طب اور مصنوعی ذہانت کے ملاپ میں ایک تاریخی پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں پہلی بار مکمل طور پر مصنوعی ذہانت کے ذریعے ڈیزائن کیا گیا کورونا وائرس ویکسین امیدوار انسانی حفاظتی آزمائش میں کامیاب قرار دیا گیا ہے۔
کیمبرج یونیورسٹی سے وابستہ محققین کے مطابق اس ویکسین کا بنیادی اینٹیجن مکمل طور پر مصنوعی ذہانت کی مدد سے تیار کیا گیا، جس کا مقصد صرف موجودہ وائرس سے تحفظ فراہم کرنا نہیں بلکہ مستقبل میں سامنے آنے والے ممکنہ کورونا وائرسز کے خلاف بھی دفاعی صلاحیت پیدا کرنا ہے۔
ابتدائی انسانی آزمائش میں 39 رضاکاروں نے حصہ لیا۔ نتائج کے مطابق ویکسین محفوظ ثابت ہوئی اور اس نے جسم میں مضبوط مدافعتی ردعمل پیدا کیا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ ویکسین صرف کووڈ 19 کے وائرس تک محدود نہیں رہی بلکہ اس نے سارس اور ان چمگادڑوں میں پائے جانے والے کورونا وائرسز کے خلاف بھی مدافعتی ردعمل پیدا کیا جو مستقبل میں انسانوں میں منتقل ہونے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
روایتی ویکسینز عموماً کسی ایک مخصوص وائرس یا اس کے محدود تغیرات کو نشانہ بناتی ہیں، جبکہ اس منصوبے کا مقصد ایک ایسا “سپر اینٹیجن” تیار کرنا ہے جو وائرس خاندان کی وسیع اقسام کے خلاف تحفظ فراہم کر سکے۔
اس تحقیق میں ویکسین کو سوئی کے بجائے ایک خصوصی جیٹ انجیکشن ڈیوائس کے ذریعے جسم میں داخل کیا گیا، جس سے مستقبل میں ویکسینیشن کے طریقہ کار میں بھی تبدیلی آ سکتی ہے۔
اب اگلا مرحلہ فیز 2 آزمائش کا ہے جس میں 200 سے زائد افراد شامل ہوں گے۔ اس مرحلے میں یہ جانچا جائے گا کہ آیا یہ طریقہ وسیع پیمانے پر مؤثر اور دیرپا تحفظ فراہم کر سکتا ہے یا نہیں۔
محققین کا کہنا ہے کہ یہی مصنوعی ذہانت پر مبنی ڈیزائن ٹیکنالوجی مستقبل میں انفلوئنزا، ایبولا اور دیگر خطرناک وباؤں کے خلاف ویکسینز تیار کرنے میں بھی استعمال کی جا سکتی ہے۔
اگر یہ تجربات کامیاب رہے تو دنیا پہلی بار ایسے دور میں داخل ہو سکتی ہے جہاں نئی وباؤں کے خلاف ویکسینز تیار کرنے میں سالوں نہیں بلکہ چند ہفتے یا مہینے درکار ہوں گے، اور اس تبدیلی کے مرکز میں مصنوعی ذہانت ہوگی۔
یہ تحریر اے آئی کی دنیا کے فیس بک پیج پر پوسٹ کی گئی ہے
حوالہ: University of Cambridge، Journal of Infection، Perspective Media