ریپلِٹ نے ایک نیا فیچر متعارف کرایا ہے جس کے ذریعے اب صارفین صرف سادہ زبان میں ہدایات دے کر ایپل کے موبائل ایپس بنا اور پبلش کر سکتے ہیں۔ اس فیچر کے تحت کوڈ لکھنے کی روایتی ضرورت کم ہو جاتی ہے، کیونکہ اے آئی خود ایپ کا اسٹرکچر تیار کرتا ہے۔ کمائی کے لیے اس میں Stripe کی براہِ راست انٹیگریشن بھی شامل کی گئی ہے، جس سے ایپس کو فوراً مونیٹائز کیا جا سکتا ہے۔
یہ پیش رفت Replit کو اُن ٹولز کی صف میں لا کھڑا کرتی ہے جو تیزی سے “وائب کوڈنگ” کے رجحان کو آگے بڑھا رہے ہیں۔ اس شعبے میں پہلے ہی Anysphere کے Cursor اور Anthropic کے Claude Code جیسے پلیٹ فارمز موجود ہیں، جن کی ویلیوایشن اور آمدن میں غیر معمولی اضافہ دیکھا جا چکا ہے۔ اس مقابلے سے ظاہر ہوتا ہے کہ اے آئی کے ذریعے ایپ ڈویلپمنٹ اب ایک سنجیدہ بزنس بن چکا ہے۔
تاہم اس تیزی کے ساتھ خدشات بھی سامنے آ رہے ہیں۔ ایک حالیہ سائبر سیکیورٹی تحقیق کے مطابق، وائب کوڈنگ ٹولز سے بنائی گئی ایپس میں اجازتوں اور بزنس لاجک سے متعلق کمزوریاں پائی گئی ہیں۔ تحقیق کرنے والی سیکیورٹی فرم Tenzai کے مطابق ایسے خودکار طریقوں سے بننے والی ایپس کو پبلش کرنے سے پہلے سیکیورٹی جانچ ناگزیر ہو چکی ہے۔
مجموعی طور پر، ریپلِٹ کا یہ نیا فیچر ایپ ڈویلپمنٹ کو مزید آسان اور تیز بنا دیتا ہے، لیکن یہ بھی واضح کرتا ہے کہ رفتار کے ساتھ ذمہ داری اور سیکیورٹی پر سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔ اے آئی اب ایپس بنانا سکھا رہا ہے، مگر ان ایپس کو محفوظ اور قابلِ اعتماد بنانا اب بھی انسانی نگرانی کا تقاضا کرتا ہے۔
یہ تحریر اے آئی کی دنیا کے فیس بک پیج پر پوسٹ کی گئی ہے
#AiKiDuniya, #Replit, #AICoding, #AppDevelopment, #Stripe, #ClaudeCode, #Cursor, #CyberSecurity