اینتھروپک نے دعویٰ کیا ہے کہ تین چینی اے آئی کمپنیوں نے منظم انداز میں جعلی اکاؤنٹس استعمال کرتے ہوئے Claude ماڈل سے ریئزننگ اور کوڈنگ آؤٹ پٹس حاصل کرنے کی کوشش کی۔ کمپنی کے مطابق یہ مربوط “ڈسٹلیشن مہمات” تھیں جن کا مقصد ماڈل کے اندرونی استدلالی انداز کو نقل کرنا تھا۔
رپورٹس کے مطابق MiniMax نے 13 ملین سے زائد انٹریکشنز کیں، Moonshot AI نے 3.4 ملین سے زیادہ اور DeepSeek نے تقریباً 150 ہزار انٹریکشنز کے ذریعے ڈیٹا نکالنے کی کوشش کی۔ اگر یہ اعداد درست ہیں تو یہ محض اتفاقی استعمال نہیں بلکہ ایک منظم اور طویل مدتی حکمت عملی کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔
اسی دن Google نے بھی خبردار کیا کہ اس کے Gemini ماڈل پر ڈسٹلیشن حملوں کی کوششیں دیکھی گئی ہیں۔ اس سے قبل OpenAI بھی DeepSeek پر اسی نوعیت کے الزامات عائد کر چکا ہے۔ یہ صورتِ حال ظاہر کرتی ہے کہ عالمی سطح پر فرنٹیئر ماڈلز کے درمیان مسابقت اب صرف کارکردگی کی نہیں بلکہ علمی اخذ اور نقل کی جنگ بن چکی ہے۔
ڈسٹلیشن بذاتِ خود ایک جائز تکنیکی طریقہ ہے، جس میں بڑے ماڈل سے سیکھ کر چھوٹا ماڈل تربیت دیا جاتا ہے۔ مگر جب یہ عمل خفیہ طور پر، جعلی اکاؤنٹس یا قواعد کی خلاف ورزی کے ذریعے کیا جائے تو یہ دانشورانہ ملکیت اور ماڈل سیکیورٹی کے بڑے سوالات کھڑے کرتا ہے۔
اصل مسئلہ اب صرف ماڈل کی برتری نہیں بلکہ اس کے تحفظ کا ہے۔ اگر ماڈلز کے استدلالی پیٹرنز بڑے پیمانے پر نکالے جا سکتے ہیں تو کیا مستقبل میں اے آئی کمپنیوں کی اصل مسابقت “حفاظتی دیواریں” بنانے میں ہوگی؟ عالمی اے آئی دوڑ اب ٹیکنالوجی کے ساتھ ساتھ اعتماد اور نگرانی کی بھی جنگ بنتی جا رہی ہے۔
یہ تحریر اے آئی کی دنیا کے فیس بک پیج پر پوسٹ کی گئی ہے