جمعہ، 17 جولائی 2026
اے آئی کی دنیا

مصنوعی ذہانت کی خبریں، ٹولز اور معلومات

خبریں

گوگل ڈیپ مائنڈ کے سربراہ کی بڑی پیش گوئی : پانچ سے آٹھ سال میں اے جی آئی

19 فروری 2026

گوگل ڈیپ مائنڈ کے سربراہ کی بڑی پیش گوئی : پانچ سے آٹھ سال میں اے جی آئی

بھارت میں منعقدہ اے آئی امپیکٹ سمٹ 2026 میں ایک اہم اعلان نے عالمی ٹیکنالوجی حلقوں کو متوجہ کر لیا۔ گوگل ڈیپ مائنڈ کے سی ای او ڈیمس ہاسابِس نے پیش گوئی کی ہے کہ مصنوعی عمومی ذہانت یعنی ایسی اے آئی جو انسانی سطح کی ہمہ جہتی صلاحیت رکھتی ہو، اگلے پانچ سے آٹھ برسوں میں حقیقت بن سکتی ہے۔

اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ دنیا اس وقت ایک “تبدیلی کے دہانے” پر کھڑی ہے۔ موجودہ اے آئی سسٹمز اگرچہ پیچیدہ ریاضیاتی مسائل حل کر سکتے ہیں، مگر ان میں انسانی سوچ جیسی مستقل مزاجی اور توازن موجود نہیں۔ انہوں نے موجودہ ماڈلز کو “غیر ہموار” قرار دیا جو بعض کاموں میں غیر معمولی کارکردگی دکھاتے ہیں، مگر انہی جیسے دیگر کاموں میں اچانک کمزور ہو جاتے ہیں۔

ان کے مطابق مصنوعی عمومی ذہانت تک پہنچنے کا راستہ ایک ہائبرڈ حکمت عملی سے گزرے گا۔ فاؤنڈیشن ماڈلز جیسے جیمنی دنیا کے علم کو جذب کرنے میں بنیادی کردار ادا کریں گے، جبکہ ری انفورسمنٹ لرننگ منصوبہ بندی اور استدلال کی صلاحیت فراہم کرے گی۔ یعنی ایک ایسا نظام جو پہلے دنیا کا وسیع ماڈل تیار کرے اور پھر اس پر سیکھنے اور فیصلے کرنے کی تہہ در تہہ صلاحیتیں تعمیر کرے۔

تاہم انہوں نے خطرات پر بھی واضح انتباہ دیا۔ ان کے مطابق اے آئی ایک دوہری نوعیت کی ٹیکنالوجی ہے۔ ایک طرف اس کا غلط استعمال کرنے والے انسانی عناصر یا ریاستی طاقتیں ہو سکتی ہیں، اور دوسری طرف خود مختار سسٹمز کی تکنیکی پیچیدگیاں بھی چیلنج بن سکتی ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ عالمی سطح پر بائیو اور سائبر خطرات سے نمٹنے کے لیے تعاون ناگزیر ہے اور حفاظتی نظام مضبوط ہونے چاہییں تاکہ دفاعی قوتیں حملہ آوروں سے آگے رہیں۔

ڈیمس ہاسابِس نے اے آئی کو صرف چیٹ بوٹس یا کاروباری خودکار نظام تک محدود نہیں سمجھا۔ ان کے نزدیک یہ سائنس کے لیے ایک انقلابی آلہ ہے۔ انہوں نے الفا فولڈ کو انسانی علم کے ایک نئے نشاۃ ثانیہ کا آغاز قرار دیا اور پیش گوئی کی کہ اگلے دس برسوں میں سائنسی تحقیق میں سنہری دور آ سکتا ہے، جہاں نئی دریافتیں غیر معمولی رفتار سے سامنے آئیں گی۔

روبوٹکس کے میدان میں بھی انہوں نے پیش گوئی کی کہ اگلے دو سے تین برسوں میں نمایاں پیش رفت ہوگی جب فاؤنڈیشن ماڈلز کو جسمانی روبوٹک نظاموں کے ساتھ جوڑا جائے گا۔

اگر یہ پیش گوئیاں درست ثابت ہوتی ہیں تو اگلا عشرہ نہ صرف ٹیکنالوجی بلکہ معیشت، سائنس اور عالمی طاقت کے توازن کو بھی بدل سکتا ہے۔ سوال اب یہ نہیں کہ اے آئی آئے گی یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ ہم اس کے لیے کتنے تیار ہیں۔

یہ تحریر اے آئی کی دنیا کے فیس بک پیج پر پوسٹ کی گئی ہے
#AiKiDuniya, #ArtificialGeneralIntelligence, #DemisHassabis, #DeepMind, #AIImpactSummit, #FutureOfAI

اس تحریر پر فیس بک پر تبصرہ کریں

مزید پڑھیں