جمعہ، 17 جولائی 2026
اے آئی کی دنیا

مصنوعی ذہانت کی خبریں، ٹولز اور معلومات

خبریں

گوگل جیمینائی اور اسکرین آٹومیشن | جیمینائی کی آنے والی صلاحیت کی جھلک

6 فروری 2026

گوگل جیمینائی اور اسکرین آٹومیشن | جیمینائی کی آنے والی صلاحیت کی جھلک

اینڈرائیڈ پر گوگل کے اے آئی اسسٹنٹ کے اگلے قدم کی جھلک اب واضح ہونا شروع ہو گئی ہے۔ حالیہ بیٹا اپ ڈیٹس سے یہ اشارے ملے ہیں کہ Google اپنے اسسٹنٹ Gemini کو صرف سوال جواب تک محدود رکھنے کے بجائے براہِ راست ایپس کے اندر کام کرنے کے قابل بنا رہا ہے۔ مقصد یہ ہے کہ صارف کو بار بار اسکرین پر ٹیپ کرنے، مختلف ایپس میں جانے اور مراحل مکمل کرنے کی زحمت نہ اٹھانی پڑے، بلکہ ایک ہی ہدایت میں پورا کام انجام پا جائے۔

گوگل ایپ کے تازہ اینڈرائیڈ بیٹا ورژن میں سامنے آنے والے کوڈ سے پتا چلتا ہے کہ اس فیچر کو اندرونی طور پر اسکرین آٹومیشن کہا جا رہا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جیمینائی آپ کی اسکرین پر موجود عناصر کو سمجھ سکے گا، بٹن پہچان سکے گا، فہرستوں میں اسکرول کر سکے گا اور فارم خود بھر سکے گا۔ عملی طور پر یہ وہی کام ہیں جو آج ایک انسان انگلی سے کرتا ہے، مگر یہاں وہی سلسلہ اے آئی خود مکمل کرے گا۔ مثال کے طور پر کوئی رائیڈ بک کرنا، آن لائن آرڈر دینا یا کسی ایپ کے اندر کئی مراحل پر مشتمل کام انجام دینا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ گوگل اس فیچر کو محض ایک تجربہ نہیں بلکہ ایک باقاعدہ ڈائریکشن کے طور پر دیکھ رہا ہے۔ اندرونی کوڈ میں اسے ایک الگ منصوبے کے طور پر مارک کیا گیا ہے، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ وقتی ڈیمو نہیں بلکہ اینڈرائیڈ اسسٹنٹ کے مستقبل کا حصہ بننے والا ہے۔ اس کے ساتھ ایسے انٹرفیس کی جھلک بھی ملی ہے جہاں جیمینائی کی جانب سے کیے گئے آرڈرز یا خریداریوں کا ریکارڈ محفوظ رہے گا، تاکہ صارف کو معلوم ہو کہ اسسٹنٹ نے اس کی طرف سے کیا کیا ہے۔

تکنیکی طور پر دیکھا جائے تو یہ فیچر اینڈرائیڈ کے موجودہ نظام پر ہی انحصار کرے گا، جیسے ایکسیسبلٹی سروسز اور ایپ ایکشنز، مگر فرق یہ ہوگا کہ جیمینائی مختلف ایپس کے درمیان مراحل کو خود جوڑ سکے گا۔ صارف صرف مقصد بتائے گا اور اے آئی پس منظر میں پورا عمل مکمل کرے گا۔ یہی وہ تصور ہے جسے گوگل نے پہلے اپنے کچھ ڈیموز میں دکھایا تھا، جہاں اسسٹنٹ اسکرین کو دیکھ کر سیاق و سباق سمجھتا اور درست قدم اٹھاتا ہے۔

گوگل کی جانب سے احتیاط کا پہلو بھی واضح رکھا جا رہا ہے۔ بیٹا میں شامل رہنمائی کے مطابق صارف ہر وقت عمل کو روک سکتا ہے، نگرانی کر سکتا ہے یا خود کنٹرول واپس لے سکتا ہے۔ ساتھ ہی یہ تنبیہ بھی دی گئی ہے کہ حساس معلومات یا فوری نوعیت کے معاملات میں احتیاط ضروری ہوگی۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ابتدائی مرحلے میں یہ سہولت محدود ایپس تک رہے گی اور مکمل آزادی آہستہ آہستہ دی جائے گی۔

عام صارف کے لیے اس کا مطلب یہ ہے کہ روزمرہ کے جھنجھٹ کم ہو سکتے ہیں۔ بار بار ایک ہی طرح کے کام، جیسے دوبارہ آرڈر دینا، کینسل شدہ رائیڈ کو فوراً ری بک کرنا یا کسی آفر کے دوران چیک آؤٹ مکمل کرنا، ایک جملے میں ممکن ہو سکتا ہے۔ ڈویلپرز کے لیے بھی یہ ایک نیا مرحلہ ہے، جہاں ایپس کو اس طرح ڈیزائن کرنا ہوگا کہ اے آئی محفوظ طریقے سے ان کے اندر کام کر سکے۔

اگر یہ فیچر اسی سمت میں آگے بڑھا جس کا عندیہ دیا جا رہا ہے، تو اینڈرائیڈ وہ پہلا پلیٹ فارم بن سکتا ہے جہاں ایک عمومی اے آئی اسسٹنٹ واقعی ایپس کے اندر جا کر کام کرے، نہ کہ صرف مشورے دے۔ یہ تبدیلی خاموشی سے مگر گہرے اثرات کے ساتھ صارف کے موبائل استعمال کے انداز کو بدل سکتی ہے۔

یہ تحریر اے آئی کی دنیا کے فیس بک پیج پر پوسٹ کی گئی ہے
#AiKiDuniya, #GoogleGemini, #Android, #AIAutomation, #FutureOfAI, #TechUpdates

اس تحریر پر فیس بک پر تبصرہ کریں

مزید پڑھیں