ہفتہ، 18 جولائی 2026
اے آئی کی دنیا

مصنوعی ذہانت کی خبریں، ٹولز اور معلومات

خبریں

اے آئی کی دنیا کی تازہ خبر

21 مئی 2025

اے آئی کی دنیا کی تازہ خبر

یہ دنیا کہانیوں سے بنی ہے، اور ہر کہانی کو سنانے کے لیے ایک زبان درکار ہوتی ہے۔ صدیوں سے یہ زبان تصویریں، الفاظ، موسیقی یا فلم رہی ہے۔ لیکن اب، گوگل نے ایک ایسی زبان متعارف کرائی ہے جو نہ صرف کہانی بیان کرتی ہے بلکہ اسے لمحہ بہ لمحہ زندہ کر دیتی ہے۔ ہم بات کر رہے ہیں گوگل کے تازہ ترین "ٹول" "فلو" کی، جو اس وقت تخلیقی دنیا کا سب سے پرجوش تجربہ بن چکا ہے۔

گوگل نے بیس مئی 2025 کو اپنی سالانہ I/O 2025 کانفرنس میں "فلو" (Flow) کے نام سے ایک انقلابی مصنوعی ذہانت پر مبنی ویڈیو تخلیق کا ٹول متعارف کرایا ہے۔ یہ نیا ٹول خاص طور پر تخلیق کاروں، فلم سازوں اور کہانی سنانے والوں کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے، جس کا مقصد تخلیقی عمل کو آسان اور مؤثر بنانا ہے۔ گوگل کا یہ اقدام فلم سازی اور ویڈیو پروڈکشن کے میدان میں ایک نئے دور کا آغاز ثابت ہو سکتا ہے۔

"فلو" کی سب سے نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ اسے گوگل کے سب سے جدید مصنوعی ذہانت ماڈلز Veo، Imagen اور Gemini کی مدد سے تیار کیا گیا ہے۔ Veo ماڈل ویڈیو کی تخلیق میں غیر معمولی صلاحیت رکھتا ہے جو حقیقی دنیا کے فزکس اور مناظر کو بہت واضح اور مؤثر انداز میں دکھاتا ہے۔ دوسری جانب Imagen ٹیکسٹ ٹو امیج ٹیکنالوجی کے ذریعے صارفین کو تصاویر کی تخلیق میں مدد دیتا ہے۔ Gemini ماڈل صارفین کے الفاظ اور ہدایات کو سمجھ کر انہیں بہترین ویڈیو میں بدلنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ تینوں ماڈلز مل کر صارفین کو ایک مکمل پلیٹ فارم فراہم کرتے ہیں۔

گوگل کے مطابق "فلو" کا مقصد فلم سازوں اور تخلیقی پروفیشنلز کو اپنی کہانیوں کو حقیقت میں بدلنے کے لیے لامحدود آزادی فراہم کرنا ہے۔ یہ ٹول خاص طور پر آسان انٹرفیس کے ساتھ ڈیزائن کیا گیا ہے تاکہ نئے صارفین بھی باآسانی اس کا استعمال کر سکیں۔ صارفین عام زبان میں اپنے آئیڈیاز اور تخیلات کو تحریری طور پر بیان کر کے مکمل سینیمیٹک کلپس اور مناظر تخلیق کر سکتے ہیں۔

"فلو" کا ایک منفرد پہلو یہ بھی ہے کہ صارفین اس میں اپنے کردار اور مناظر بنا کر انہیں دوبارہ دوسرے کلپس میں بھی مسلسل استعمال کر سکتے ہیں۔ اس سے فلم سازوں کو بار بار نئے کنٹینٹ کی تخلیق میں سہولت ملتی ہے اور وہ اپنے آئیڈیاز کو مسلسل بہتر بنا سکتے ہیں۔
"فلو" متعدد ایسے فیچرز کے ساتھ آتا ہے جو پروفیشنل فلم سازوں کے ساتھ ساتھ نئے تخلیق کاروں کے لیے بھی مفید ہیں۔ ان میں سے ایک "کیمرہ کنٹرولز" ہے، جس سے صارفین ویڈیو میں کیمرے کی حرکات، زاویے اور مناظر کو مکمل طور پر کنٹرول کر سکتے ہیں۔ اسی طرح "سین بلڈر" کی مدد سے فلم ساز اپنے پہلے سے بنے ہوئے مناظر میں ترمیم یا توسیع کر سکتے ہیں، جس سے کہانی کی روانی برقرار رہتی ہے۔

یہ ٹول بنیادی طور پر گوگل کے سابقہ VideoFX پروجیکٹ کا اگلا ارتقائی مرحلہ ہے۔ ابتدائی طور پر "فلو" امریکہ میں گوگل کے AI Pro اور AI Ultra سبسکرپشن پلانز کے تحت دستیاب ہے۔ AI Pro پلان میں صارفین کو ماہانہ 100 ویڈیو ز بنانے کے لیے رسائی ملتی ہے، جبکہ AI Ultra پلان میں زیادہ استعمال کے ساتھ ساتھ Veo 3 ماڈل کی ابتدائی رسائی بھی شامل ہے، جس میں براہِ راست آڈیو جنریشن بھی موجود ہے۔

گوگل نے فلم سازی کی دنیا میں اس جدید ٹیکنالوجی کے نفاذ کو بہتر بنانے کے لیے متعدد فلم سازوں کے ساتھ مل کر کام کیا ہے۔ اس تعاون کے نتیجے میں کئی منفرد اور متاثر کن مختصر فلمیں تخلیق کی گئیں۔ ان فلم سازوں میں ڈیو کلارک، ہنری ڈوبریز، اور جونی لاؤ جیسے نام شامل ہیں، جنہوں نے "فلو" کی مدد سے نہایت تخلیقی اور منفرد کنٹینٹ تیار کیا ہے۔ مثال کے طور پر ڈیو کلارک نے اپنی حالیہ مختصر فلم "فری لانسرز" میں گوگل کے AI ٹیکنالوجیز کو بہترین انداز میں استعمال کیا ہے۔ ہنری ڈوبریز نے "کٹسونے" اور "الیکٹرک پنک" جیسی متاثر کن فلمیں بنائی ہیں، جبکہ جونی لاؤ اپنی فلم "ڈیئر اسٹرینجر" میں ڈیجیٹل انسانی شناخت اور تخلیقی اظہار کی نئی جہتوں کو تلاش کر رہی ہیں۔

"یہ تحریر اے آئی کی دنیا کے فیس بک پیج پر پوسٹ کی گئی ہے۔"

اس تحریر پر فیس بک پر تبصرہ کریں

مزید پڑھیں