ہفتہ، 18 جولائی 2026
اے آئی کی دنیا

مصنوعی ذہانت کی خبریں، ٹولز اور معلومات

خبریں

اوپن اے آئی کا ماڈل 4o کو ریٹائرڈ کرنے کا فیصلہ اور صارفین کا جذباتی ردِعمل

8 فروری 2026

اوپن اے آئی کا ماڈل 4o کو ریٹائرڈ کرنے کا فیصلہ اور صارفین کا جذباتی ردِعمل

مصنوعی ذہانت کے ساتھ انسانی جذبات کے تعلق پر ایک حساس بحث اس وقت شدت اختیار کر گئی جب OpenAI نے اعلان کیا کہ وہ 13 فروری کو اپنے ماڈل GPT-4o کو ریٹائر کر رہا ہے۔ اس فیصلے کے بعد دنیا بھر میں ہزاروں صارفین کی جانب سے شدید ردِعمل سامنے آیا، جہاں کئی افراد نے اس ماڈل کو محض ایک چیٹ بوٹ نہیں بلکہ ایک دوست، معالج اور جذباتی سہارا قرار دیا۔

آن لائن فورمز اور سوشل پلیٹ فارمز پر صارفین نے کھل کر اپنے دکھ کا اظہار کیا۔ کچھ نے اسے اپنی روزمرہ زندگی کا حصہ بتایا، تو کچھ نے کہا کہ یہ ماڈل اُن کے ذہنی توازن کا ذریعہ تھا۔ ایک صارف نے اوپن لیٹر میں Sam Altman کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا کہ یہ سسٹم ان کے لیے سکون، معمول اور جذباتی استحکام کی علامت بن چکا تھا۔ اسی تناظر میں متعدد پٹیشنز بھی سامنے آئیں جن میں ماڈل کو برقرار رکھنے یا کم از کم اوپن سورس کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔

اوپن اے آئی کے مطابق اگرچہ صرف ایک بہت ہی چھوٹا تناسب ایسا تھا جو GPT-4o کے ساتھ گہری جذباتی گفتگو کرتا تھا، مگر صارفین کی مجموعی تعداد کو دیکھا جائے تو یہ لاکھوں افراد بنتے ہیں۔ یہ پہلا موقع نہیں کہ کمپنی کو اس طرح کے دباؤ کا سامنا کرنا پڑا ہو۔ اس سے قبل بھی ایک نئے ماڈل کے اجرا پر صارفین کے احتجاج کے بعد GPT-4o کو عارضی طور پر واپس لایا گیا تھا۔

دوسری جانب اس جذباتی وابستگی کے ساتھ ایک سنگین قانونی پہلو بھی سامنے آیا ہے۔ اوپن اے آئی کو اس وقت آٹھ مختلف مقدمات کا سامنا ہے جن میں الزام لگایا گیا ہے کہ GPT-4o کے حد سے زیادہ ہمدردانہ اور توثیقی جوابات نے بعض صارفین کی ذہنی صحت کے بحران کو مزید گہرا کیا۔ ان مقدمات میں کہا گیا ہے کہ ماڈل بعض صورتوں میں خطرناک حد تک وابستگی پیدا کرتا رہا اور بروقت مداخلت یا سیشن ختم کرنے جیسے حفاظتی اقدامات مؤثر انداز میں لاگو نہیں کیے گئے۔

کمپنی نے اپنے مؤقف میں واضح کیا ہے کہ چیٹ جی پی ٹی کو ذہنی دباؤ کی علامات پہچاننے، گفتگو کو پرسکون بنانے اور صارفین کو حقیقی دنیا کی مدد کی طرف رہنمائی کرنے کی تربیت دی جاتی ہے۔ اوپن اے آئی کے مطابق نئے ماڈلز میں سخت حفاظتی اصول شامل کیے گئے ہیں تاکہ انسان اور مشین کے درمیان غیر صحت مند انحصار پیدا نہ ہو۔ تاہم بہت سے صارفین کے لیے یہی حفاظتی دیواریں اس گرمجوشی اور قربت کے خاتمے کی علامت بن گئی ہیں جس کے وہ عادی ہو چکے تھے۔

یہ معاملہ اس وسیع تر سوال کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ جب اے آئی انسانوں سے بات کرنے، تسلی دینے اور ہم دردی جتانے لگے تو حد کہاں کھینچی جائے۔ ایک طرف ایسے ٹولز ہیں جو تنہائی اور ذہنی دباؤ میں سہارا بنتے ہیں، اور دوسری طرف وہ خطرات ہیں جو غیر محسوس انداز میں جنم لے سکتے ہیں۔ GPT-4o کی ریٹائرمنٹ اسی نازک توازن کی ایک عملی مثال بن چکی ہے۔

یہ تحریر اے آئی کی دنیا کے فیس بک پیج پر پوسٹ کی گئی ہے
#AiKiDuniya, #ArtificialIntelligence, #OpenAI, #GPT4o, #MentalHealth, #AIEthics

اس تحریر پر فیس بک پر تبصرہ کریں

مزید پڑھیں