس کر سکتے ہیں، جنہیں سائنسی زبان میں phosphenes کہا جاتا ہے۔

لیکن اصل مسئلہ صرف دماغ کو بجلی دینا نہیں ہے۔

مختلف الیکٹروڈز کو کتنی شدت سے متحرک کیا جائے، کون سے الیکٹروڈ ایک ساتھ فعال کیے جائیں اور کس طرح ایسا پیٹرن بنایا جائے جو مطلوبہ بصری تجربے کے زیادہ قریب ہو، یہ ایک انتہائی پیچیدہ مسئلہ ہے۔ روایتی طریقوں سے ان پیٹرنز کو ترتیب دینا ممکن ہے، لیکن انسانی دماغ کی پیچیدگی کے باعث بہترین تحریک تلاش کرنا آسان نہیں۔

یہاں محققین نے مصنوعی ذہانت سے مدد لی۔

تحقیق میں ڈیپ لرننگ ماڈل کو ایسے برقی stimulation patterns تیار کرنے کے لیے استعمال کیا گیا جو دماغ میں مطلوبہ سرگرمی کو زیادہ درست انداز میں پیدا کر سکیں۔ تحقیق کے مطابق یہ طریقہ روایتی طریقوں کے مقابلے میں ہدف بنائی گئی دماغی سرگرمی کو زیادہ درست انداز میں دوبارہ پیدا کرنے میں کامیاب رہا۔

اس تجربے کا ایک اور اہم نتیجہ بجلی کی مقدار سے متعلق تھا۔

اے آئی کے تیار کردہ stimulation patterns نے نہ صرف مطلوبہ دماغی سرگرمی کو زیادہ درست انداز میں ہدف بنایا بلکہ اس کے لیے نسبتاً کم electrical current کی ضرورت بھی پڑی۔

یہ فرق مستقبل کے دماغی امپلانٹس کے لیے خاص اہمیت رکھ سکتا ہے، کیونکہ مقصد صرف زیادہ درست تحریک پیدا کرنا نہیں بلکہ اسے ممکنہ حد تک مؤثر اور کم توانائی کے ساتھ انجام دینا بھی ہے۔

یہ تحقیق ہمیں مصنوعی ذہانت کے ایک ایسے استعمال کی جھلک دکھاتی ہے جو تصاویر بنانے، تحریریں لکھنے یا سوالوں کے جواب دینے سے کہیں آگے ہے۔ مستقبل میں اے آئی کی بڑی کامیابیوں میں شاید وہ نظام بھی شامل ہوں جو انسانی دماغ اور مشین کے درمیان رابطے کو زیادہ درست بنانے میں مدد دیں۔

حوالہ: Neuron میں شائع ہونے والی تحقیق اور UC Santa Barbara سمیت متعلقہ تحقیقی اداروں کی فراہم کردہ معلومات۔

یہ تحریر اے آئی کی دنیا کے فیس بک پیج پر پوسٹ کی گئی ہے۔

#AiKiDuniya, #ArtificialIntelligence, #BionicEye, #DeepLearning, #MedicalAI, #BrainComputerInterface, #Neuroscience, #HealthcareAI, #VisionResearch, #FutureOfMedicine

اس تحریر پر فیس بک پر تبصرہ کریں

مزید پڑھیں