زبانوں کی رکاوٹ ختم کرنے کی دوڑ میں گوگل نے ایک بڑی پیش رفت کا اعلان کیا ہے۔ کمپنی نے جیمنی 3.5 لائیو ٹرانسلیٹ متعارف کرا دیا ہے، جو گفتگو کو صرف ترجمہ ہی نہیں کرتا بلکہ بولنے والے کے انداز، آواز کے اتار چڑھاؤ اور گفتگو کی رفتار کو بھی برقرار رکھتا ہے۔
روایتی ترجمہ نظاموں میں عموماً صارف کو جملہ مکمل ہونے کا انتظار کرنا پڑتا ہے، لیکن جیمنی 3.5 لائیو ٹرانسلیٹ مسلسل گفتگو سنتا اور تقریباً فوری طور پر دوسری زبان میں تبدیل کرتا رہتا ہے۔ گوگل کا کہنا ہے کہ یہ نظام 70 سے زائد زبانوں میں کام کر سکتا ہے اور انسانی گفتگو کے قدرتی بہاؤ کو برقرار رکھنے کی کوشش کرتا ہے۔
یہ فیچر اب مرحلہ وار گوگل ٹرانسلیٹ، گوگل میٹ اور جیمنی لائیو API میں شامل کیا جا رہا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ مستقبل میں مختلف زبانیں بولنے والے افراد ایک دوسرے سے بات کرتے ہوئے تقریباً حقیقی وقت میں ترجمہ سن سکیں گے۔
اسی اعلان کے ساتھ گوگل نے ڈفیوژن جیما (DiffusionGemma) نامی ایک تجرباتی اوپن ماڈل بھی پیش کیا ہے۔ روایتی زبانی ماڈلز الفاظ کو ایک ایک کرکے تخلیق کرتے ہیں، جبکہ ڈفیوژن جیما پورے ٹیکسٹ بلاکس کو بیک وقت تیار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ گوگل کے مطابق یہ طریقہ کار متن کی تیاری کو چار گنا تک تیز بنا سکتا ہے۔
یہ دونوں اعلانات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ گوگل صرف بہتر AI ماڈلز بنانے پر توجہ نہیں دے رہا بلکہ ایسی ٹیکنالوجیز بھی تیار کر رہا ہے جو روزمرہ زندگی میں براہ راست استعمال ہو سکیں۔ خاص طور پر لائیو ترجمہ دنیا بھر میں کاروبار، تعلیم، سفر اور بین الاقوامی رابطوں کے طریقہ کار کو تبدیل کر سکتا ہے۔
اگر یہ ٹیکنالوجی اپنے دعووں کے مطابق کارکردگی دکھانے میں کامیاب رہی تو مستقبل قریب میں مختلف زبانیں بولنے والے افراد کے درمیان رابطے کی رکاوٹ تقریباً ختم ہو سکتی ہے۔
حوالہ: Google Blog، جون 2026
یہ تحریر اے آئی کی دنیا کے فیس بک پیج پر پوسٹ کی گئی ہے