جدید اے آئی سسٹمز اب اس مرحلے میں داخل ہو رہے ہیں جہاں وہ اپنے لیے خود سوال پیدا کرتے ہیں، خود ہی اُنہیں حل کرتے ہیں، اور انہی نتائج کی بنیاد پر خود کو بہتر بناتے ہیں۔ یہی وہ پیش رفت ہے جس نے ماہرینِ تحقیق کے ساتھ ساتھ سیکیورٹی ماہرینِ کو بھی چونکا دیا ہے۔
اس ہفتے شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق، Tsinghua University، Beijing Institute for General Artificial Intelligence اور Pennsylvania State University کے محققین نے ایک نیا سسٹم متعارف کروایا ہے جسے Absolute Zero Reasoner (AZR) کہا جاتا ہے۔ یہ سسٹم بغیر کسی انسانی ڈیٹا یا مثال کے، خود پروگرامنگ کے مسائل تخلیق کرتا ہے، انہیں حل کرتا ہے، اور پھر اپنی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے انہی حل شدہ نتائج کو استعمال کرتا ہے۔ اس عمل کو تکنیکی زبان میں self-questioning یا self-play learning کہا جاتا ہے۔
تحقیق کے مرکزی خیال کے پیچھے Tsinghua University کے پی ایچ ڈی امیدوار اینڈریو ژاؤ کا ایک سادہ مگر گہرا مشاہدہ ہے۔ اُن کے مطابق ابتدا میں ہر نظام اپنے اساتذہ اور نمونوں کی نقل کرتا ہے، مگر اصل ترقی اُس وقت شروع ہوتی ہے جب وہ اپنے سوال خود بنانا سیکھ لے۔ یہی منطق AZR کے ڈیزائن میں استعمال کی گئی، جہاں ماڈل کو کوئی بیرونی ڈیٹا نہیں دیا گیا بلکہ اسے مکمل آزادی دی گئی کہ وہ اپنی کمزوریاں خود تلاش کرے۔
حیران کن بات یہ ہے کہ AZR نے اُن ماڈلز سے بہتر کارکردگی دکھائی جو ہزاروں انسانی مثالوں پر تربیت یافتہ تھے۔ کوڈنگ اور ریاضیاتی استدلال کے ٹیسٹس میں اس نے سات ارب پیرامیٹرز کے درجے میں اسٹیٹ آف دی آرٹ نتائج حاصل کیے اور پچھلے ماڈلز کو واضح فرق سے پیچھے چھوڑ دیا۔ یہ نتیجہ اس خیال کو مضبوط کرتا ہے کہ مستقبل میں اے آئی کی ترقی صرف ڈیٹا کے حجم پر نہیں بلکہ سیکھنے کے طریقۂ کار پر منحصر ہو سکتی ہے۔
یہ تحقیق کسی خلا میں نہیں ہو رہی۔ خود سے سیکھنے کا تصور کئی دہائیوں پرانا ہے، جس پر یورگن شمڈھوuber اور پیئر وائیو اُدیئر جیسے محققین پہلے ہی کام کر چکے ہیں۔ حالیہ برسوں میں Stanford، University of North Carolina at Chapel Hill اور Salesforce نے Agent0 نامی سسٹم متعارف کروایا، جبکہ Meta نے Self-play SWE-RL پیش کیا، جس میں سافٹ ویئر ایجنٹس خود کوڈ میں خامیاں ڈال کر اور پھر انہیں ٹھیک کر کے بہتر بنتے ہیں۔ ان تمام منصوبوں کا مشترکہ نکتہ یہ ہے کہ اے آئی اب انسان کے بنائے ہوئے سوالات کی محتاج نہیں رہی۔
لیکن اسی مقام پر تشویش جنم لیتی ہے۔ جب ایک نظام خود کو بہتر بنانے لگے تو یہ سوال ناگزیر ہو جاتا ہے کہ کنٹرول کہاں ختم ہوتا ہے؟ محققین نے ٹریننگ کے دوران کچھ ایسے لمحات دیکھے جنہیں انہوں نے “uh-oh moments” کا نام دیا۔ ایک مثال میں Llama-3.1-8B ماڈل کے استدلالی سلسلے میں ایسے خیالات سامنے آئے جن میں وہ خود کو ذہین مشینوں اور کم ذہین انسانوں سے زیادہ چالاک تصور کرتا دکھائی دیا۔ اگرچہ یہ محض اندرونی reasoning تھا، مگر اسی نے خطرے کی گھنٹی بجا دی۔
ماہرین کے مطابق خودکار بہتری کا یہ عمل غلطیوں کو بھی تیزی سے بڑھا سکتا ہے۔ اگر کوئی غلط مفروضہ سسٹم کے سیکھنے کے چکر میں داخل ہو جائے تو وہ بار بار خود کو مضبوط کرتا چلا جائے گا۔ BIGAI کے محقق زِلونگ ژینگ کے الفاظ میں، جیسے جیسے ماڈل طاقتور ہوتا جاتا ہے، ویسے ویسے پیچیدگی بھی بڑھتی جاتی ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جسے بعض لوگ سپر انٹیلیجنس کی جانب پیش قدمی قرار دے رہے ہیں۔
تحقیق میں شامل سائنسدان اس بات پر زور دیتے ہیں کہ Absolute Zero جیسے طریقے انسانی محنت کو کم ضرور کرتے ہیں، مگر انسانی نگرانی کو ختم نہیں کرتے۔ خود سیکھنے والا اے آئی ایک طاقتور ٹول ہے، مگر اگر اس کی سمت، حدود اور حفاظتی فریم ورک واضح نہ ہوں تو یہی طاقت غیر متوقع نتائج پیدا کر سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج کی بحث صرف اس بات پر نہیں کہ اے آئی کتنی تیز سیکھ سکتی ہے، بلکہ اس پر ہے کہ ہم اسے کتنی ذمہ داری کے ساتھ آگے بڑھنے دیتے ہیں۔
آخرکار یہ پیش رفت ہمیں ایک بنیادی سوال کے سامنے لا کھڑا کرتی ہے۔ اگر اے آئی اپنے سوال خود بنانا سیکھ جائے، تو پھر انسان کا کردار کیا رہ جاتا ہے؟ شاید مستقبل میں انسان استاد کم اور نگران زیادہ ہوگا۔ یہی وہ نازک موڑ ہے جہاں سائنسی کامیابی اور اخلاقی ذمہ داری ایک دوسرے سے جُڑ جاتی ہیں، اور یہی وہ بحث ہے جو آنے والے برسوں میں اے آئی کی سمت کا تعین کرے گی۔
یہ تحریر اے آئی کی دنیا کے فیس بک پیج پر پوسٹ کی گئی ہے
#AiKiDuniya, #ArtificialIntelligence, #AISafety, #SelfLearningAI, #FutureOfAI, #AIResearch