دنیا میں صحت اور ٹیکنالوجی کے درمیان فاصلہ تیزی سے کم ہو رہا ہے، اور اسی سلسلے میں OpenAI نے ایک نہایت اہم اور حساس قدم اٹھایا ہے۔ کمپنی نے ChatGPT Health متعارف کروایا ہے، جو چیٹ جی پی ٹی کے اندر ایک الگ اور مخصوص ہیلتھ ایکسپیرینس ہے۔ یہ فیچر عام گفتگو سے ہٹ کر اس مقصد کے لیے بنایا گیا ہے کہ صارف اپنی صحت، میڈیکل ریکارڈز اور ویلی نیس ڈیٹا کو ایک محفوظ ماحول میں سمجھ سکے، وہ بھی اے آئی کی مدد سے۔
چیٹ جی پی ٹی ہیلتھ کو عام چیٹ سے جان بوجھ کر الگ رکھا گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ صحت سے متعلق گفتگو، سوالات اور ڈیٹا نہ تو عام چیٹ ہسٹری میں شامل ہوتے ہیں اور نہ ہی ڈیفالٹ طور پر OpenAI کے فاؤنڈیشن ماڈلز کی ٹریننگ میں استعمال کیے جاتے ہیں۔ کمپنی کے مطابق یہ ایک الگ اسپیس ہے جس میں اضافی انکرپشن اور آئسولیشن لیئرز شامل کی گئی ہیں، تاکہ صارف کو یہ احساس ہو کہ اس کی ذاتی صحت کی معلومات عام اے آئی گفتگو کا حصہ نہیں بن رہیں۔
اس نئے فیچر کے ذریعے صارفین اپنے میڈیکل ریکارڈز کو b.well Connected Health کے ساتھ شراکت داری کے تحت جوڑ سکتے ہیں، جبکہ Apple Health، MyFitnessPal، Weight Watchers، Function اور دیگر wellness ایپس سے ڈیٹا بھی شامل کیا جا سکتا ہے۔ اس کا فائدہ یہ ہے کہ اب صحت کی معلومات بکھری ہوئی نہیں رہتیں بلکہ ایک ہی جگہ اکٹھی ہو کر زیادہ بامعنی انداز میں سمجھی جا سکتی ہیں۔ مثال کے طور پر، کوئی شخص اپنی خوراک، ورزش، نیند اور میڈیکل رپورٹس کو ایک ساتھ دیکھ کر بہتر سوالات پوچھ سکتا ہے اور زیادہ واضح رہنمائی حاصل کر سکتا ہے۔
اوپن اے آئی کے مطابق اس فیچر کی ضرورت اس لیے بھی شدت سے محسوس کی جا رہی تھی کیونکہ اس وقت دنیا بھر میں ہر ہفتے 23 کروڑ سے زیادہ افراد ChatGPT سے صحت اور wellness سے متعلق سوالات پوچھتے ہیں، جبکہ 4 کروڑ سے زائد لوگ روزانہ اسے کسی نہ کسی طبی یا صحتیاتی رہنمائی کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ChatGPT Health کوئی اچانک بنایا گیا تجربہ نہیں بلکہ دو سال سے زائد تحقیق اور آزمائش کا نتیجہ ہے۔ اس دوران 260 سے زیادہ ڈاکٹروں نے مختلف طبی شعبوں میں ماڈل کے جوابات پر 6 لاکھ سے زائد مرتبہ فیڈبیک دیا، تاکہ معلومات کو زیادہ متوازن، غیر خوفناک اور ذمہ دار بنایا جا سکے۔
پرائیویسی کے حوالے سے OpenAI نے واضح کیا ہے کہ ChatGPT Health HIPAA compliant نہیں ہے، کیونکہ یہ ایک کنزیومر ہیلتھ پراڈکٹ ہے اور HIPAA کا اطلاق عام صارفین کے لیے بنائے گئے ڈیجیٹل ٹولز پر نہیں ہوتا۔ تاہم کمپنی یہ بھی تسلیم کرتی ہے کہ اگر کسی قانونی یا ہنگامی صورتحال میں عدالت یا متعلقہ ادارہ ڈیٹا طلب کرے تو قانون کے مطابق رسائی دینا پڑ سکتی ہے۔ اس نکتے کو جاننا اس لیے ضروری ہے تاکہ صارفین غیر حقیقی توقعات قائم نہ کریں بلکہ باخبر فیصلہ کر سکیں۔
چیٹ جی پی ٹی ہیلتھ کے استعمال کے حوالے سے OpenAI بار بار یہ بات دہرا رہا ہے کہ یہ فیچر تشخیص یا علاج کے لیے نہیں بنایا گیا۔ یہ ڈاکٹر کا متبادل نہیں بلکہ ایک معلوماتی اور معاون ٹول ہے جو صارف کو بہتر سوال پوچھنے، اپنی صحت کو سمجھنے اور ضرورت پڑنے پر بروقت ہیلتھ کیئر پروفیشنل سے رجوع کرنے میں مدد دیتا ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ ماڈلز کو خاص طور پر اس انداز میں ٹرین کیا گیا ہے کہ وہ غیر ضروری خوف یا ہیلتھ اینگزائٹی کو بڑھانے کے بجائے متوازن اور محتاط زبان استعمال کریں۔
یہ لانچ ایسے وقت میں ہوئی ہے جب دنیا بھر میں اے آئی چیٹ بوٹس کے طبی مشوروں پر شدید تنقید بھی ہو رہی ہے۔ مختلف تحقیقات اور رپورٹس یہ دکھا چکی ہیں کہ غلط یا سیاق و سباق سے ہٹی ہوئی طبی معلومات کس قدر نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہیں۔ اسی پس منظر میں ChatGPT Health کو ایک زیادہ محدود، واضح اور ذمہ دار فریم ورک میں متعارف کروایا گیا ہے، تاکہ معلومات اور علاج کے درمیان لکیر واضح رہے۔
واضح رہے کہ۔ ChatGPT Health یہ دعویٰ نہیں کرتا کہ وہ ڈاکٹر ہے، مگر یہ اس حقیقت کو ضرور تسلیم کرتا ہے کہ آج کے دور میں لوگ صحت سے متعلق سوالات اے آئی سے پوچھ رہے ہیں۔ اس فیچر کے ذریعے OpenAI نے کوشش کی ہے کہ یہ سوالات ایک زیادہ محفوظ، منظم اور سنجیدہ ماحول میں پوچھے جائیں۔ یہ قدم نہ مکمل حل ہے اور نہ حتمی جواب، مگر یہ اس سمت میں ایک بڑا اشارہ ضرور ہے کہ مستقبل میں صحت اور اے آئی کا تعلق مزید گہرا، مگر ساتھ ہی زیادہ ذمہ دار ہونا چاہیے۔
یہ تحریر اے آئی کی دنیا کے فیس بک پیج پر پوسٹ کی گئی ہے
#AiKiDuniya, #ChatGPTHealth, #OpenAI, #AIHealthcare, #DigitalHealth, #MedicalAI, #FutureOfHealth