ہالی وُڈ میں مصنوعی ذہانت کے خلاف ایک نیا طوفان اٹھ کھڑا ہوا ہے۔ اطلاعات کے مطابق بائٹ ڈانس کے ویڈیو جنریشن ٹول سیڈینس 2.0 نے ایک انتہائی حقیقت کے قریب فائٹ سین تخلیق کیا، جس میں ٹام کروز اور بریڈ پٹ جیسے عالمی ستارے دکھائے گئے۔ حیران کن بات یہ ہے کہ یہ منظر محض ایک تحریری ہدایت سے تیار کیا گیا اور دیکھنے والوں کی بڑی تعداد اسے حقیقی فلمی شاٹ سمجھ بیٹھی۔
یہ ویڈیو چند گھنٹوں میں وائرل ہو گئی اور لاکھوں افراد کو دھوکا دینے میں کامیاب رہی۔ سینما معیار کی ویڈیو، حقیقت سے قریب چہرے، اور پیشہ ورانہ کیمرہ موومنٹ نے ثابت کیا کہ اے آئی اب فلمی پروڈکشن کی سطح تک پہنچ چکی ہے، وہ بھی بغیر کسی اسٹوڈیو، کیمرہ یا اداکار کے۔
اس واقعے کے بعد ڈزنی، پیراماؤنٹ، وارنر برادرز اور نیٹ فلکس نے فوری طور پر سیس اینڈ ڈِسسٹ نوٹس جاری کیے۔ اس قانونی دباؤ میں اداکاروں کی یونین ساگ افٹرا اور موشن پکچر ایسوسی ایشن بھی شامل ہو گئیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ کسی اداکار کی شبیہ یا شناخت کو بغیر اجازت استعمال کرنا نہ صرف اخلاقی مسئلہ ہے بلکہ قانونی خلاف ورزی بھی ہو سکتا ہے۔
یہ تنازع صرف ایک ویڈیو تک محدود نہیں بلکہ فلمی صنعت کے مستقبل سے جڑا سوال ہے۔ اگر ایک عام صارف صرف چند الفاظ لکھ کر بلاک بسٹر معیار کا سین تخلیق کر سکتا ہے تو روایتی فلمی ڈھانچے، معاہدوں اور دانشورانہ املاک کے قوانین کا کیا ہوگا؟
مصنوعی ذہانت کی رفتار نے تخلیقی صنعت کو ایک ایسے موڑ پر لا کھڑا کیا ہے جہاں ٹیکنالوجی اور حقوق کے درمیان تصادم ناگزیر دکھائی دیتا ہے۔ ایک طرف غیر معمولی تخلیقی آزادی ہے، دوسری طرف شناخت، معاوضے اور ملکیت کے سوالات۔
آنے والے مہینے طے کریں گے کہ آیا قانون ساز اور اسٹوڈیوز اس تیز رفتار ٹیکنالوجی کے ساتھ قدم ملا پائیں گے یا نہیں۔ مگر ایک بات واضح ہے کہ ویڈیو اے آئی اب محض تجربہ نہیں رہی، بلکہ فلمی صنعت کے لیے حقیقی چیلنج بن چکی ہے۔
یہ تحریر اے آئی کی دنیا کے فیس بک پیج پر پوسٹ کی گئی ہے
#AiKiDuniya, #Seedance2, #Deepfake, #Hollywood, #ArtificialIntelligence, #DigitalRights