یوٹیوب کے سی ای او Neal Mohan کو 2025 کے لیے TIME نے “CEO of the Year” قرار دیا، مگر اس اعزاز کے ساتھ ان کی ایک بات نے سب سے زیادہ توجہ حاصل کی۔ نیل موہن نے بتایا کہ وہ اپنے تینوں بچوں کے لیے سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے استعمال پر سخت پابندیاں لگاتے ہیں، خاص طور پر ہفتے کے دنوں میں۔ ان کے مطابق اسکرین ٹائم کو کنٹرول میں رکھنا صرف بچوں کی ذہنی صحت ہی نہیں بلکہ ان کی توجہ، نیند اور سیکھنے کی صلاحیت کے لیے بھی ضروری ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ نیل موہن اس سوچ میں اکیلے نہیں۔ دنیا کے کئی بڑے ٹیک لیڈرز، جن میں مائیکروسافٹ کے بانی بل گیٹس اور امریکی بزنس مین مارک کیوبن شامل ہیں، کھلے عام اعتراف کر چکے ہیں کہ وہ اپنی اولاد کو وہی آزادی نہیں دیتے جو عام صارفین کو ٹیکنالوجی استعمال کرتے وقت حاصل ہوتی ہے۔ یہ رویہ اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ ٹیک انڈسٹری کے اندر بھی اس کے ممکنہ منفی اثرات کا ادراک موجود ہے۔
اسی پس منظر میں آسٹریلیا کا حالیہ فیصلہ خاص اہمیت رکھتا ہے، جہاں حکومت نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے یوٹیوب، انسٹاگرام اور ٹک ٹاک جیسے بڑے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر پابندی عائد کر دی ہے۔ عوامی سطح پر اس فیصلے کو غیر معمولی حمایت حاصل ہوئی، اور قوانین کی خلاف ورزی کی صورت میں کمپنیوں پر کروڑوں ڈالر جرمانے کی گنجائش رکھی گئی ہے۔ یہ دنیا کا پہلا ایسا قدم ہے جو سوشل میڈیا کو براہِ راست بچوں کی ذہنی صحت سے جوڑ کر قانون سازی کی مثال بن رہا ہے۔
تحقیقی رپورٹس بھی اس تشویش کو تقویت دیتی ہیں۔ مطالعات کے مطابق وہ نوجوان جو روزانہ تین گھنٹے یا اس سے زیادہ وقت سوشل میڈیا پر گزارتے ہیں، ان میں بے چینی، ڈپریشن اور نیند کی خرابی کے امکانات دوگنا ہو جاتے ہیں۔ امریکا کے سرجن جنرل ڈاکٹر ویوک مورتی اس رجحان کو نوعمر ذہنی صحت کے لیے ایک سنجیدہ خطرہ قرار دے چکے ہیں۔
نیل موہن کا بیان دراصل ایک بڑے تضاد کو نمایاں کرتا ہے۔ وہ پلیٹ فارمز جو دنیا بھر میں اربوں لوگوں کی توجہ حاصل کرنے کے لیے بنائے گئے ہیں، ان کے خالق اور منتظم خود اپنی اولاد کو انہی پلیٹ فارمز سے محدود رکھتے ہیں۔ یہ سوال اب صرف بچوں یا والدین کا نہیں رہا، بلکہ اس بات کا ہے کہ ڈیجیٹل دنیا میں توازن اور ذمہ داری کی حد کہاں ہونی چاہیے. یہ تحریر اے آئی کی دنیا کے فیس بک پیج پر شیئر کی گئی ہے۔