دو ہزار چھبیس کے آغاز میں گوگل کی پیرنٹ کمپنی الفابیٹ نے خاموشی سے سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ کی دنیا میں ایک بڑی حد عبور کر لی۔ فروری کی چوتھی تاریخ کو چوتھی سہ ماہی کی ارننگ کال کے دوران کمپنی کی چیف فنانشل آفیسر انات اشکنازی نے بتایا کہ اب الفابیٹ کے تقریباً پچاس فیصد کوڈ کی ابتدائی تخلیق اے آئی کوڈنگ ایجنٹس کرتے ہیں، جس کے بعد انسانی انجینئرز اس کا جائزہ لے کر اسے منظور یا درست کرتے ہیں۔ یہ انکشاف ایسے وقت میں سامنے آیا جب کمپنی نے اپنی تاریخ کی سب سے زیادہ سالانہ آمدن، چار سو ارب ڈالر سے زائد، ریکارڈ کی۔
یہ پیش رفت اچانک نہیں تھی بلکہ پچھلے پندرہ مہینوں میں مسلسل رفتار پکڑتی رہی۔ اکتوبر دو ہزار چوبیس میں سندر پچائی نے بتایا تھا کہ گوگل میں پچیس فیصد سے زیادہ نیا کوڈ اے آئی تیار کر رہا ہے۔ اپریل دو ہزار پچیس تک یہ شرح تقریباً تیس فیصد ہو چکی تھی، اور اب دو ہزار پچیس کے اختتام پر یہ عدد پچاس فیصد تک پہنچ گیا ہے۔ کمپنی کے مطابق اس کا مقصد انجینئرز کو بدلنا نہیں بلکہ انہیں زیادہ مؤثر بنانا ہے تاکہ وہ کم ٹیموں کے ساتھ زیادہ کام کر سکیں۔
الفابیٹ اس تبدیلی کو پیداواری صلاحیت میں بہتری کے طور پر پیش کر رہی ہے۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اے آئی کی مدد سے کوڈ لکھنے سے رفتار تیز ہوئی ہے اور انجینئرز زیادہ وقت پیچیدہ مسائل، سسٹم ڈیزائن اور کوالٹی کنٹرول پر لگا پا رہے ہیں۔ کمپنی نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ وہ دو ہزار چھبیس تک انجینئرنگ میں بھرتیوں کا سلسلہ جاری رکھنے کا ارادہ رکھتی ہے، یعنی انسانی کردار اب بھی مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔
یہ رجحان صرف گوگل تک محدود نہیں۔ مائیکروسافٹ پہلے ہی بتا چکا ہے کہ اس کے ہاں تقریباً تیس فیصد کوڈ اے آئی لکھ رہی ہے، جبکہ بعض اے آئی لیبز میں یہ دعویٰ بھی سامنے آیا ہے کہ زیادہ تر کوڈ مشین تیار کرتی ہے اور انسان صرف نظرثانی تک محدود ہو گئے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی بحث بھی زور پکڑ رہی ہے کہ آیا اس سے کوڈ کا معیار بہتر ہو رہا ہے یا سینئر انجینئرز پر نظرثانی کا بوجھ بڑھتا جا رہا ہے۔
اہم بات یہ ہے کہ یہ سب کچھ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب الفابیٹ اے آئی انفراسٹرکچر پر غیر معمولی سرمایہ کاری کر رہی ہے۔ کمپنی نے دو ہزار چھبیس کے لیے ایک سو پچھتر سے ایک سو پچاسی ارب ڈالر تک کیپیکس کی رہنمائی دی ہے، جس کا بڑا حصہ سرورز، ڈیٹا سینٹرز اور نیٹ ورکنگ پر خرچ ہوگا۔ اس حکمتِ عملی سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ گوگل اے آئی کو وقتی سہولت نہیں بلکہ اپنی آئندہ دہائی کی بنیاد سمجھ رہا ہے۔
یہ اعداد و شمار اس بات کی علامت ہیں کہ سافٹ ویئر لکھنے کا عمل تیزی سے بدل رہا ہے۔ کوڈ اب صرف انسان کی تخلیق نہیں رہا بلکہ انسان اور مشین کے اشتراک سے وجود میں آ رہا ہے، جہاں فیصلہ سازی اور ذمہ داری اب بھی انسان کے ہاتھ میں ہے، مگر رفتار اور پیمانہ پہلے سے کہیں زیادہ وسیع ہو چکا ہے۔