جمعہ، 17 جولائی 2026
اے آئی کی دنیا

مصنوعی ذہانت کی خبریں، ٹولز اور معلومات

خبریں

2025: مصنوعی ذہانت، نئے دولتمندوں کا سال

27 دسمبر 2025

2025:  مصنوعی ذہانت، نئے دولتمندوں کا سال

2025 مصنوعی ذہانت کی تاریخ میں ایک غیر معمولی سال کے طور پر یاد رکھا جائے گا، جہاں اے آئی صرف ایک ٹیکنالوجی نہیں بلکہ بے پناہ دولت اور طاقت کا ذریعہ بن کر سامنے آئی۔ حالیہ رپورٹس کے مطابق، اے آئی انفراسٹرکچر، ماڈلز اور ایپلی کیشنز بنانے والے 50 سے زائد افراد اسی ایک سال میں ارب پتی بن گئے۔ سرمایہ کاروں نے تقریباً 202 ارب ڈالر اے آئی اسٹارٹ اپس میں لگائے، جو عالمی وینچر کیپیٹل سرمایہ کاری کا تقریباً 50 فیصد بنتا ہے، جبکہ 2024 میں یہ شرح 34 فیصد تھی۔ یہ اعداد و شمار اس بات کی واضح علامت ہیں کہ سرمایہ کا رخ تیزی سے مصنوعی ذہانت کی طرف منتقل ہو چکا ہے۔

اس نئی اے آئی دولت کی فہرست میں سب سے نمایاں نام Edwin Chen کا ہے، جو ڈیٹا لیبلنگ کمپنی Surge AI کے بانی اور سی ای او ہیں۔ محض 37 سال کی عمر میں ایڈون چن کی دولت کا تخمینہ تقریباً 18 ارب ڈالر لگایا گیا ہے۔ حیران کن بات یہ ہے کہ Surge AI نے کسی بیرونی سرمایہ کاری کے بغیر 24 ارب ڈالر کی ویلیوایشن حاصل کی اور تقریباً 1.2 ارب ڈالر سالانہ آمدن پیدا کی۔ کمپنی میں 75 فیصد حصص کی ملکیت نے چن کو 2025 کے نئے اے آئی ارب پتیوں میں سرفہرست کر دیا۔

اسی سال اے آئی کی دنیا نے تاریخ کے سب سے کم عمر خود ساختہ ارب پتی بھی دیکھے۔ اے آئی پر مبنی ریکروٹمنٹ اسٹارٹ اپ Mercor کے تین شریک بانی—Brendan Foody، Adarsh Hiremath اور Surya Midha—محض 22 سال کی عمر میں ارب پتی بن گئے۔ Mercor نے 350 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری حاصل کی اور کمپنی کی ویلیوایشن 10 ارب ڈالر تک جا پہنچی، جس کے نتیجے میں ہر بانی کے حصص کی مالیت تقریباً 2.2 ارب ڈالر بنی۔

ماہرین کے مطابق یہ رجحان اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ اے آئی اب محض ایک سافٹ ویئر یا پروڈکٹ نہیں رہا، بلکہ ایک مکمل معاشی نظام بن چکا ہے۔ ڈیٹا لیبلنگ، ماڈل ٹریننگ، ریکروٹمنٹ، آٹومیشن اور انٹیلیجنٹ سسٹمز جیسے شعبے سرمایہ کاروں کے لیے سب سے زیادہ پرکشش بنتے جا رہے ہیں۔ تاہم ناقدین یہ سوال بھی اٹھا رہے ہیں کہ آیا یہ دولت کی رفتار ایک نئی ٹیک ببل کی علامت ہے یا واقعی ایک طویل مدتی تبدیلی کا آغاز۔

بہر حال، 2025 نے یہ بات واضح کر دی ہے کہ مصنوعی ذہانت اب صرف کوڈ اور الگورتھمز کا کھیل نہیں رہی، بلکہ یہ نئی دولت، نئی طاقت اور نئی سماجی حقیقت کو جنم دے رہی ہے۔ آنے والے برسوں میں یہ دیکھنا اہم ہو گا کہ آیا یہ غیر معمولی دولت سازی پائیدار ثابت ہوتی ہے یا ٹیکنالوجی کی دنیا ایک اور کڑے امتحان کی طرف بڑھ رہی ہے۔

یہ تحریر اے آئی کی دنیا کے فیس بک پیج پر پوسٹ کی گئی ہے۔

اس تحریر پر فیس بک پر تبصرہ کریں

مزید پڑھیں