جمعہ، 17 جولائی 2026
اے آئی کی دنیا

مصنوعی ذہانت کی خبریں، ٹولز اور معلومات

تجزیے

یہ سارا منظر ایک پرانے قصے کی نئی قسط جیسا لگتا ہے، بس اس بار کردار بدل گئے ہیں اور اسٹیج…

13 اگست 2025

یہ سارا منظر ایک پرانے قصے کی نئی قسط جیسا لگتا ہے، بس اس بار کردار بدل گئے ہیں اور اسٹیج…

یہ سارا منظر ایک پرانے قصے کی نئی قسط جیسا لگتا ہے، بس اس بار کردار بدل گئے ہیں اور اسٹیج ہالی وُڈ کا نہیں، مصنوعی ذہانت کی دنیا کا ہے۔ سیم الٹمن نے GPT-5 کی لانچ پر ایک میاں بیوی کو بلایا، جن میں بیوی ایک سے زیادہ اقسام کے کینسر سے لڑ رہی ہے۔ انہوں نے اس چیٹ بوٹ سے اپنی بیماری کے بارے میں سوالات کیے، کچھ طبی تفصیلات دیں اور علاج میں تابکاری لگوانے یا نہ لگوانے کا مشورہ طلب کیا۔ یہ سب گویا اس بات کا ثبوت تھا کہ یہ نیا ماڈل انسانی زندگی کے سب سے نازک فیصلوں میں بھی “راہنمائی” دے سکتا ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ اس سے پہلے جب بھی آپ کسی چیٹ بوٹ سے طبی مشورہ مانگتے، وہ فوراً کئی سطروں پر مشتمل خبردار کرنے والے پیغامات دیتا، کہ ڈاکٹر سے رجوع کیے بغیر کچھ نہ کریں۔ مگر اب لگتا ہے کہ یہ احتیاطی رکاوٹ ہٹا دی گئی ہے، جیسے کسی نے کھیل کے میدان میں خطرے کے بورڈز اتار کر یہ کہہ دیا ہو کہ “اب تم خود بڑے ہو، فیصلے خود کرو”۔ یہ آزادی جتنی پرکشش ہے، اتنی ہی خطرناک بھی ہے، کیونکہ ایک غلط جملہ یا ادھورا مشورہ زندگی کو موڑ سکتا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ اے آئی ماہرین کے مطابق GPT-5 اپنے پچھلے ورژن سے بہت مختلف نہیں۔ وہی منطق کی بے ربطیاں، وہی غلطیاں، صرف زبان میں نرمی اور مصنوعی جذبات کا ہلکا سا تڑکا۔ اگر کوئی یہ سمجھ رہا ہے کہ ہم Artificial General Intelligence کے دہانے پر پہنچ گئے ہیں تو یہ خوش فہمی ہے۔ اصل فرق صرف اتنا ہے کہ کچھ پابندیاں ڈھیلی کر دی گئی ہیں۔

ریلیز سے دو دن پہلے شائع ہونے والا ایک ریسرچ پیپر اس خطرے کو مزید واضح کرتا ہے۔ امریکہ میں ایک شخص نے ChatGPT کے مشورے پر نمک چھوڑ کر سوڈیم برومائیڈ لینا شروع کر دیا، نتیجہ یہ ہوا کہ وہ برومائزم کا شکار ہوا، اس کا نروس سسٹم متاثر ہوا اور نفسیاتی مسائل نے اسے جکڑ لیا۔ کسی وقت وہ یہ سوچنے لگا کہ اس کا پڑوسی اسے زہر دے رہا ہے۔ انجام؟ سیدھا ہسپتال۔

یہ سب ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ کسی بھی کمپنی کے پرکشش لانچ ایونٹ یا اشتہاری دعووں میں طب کے میدان میں مرعوب ہوکر قدم نہ بڑھائیں۔ سیم الٹمن چاہے یہ کہے کہ GPT-5 سے بات کرنا پی ایچ ڈی لیول کے ماہر سے بات کرنے جیسا ہے، حقیقت یہ ہے کہ ابھی بھی اس کے مشوروں پر اندھا اعتماد خطرناک ہو سکتا ہے۔ “سیکنڈ اوپینین” ابھی بھی لازمی ہے، اور شاید کچھ عرصہ اور رہے گی۔

ہاں، یہ ضرور ہے کہ OpenAI نے طب کے میدان میں ٹیسٹنگ کے لیے HealthBench جیسا اسٹینڈرڈ بنایا ہے، جہاں 260 ڈاکٹروں نے ہزاروں سوالات کے ذریعے کارکردگی جانچی، اور GPT-5 نے اس میں پہلے ماڈلز کے مقابلے میں بہتر نتائج دیے۔ لیکن بہتر کا مطلب بے خطا نہیں ہوتا۔ مشین کی عقل، چاہے کتنی بھی ترقی کر لے، انسان کی زندگی کے فیصلوں میں فی الحال آخری جج نہیں بن سکتی۔

اصل تحریر: از ثاقب علی
"یہ تحریر اے آئی کی دنیا کے فیس بک پیج پر پوسٹ کی گئی ہے۔"

اس تحریر پر فیس بک پر تبصرہ کریں

مزید پڑھیں