گوگل نے ایک ایسا قدم اٹھا لیا ہے جو ممکنہ طور پر لیپ ٹاپ انڈسٹری کو اسی طرح بدل سکتا ہے جیسے کبھی کروم بکس نے کمپیوٹنگ کی دنیا کو تبدیل کیا تھا۔ کمپنی نے “گوگلبک” نامی نئی اے آئی فرسٹ لیپ ٹاپ کیٹیگری متعارف کرا دی ہے، جو مکمل طور پر جیمنائی مصنوعی ذہانت کے گرد تیار کی گئی ہے۔
گوگل کے مطابق یہ گزشتہ پندرہ سال میں لیپ ٹاپس کی دنیا کی سب سے بڑی تبدیلی ہو سکتی ہے۔
گوگلبک دراصل ایک نئے اینڈرائیڈ بیسڈ آپریٹنگ سسٹم پر چلنے والے ڈیوائسز ہوں گے، جہاں اینڈرائیڈ اور کروم ایپس کو ایک ہی پلیٹ فارم میں ضم کر دیا گیا ہے۔ اس پورے تجربے کے مرکز میں جیمنائی اے آئی موجود ہو گی، جو صارف کے کام، ایپس، اسکرین اور رویّے کو سمجھ کر خودکار مدد فراہم کرے گی۔
گوگل نے “میجک پوائنٹر” جیسے فیچرز بھی متعارف کروائے ہیں، جو ڈیپ مائنڈ کی ٹیکنالوجی سے تیار کیے گئے ہیں۔ یہ سسٹم اسکرین پر موجود چیزوں کو سیاق و سباق کے مطابق سمجھ کر صارف کی رہنمائی کرے گا، یعنی کمپیوٹر اب صرف حکم نہیں مانے گا بلکہ حالات کو “سمجھنے” کی کوشش بھی کرے گا۔
سب سے اہم بات یہ ہے کہ گوگل یہ سب کچھ اکیلے نہیں کر رہا۔ ایسوس، ڈیل، ایچ پی اور لینووو جیسی بڑی کمپنیاں پہلے ہی تصدیق کر چکی ہیں کہ وہ ستمبر 2026 تک گوگلبک ڈیوائسز مارکیٹ میں لائیں گی۔
یہ اعلان صرف ایک نئی پروڈکٹ لائن نہیں بلکہ کمپیوٹنگ کے مستقبل کا اشارہ سمجھا جا رہا ہے۔ گزشتہ دہائیوں میں کمپیوٹرز انسان کے احکامات پر چلتے تھے، لیکن اب گوگل ایسی مشینیں بنانا چاہتا ہے جو انسان کی نیت، عادت اور ضرورت کو پہلے سے سمجھ سکیں۔
مصنوعی ذہانت کی جنگ اب صرف چیٹ بوٹس تک محدود نہیں رہی۔ اب اصل مقابلہ اس بات پر ہے کہ مستقبل کا “ذاتی کمپیوٹر” کون بنائے گا، ایک ایسا کمپیوٹر جو صرف سافٹ ویئر نہ ہو بلکہ ایک مستقل اے آئی ساتھی بن جائے۔
یہ تحریر اے آئی کی دنیا کے فیس بک پیج پر پوسٹ کی گئی ہے
#AiKiDuniya, #Googlebook, #GeminiAI, #ArtificialIntelligence, #GoogleA