گوگل کی جانب سے مصنوعی ذہانت کے استعمال کو ذاتی اور عملی بنانے کا ایک اہم فیچر جیمینی میں جیمزہیں۔ یہ فیچر دراصل گوگل کے Gemini اے آئی کو اس قابل بناتا ہے کہ صارف اپنی ضرورت کے مطابق ایک مخصوص کردار، مقصد اور انداز رکھنے والا اے آئی اسسٹنٹ خود تیار کر سکے، جو بار بار ایک ہی طرح کے کام زیادہ مستقل اور مؤثر انداز میں انجام دے۔
گوگل کے Gemini پلیٹ فارم میں Gems کا تصور اس خیال پر مبنی ہے کہ ہر صارف کی ضرورت مختلف ہوتی ہے۔ کوئی شخص تحقیق میں مدد چاہتا ہے، کوئی لکھنے کے کام میں، کوئی کوڈنگ میں اور کوئی روزمرہ منصوبہ بندی میں۔ Gemini Gems کے ذریعے صارف ایک ایسا کسٹم اے آئی بنا سکتا ہے جو پہلے ہی یہ جانتا ہو کہ اس کا کردار کیا ہے، کس لہجے میں جواب دینا ہے، اور کن چیزوں کو ترجیح دینی ہے۔ اس طرح ہر بار لمبی ہدایات دینے کی ضرورت ختم ہو جاتی ہے۔
جیمینی جیمز کو سادہ الفاظ میں یوں سمجھا جا سکتا ہے کہ یہ “پری کنفیگرڈ اے آئی رولز” ہیں۔ صارف قدرتی زبان میں یہ بتا سکتا ہے کہ اسے کس قسم کا اے آئی چاہیے، مثلاً ایک ایسا اسسٹنٹ جو تحقیقی پیپرز کو سادہ زبان میں خلاصہ کرے، یا ایک ایسا جو سوشل میڈیا پوسٹس کے لیے آئیڈیاز دے، یا پھر ایک ایسا جو کوڈ ریویو کرتے وقت سخت معیار اپنائے۔ ایک بار یہ Gem بن جانے کے بعد، ہر گفتگو میں وہی انداز، وہی ترجیحات اور وہی حدود برقرار رہتی ہیں۔
ان Gemini Gems کا ایک اہم فائدہ انکی مستقل مزاجی ہے۔ عام چیٹ میں اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ایک ہی سوال کامختلف اوقات میں مختلف انداز میں جواب ملتا ہے، مگر Gem کے ساتھ اے آئی ایک طے شدہ ذہنی فریم میں کام کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ فیچر خاص طور پر پروفیشنلز، طلبہ، کنٹینٹ کریئیٹرز اور ڈویلپرز کے لیے مفید سمجھا جا تا ہے، جہاں بار بار ایک ہی نوعیت کے کام کرنے ہوتے ہیں۔
یہ Gems نہ صرف تحریری کاموں تک محدود ہیں بلکہ Gemini کے دیگر فیچرز کے ساتھ بھی کام کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر ایک Gem کو NotebookLM جیسے ٹولز کے ساتھ جوڑا جا سکتا ہے تاکہ وہ مخصوص ذرائع سے ہی تحقیق کرے، یا Gemini کے کوڈنگ موڈ میں ایک ایسا Gem بنایا جا سکتا ہے جو کسی خاص پروگرامنگ زبان یا فریم ورک پر فوکس رکھے۔ اس طرح Gemini محض ایک عام چیٹ بوٹ نہیں رہتا بلکہ ایک مخصوص مقصد کے لیے تیار کردہ ڈیجیٹل اسسٹنٹ بن جاتا ہے۔
گوگل کے مطابق Gemini Gems کا مقصد صارف کو اے آئی کے ساتھ کام کرنے کا زیادہ کنٹرول دینا ہے، تاکہ ہر شخص اپنی ضروریات کے مطابق اے آئی کو “ٹرین” کر سکے، بغیر کسی تکنیکی پیچیدگی کے۔ اس میں نہ تو ماڈل منتخب کرنے کی جھنجھٹ ہے اور نہ ہی پیچیدہ سیٹنگز، بلکہ سادہ ہدایات کے ذریعے ایک عملی اور قابلِ اعتماد اسسٹنٹ تیار ہو جاتا ہے۔
یہ تحریر اے آئی کی دنیا کے فیس بک پیج پر پوسٹ کی گئی ہے