سوشل میڈیا پر حالیہ مہینوں میں ایک نیا اور متنازع رجحان تیزی سے ابھرا ہے، جہاں انتقال کر جانے والی معروف شخصیات کی انتہائی حقیقت سے قریب اے آئی ویڈیوز وائرل ہو رہی ہیں۔ ان ویڈیوز میں مرحوم فنکاروں، رہنماؤں اور تاریخی شخصیات کو ایسے من گھڑت مناظر میں دکھایا جا رہا ہے جن سے نہ صرف عوام میں الجھن پیدا ہوئی بلکہ اہلِ خانہ اور ورثا کے لیے یہ مواد ذہنی اذیت اور تکلیف کا باعث بھی بن رہا ہے۔
یہ ویڈیوز بڑی حد تک جدید اے آئی ویڈیو جنریشن ٹولز کے ذریعے تیار کی جا رہی ہیں، جن میں OpenAI کی Sora ایپ بھی شامل ہے، جسے ستمبر میں لانچ کیا گیا تھا۔ ان تخلیقات میں معروف شخصیات کو تقاریر بدلتے، اشتہارات کرتے یا ایسے واقعات میں شامل دکھایا گیا جو حقیقت میں کبھی پیش نہیں آئے۔ ناقدین کے مطابق یہ محض تخلیقی اظہار نہیں بلکہ مرحوم افراد کی شناخت اور وقار کے ساتھ کھلواڑ ہے۔
اس ہفتے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز نے اس رجحان کے خلاف سخت اقدامات شروع کر دیے ہیں۔ YouTube نے دو بڑے چینلز، Screen Culture اور KH Studio، کو بند کر دیا جن کے مجموعی طور پر بیس لاکھ سے زائد سبسکرائبرز اور ایک ارب سے زیادہ ویوز تھے۔ یہ چینلز جعلی اے آئی مووی ٹریلرز شائع کر رہے تھے اور اگرچہ ابتدا میں انہوں نے انہیں “فین ٹریلرز” قرار دیا، بعد ازاں گمراہ کن عنوانات اور میٹا ڈیٹا استعمال کرنے پر پلیٹ فارم پالیسیز کی خلاف ورزی کے مرتکب پائے گئے۔
اسی تناظر میں Martin Luther King Jr. سے متعلق اے آئی ویڈیوز پر بھی شدید ردِعمل سامنے آیا۔ اکتوبر میں OpenAI نے ان کی اے آئی ویڈیوز بنانے پر پابندی عائد کر دی، جب ان کے اہلِ خانہ نے ان مواد کو “توہین آمیز” قرار دیا، خصوصاً ایسی ویڈیوز جن میں ان کی مشہور تقریر “I Have a Dream” کو مسخ کیا گیا تھا۔ اب کمپنی کا کہنا ہے کہ حال ہی میں وفات پانے والی شخصیات کے ورثا یا مجاز نمائندے ان کی ڈیجیٹل مشابہت ہٹانے کی درخواست دے سکتے ہیں۔
قانونی سطح پر بھی ردِعمل تیز ہو رہا ہے۔ نیویارک نے 11 دسمبر کو ایک اہم قانون منظور کیا ہے جس کے تحت کسی مرحوم فرد کے نام، آواز یا اے آئی سے تیار کردہ ڈیجیٹل شکل کو تجارتی مقاصد کے لیے استعمال کرنے سے پہلے وارثوں کی اجازت لازمی ہوگی۔ خلاف ورزی کی صورت میں کم از کم دو ہزار ڈالر ہرجانے کی شق بھی شامل کی گئی ہے۔ یہ قانون ان شخصیات پر لاگو ہوگا جو وفات کے وقت نیویارک میں مقیم تھیں۔
مرحوم شخصیات کے اہلِ خانہ کی جانب سے جذباتی ردِعمل بھی سامنے آیا ہے۔ اداکار Robin Williams کی بیٹی زیلڈا ولیمز نے سوشل میڈیا پر درخواست کی کہ لوگ ان کے والد کی اے آئی ویڈیوز بھیجنا بند کریں، جنہیں انہوں نے “ناقابلِ برداشت” اور “نفرت انگیز” قرار دیا۔ اسی طرح Malcolm X کی بیٹی الیاسہ شباز نے کہا کہ ان کے والد کی تصویر کو اس انداز میں استعمال کرنا “انتہائی بے حسی اور بے ادبی” ہے۔
فیکٹ چیکرز کے مطابق ایسی ویڈیوز میں Queen Elizabeth II کو سپر مارکیٹ میں مصنوعات کی تشہیر کرتے یا ریسلنگ ایونٹس میں پرفارم کرتے دکھایا گیا، جبکہ دیگر مواد میں Michael Jackson، Elvis Presley اور Stephen Hawking کو ایسے مناظر میں پیش کیا گیا جو حقیقت سے کوئی تعلق نہیں رکھتے۔
ماہرین اس رجحان کو محض تخلیقی مسئلہ نہیں بلکہ ایک سنگین اخلاقی اور سماجی چیلنج قرار دے رہے ہیں۔ ان کے مطابق جیسے جیسے اے آئی مواد حقیقت سے زیادہ قریب ہوتا جا رہا ہے، انسانوں کے لیے اصلی اور مصنوعی میں فرق کرنا مشکل ہوتا جائے گا۔ بعض ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ مرحوم عزیز کی ایسی ویڈیوز دیکھنا اہلِ خانہ کے لیے نفسیاتی صدمے کا باعث بن سکتا ہے، جبکہ غیر منظم اے آئی مواد سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر اعتماد کو بھی کمزور کر سکتا ہے۔
مجموعی طور پر یہ مسئلہ اس سوال کو مزید گہرا کر رہا ہے کہ ڈیجیٹل دور میں کسی فرد کی شناخت اور وقار کا مالک کون ہے، اور ٹیکنالوجی کو کہاں روکنا ضروری ہے۔ جیسے جیسے اے آئی ویڈیوز زیادہ طاقتور اور عام ہوتی جا رہی ہیں، ویسے ویسے قانون، پلیٹ فارمز اور معاشرے پر یہ ذمہ داری بڑھتی جا رہی ہے کہ وہ انسانی وقار اور یادداشت کے تحفظ کے لیے واضح حدود متعین کریں۔
یہ تحریر اے آئی کی دنیا کے فیس بک پیج پر پوسٹ کی گئی ہے