مصنوعی ذہانت کے مستقبل کے بارے میں جو باتیں کبھی قیاس آرائی لگتی تھیں، وہ اب دنیا کی بڑی اے آئی کمپنیوں کے اندر حقیقت بنتی دکھائی دے رہی ہیں۔
اینٹھروپک کے چیف فنانشل آفیسر کرشنا راؤ نے پہلی بار ایک پوڈکاسٹ میں انکشاف کیا ہے کہ کمپنی کا اے آئی ماڈل “کلاڈ” اب کمپنی کے 90 فیصد سے زیادہ کوڈ خود لکھ رہا ہے۔ حیران کن بات یہ ہے کہ کلاڈ، کلاڈ کوڈ جیسے اپنے ہی ٹولز کی تیاری میں بھی نمایاں کردار ادا کر رہا ہے۔
یعنی ایک اے آئی سسٹم اب اپنی اگلی نسل کی تعمیر میں بھی حصہ لے رہا ہے۔
کرشنا راؤ کے مطابق اینٹھروپک کی ماہانہ مالیاتی رپورٹس بھی تقریباً مکمل حالت میں تیار ہو جاتی ہیں، اس سے پہلے کہ انسان ان کا جائزہ لیں۔ ان کے بقول مالیاتی جائزوں کا 90 سے 95 فیصد حصہ پہلے ہی اے آئی تیار کر چکی ہوتی ہے جبکہ مختلف منصوبوں پر “ایجنٹس کی پوری فوج” مسلسل کام کر رہی ہوتی ہے۔
یہ صرف خودکار رپورٹنگ نہیں بلکہ کارپوریٹ آپریشنز میں ایک بنیادی تبدیلی کی طرف اشارہ ہے۔
شاید سب سے حیران کن اعداد و شمار کمپنی کی آمدنی سے متعلق ہیں۔ اینٹھروپک کی سالانہ آمدنی تقریباً دو سال پہلے 250 ملین ڈالر کے قریب تھی۔ اب 2026 کی پہلی سہ ماہی کے اختتام تک یہ بڑھ کر 30 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکی ہے۔
اے آئی کمپنیوں میں ترقی اب روایتی سافٹ ویئر کاروبار جیسی نہیں رہی۔ بہت سے ماہرین اسے ایک نئی صنعتی تبدیلی قرار دے رہے ہیں، جہاں کمپنیاں نہ صرف اے آئی بنا رہی ہیں بلکہ اپنے اندرونی کام بھی اسی کے حوالے کر رہی ہیں۔
یہ تحریر اے آئی کی دنیا کے فیس بک پیج پر پوسٹ کی گئی ہے
#AiKiDuniya, #Anthropic, #ClaudeAI, #ArtificialIntelligence, #FutureOfWork, #AIAgents, #Automation