مصنوعی ذہانت کی دنیا تیزی سے ایک نئے مرحلے میں داخل ہو رہی ہے، اور گوگل ڈیپ مائنڈ کے سربراہ ڈیمس ہسابس کے مطابق سن 2026 وہ سال ہو سکتا ہے جب AI کی تمام بڑی صلاحیتیں ایک جگہ یکجا ہو جائیں گی۔ ایک حالیہ انٹرویو میں انہوں نے واضح کیا کہ اگلے بارہ مہینوں میں سب سے بڑی پیش رفت اؤمنی ماڈلز کی شکل میں سامنے آئے گی، یعنی ایسے ماڈلز جو متن، تصویر، ویڈیو، آواز، تھری ڈی اور روبوٹکس سب کو ایک ہی نظام میں سمیٹ لیں گے۔
گوگل کا بنیادی ماڈل Gemini شروع سے ہی ملٹی موڈل رہا ہے، مگر اب یہ صلاحیت محض مواد سمجھنے تک محدود نہیں رہی بلکہ مواد پیدا کرنے اور اس پر خود نظرِ ثانی کرنے تک پہنچ چکی ہے۔ مثال کے طور پر گوگل کا نیا امیج ماڈل Nano Banana Pro تصاویر بناتے وقت خود جائزہ لیتا ہے، غلطیوں کو درست کرتا ہے اور بالآخر زیادہ درست اور بامعنی نتائج فراہم کرتا ہے۔ یہی خودکار سوچ آنے والے وقت میں ویڈیو اور تھری ڈی جیسے شعبوں میں بھی منتقل ہونے جا رہی ہے۔
روبوٹکس کے میدان میں بھی گوگل خاموشی سے بڑی پیش رفت کر چکا ہے۔ Gemini Robotics 1.5 ایسے فزیکل ایجنٹس کی بنیاد رکھ رہا ہے جو ماحول کو دیکھ سکتے ہیں، مرحلہ وار سوچ سکتے ہیں اور پیچیدہ کام خود انجام دے سکتے ہیں۔ چاہے وہ اشیاء کو الگ کرنا ہو، کپڑے ترتیب دینا ہوں یا مقامی قوانین کے مطابق کچرا چھانٹنا ہو، یہ نظام بغیر کسی مخصوص فائن ٹیوننگ کے مختلف روبوٹس پر کام کر سکتا ہے۔ یہ پیش رفت روبوٹکس کو محض پروگرام شدہ مشینوں سے نکال کر حقیقی معاون بنانے کی طرف ایک بڑا قدم ہے۔
اسی تسلسل میں Gemini Live جیسی ٹیکنالوجی سامنے آئی ہے، جہاں AI انسان کے ساتھ براہِ راست گفتگو کرتے ہوئے حقیقی دنیا کے مسائل حل کرنے میں رہنمائی کرتا ہے۔ ایک وائرل مثال میں Gemini Live نے ایک عام صارف کو گاڑی کا آئل چینج کرنے میں قدم بہ قدم مدد دی، جو اس بات کی علامت ہے کہ آئندہ برسوں میں AI نہ صرف معلومات دے گا بلکہ عملی کاموں میں بھی رہنمائی کرے گا۔
گوگل کی نظر صرف موجودہ دنیا تک محدود نہیں۔ World Models کے تصور کے تحت Genie 3 جیسے سسٹمز تیار کیے جا رہے ہیں، جو محض ویڈیوز نہیں بلکہ مکمل انٹرایکٹو دنیائیں تخلیق کرتے ہیں۔ یہ ورچوئل ماحول یادداشت رکھتے ہیں، صارف کی حرکات پر ردِعمل دیتے ہیں اور وقت کے ساتھ ہم آہنگ رہتے ہیں۔ ان کا استعمال گیمنگ، روبوٹ ٹریننگ، ڈیزاسٹر سمیولیشن اور سائنسی تحقیق تک پھیل سکتا ہے۔
اسی طرح ایجنٹ بیسڈ سسٹمز میں بھی گوگل نمایاں برتری حاصل کر رہا ہے۔ AI Co-Scientist جیسے ماڈلز سائنسی تحقیق میں نئے مفروضے پیش کرنے، تجربات کی منصوبہ بندی اور نتائج کی جانچ تک میں مدد دے رہے ہیں۔ Code Agents اور Data Science Agents خودکار طور پر کوڈ کی کمزوریاں تلاش کرتے، ڈیٹا اینالیسس مکمل کرتے اور تحقیق کے پورے عمل کو تیز کر دیتے ہیں۔
ڈیمس ہسابس کے مطابق یہ تمام ٹیکنالوجیز مل کر 2026 میں مصنوعی ذہانت کو ایک نئے درجے پر لے جائیں گی، جہاں AI محض ایک ٹول نہیں بلکہ ایک مکمل سوچنے، سمجھنے اور عمل کرنے والا نظام بن چکا ہوگا۔ گوگل کی وسعت، ڈیٹا، تحقیق اور ملٹی موڈل برتری کو دیکھتے ہوئے یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ آنے والے برسوں میں AI کی سمت متعین کرنے میں گوگل مرکزی کردار ادا کر سکتا ہے۔یہ تحریر اے آئی کی دنیا کے فیس بک پیج پر شیڑ کی گئی ہے۔