تبدیلی خاموشی سے شروع ہوئی تھی۔ سب سے پہلے یہ نظر آیا کہ نوجوانوں کے فون بدل رہے ہیں۔ جن اسکرینوں پر پہلے انسٹاگرام، ٹک ٹاک اور اسنیپ چیٹ کا قبضہ تھا، وہاں اب چیٹ جی پی ٹی، ٹیمو، کیپ کٹ اور نئے تعلیمی ٹولز آ گئے ہیں۔ ایسا لگا جیسے تفریح کی بجائے ضرورت نے جگہ لے لی ہو۔ اور پھر اعدادوشمار نے بھی وہ سب کچھ ثابت کر دیا جو نوجوان پہلے ہی محسوس کر رہے تھے۔
مارچ دو ہزار پچیس میں چیٹ جی پی ٹی دنیا کی سب سے زیادہ ڈاؤن لوڈ ہونے والی ایپ بن گئی۔ پہلی بار انسٹاگرام اور ٹک ٹاک دونوں پیچھے رہ گئے۔ اٹھارہ سے چوبیس سال کے نوجوانوں میں ٹیمو، ٹک ٹاک اور چیٹ جی پی ٹی سب سے آگے نکلے جبکہ انسٹاگرام اور اسنیپ چیٹ اپنی جگہ برقرار رکھنے کی کوشش میں دکھائی دیے۔ یہ وہ لمحہ تھا جب واضح ہو گیا کہ پرانی سوشل میڈیا ایپس کی اجارہ داری ختم ہو چکی ہے۔
نوجوانوں کے لیے چیٹ جی پی ٹی صرف سرچ کا ذریعہ نہیں رہا بلکہ ایک سچ مچ کا معاون بن گیا ہے۔ زیادہ تر نوجوان مشکل کام شروع کرنے، پڑھائی میں مدد لینے، نوکری ڈھونڈنے، مشورہ لینے اور روزمرہ فیصلے سمجھنے کے لیے اسے استعمال کرتے ہیں۔ بہت سے نوجوان اسے ایک ایسے ساتھی کی طرح دیکھتے ہیں جو ہمیشہ دستیاب ہو اور ہر موضوع پر بہتر جواب دے سکے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ ہفتے میں کئی گھنٹے بچاتے ہیں اور اپنی مہارتیں تیزی سے بہتر بناتے جار ہے ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ نوجوان اب صرف تفریح کے لیے ایپس نہیں ڈاؤن لوڈ کرتے۔ وہ ایسے ٹولز پسند کرتے ہیں جو حقیقت میں فائدہ دیں۔ جیسے مطالعے کے لیے گوٹھ، ویڈیو ایڈیٹنگ کے لیے کیپ کٹ یا معلومات تیزی سے حاصل کرنے کے لیے ٹک ٹاک۔ وہ ہر اس ایپ سے دور ہٹ رہے ہیں جو وقت ضائع کرے اور ہر اس ٹول کی طرف جا رہے ہیں جو کسی نہ کسی ضرورت کو پورا کرے۔ ان کے لیے موبائل اب کھیل کا میدان نہیں بلکہ ترقی کا آلہ بن چکا ہے۔
یہ تبدیلی اس وقت اور بھی معنی خیز ہو جاتی ہے جب دیکھا جائے کہ نوجوان مالی دباؤ، مہنگی تعلیم، مشکل نوکریوں اور تیز مقابلے کے دور میں جی رہے ہیں۔ ایسی صورت میں وہ ہر لمحہ بہتر استعمال کرنا چاہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یوزر بیس بدل رہا ہے، ترجیحات بدل رہی ہیں اور وہ ایپس جو کبھی لازمی سمجھی جاتی تھیں، اب صرف ایک آپشن بن گئی ہیں۔
یہ دور واضح کر رہا ہے کہ نئی نسل ٹیکنالوجی کو اپنے مطابق ڈھال رہی ہے۔ وہ ایپس جمع نہیں کرتے بلکہ اپنے مقصد کے مطابق ڈیجیٹل اوزار تیار کرتے ہیں۔ ان کا ہر انتخاب کارکردگی، رفتار اور فائدے کے اصول پر کھڑا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ چیٹ جی پی ٹی کو سرچ کے ایک نئے دور کی بنیاد سمجھتے ہیں اور خود کو اس نئے دور میں آگے رکھنے کے لیے ٹیکنالوجی کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چل رہے ہیں۔
تبدیلی صرف ایپس میں نہیں، سوچ میں بھی ہے۔ نوجوان اب ٹیکنالوجی کے صارف نہیں بلکہ اس کے شریک کار بن رہے ہیں۔ وہ ایک ایسے دور میں جا رہے ہیں جہاں انسان اور مصنوعی ذہانت ایک ساتھ سیکھیں گے، فیصلہ کریں گے اور مستقبل کی سمت طے کریں گے۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے ماہرین اس نسل کو ہومن اے آئی ہائبرڈ کہنے لگے ہیں، کیونکہ یہ نسل اپنی شناخت کو ٹیکنالوجی کے ساتھ جوڑ کر آگے بڑھ رہی ہے۔
سوال یہی ہے کہ دنیا اس تبدیلی کے ساتھ خود کو کتنی جلدی ڈھالتی ہے، کیونکہ نوجوانوں نے تو اپنا راستہ طے کر لیا ہے۔ وہ وقت نہیں گنواتے۔ وہ ٹیکنالوجی کو محض تفریح کے لیے نہیں لیتے بلکہ اپنی قابلیت بڑھانے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ پرانی ڈیجیٹل دنیا خاموشی سے ختم ہو رہی ہے اور ایک بالکل نئی دنیا جنم لے رہی ہے۔
یہ تحریر اے آئی کی دنیا فیس بک پیج پر پوسٹ کی گئی ہے۔