مصنوعی ذہانت کی دوڑ اب صرف ویب یا موبائل تک محدود نہیں رہی۔ اب میدان ڈیسک ٹاپ کا ہے، اور اس میں بھی بڑی پیش رفت سامنے آ چکی ہے۔ Alphabet نے خاموشی سے اپنے نئے اے آئی ایپ پر کام شروع کر دیا ہے جو خاص طور پر میک کمپیوٹرز کے لیے تیار کیا جا رہا ہے۔
اس ایپ کو اندرونی طور پر “Janus” کا نام دیا گیا ہے اور اسے محدود صارفین کے لیے آزمائشی مرحلے میں جاری کیا جا رہا ہے۔ یہ دراصل Gemini کا ایک نیا روپ ہے جو براہ راست کمپیوٹر کے اندر کام کرے گا، بغیر براؤزر کے۔ اس قدم کے ذریعے گوگل اب ان کمپنیوں کے برابر آنا چاہتا ہے جنہوں نے پہلے ہی اپنے اے آئی چیٹ بوٹس کے لیے ڈیسک ٹاپ ایپس فراہم کر دی ہیں۔
ابتدائی معلومات کے مطابق یہ ایپ وہی بنیادی فیچرز فراہم کرتی ہے جو پہلے سے دستیاب ہیں، جیسے تصاویر اور ویڈیوز بنانا، موسیقی تخلیق کرنا، ڈیٹا کا تجزیہ کرنا، دستاویزات اپ لوڈ کرنا اور گفتگو کو محفوظ رکھنا۔ مگر اصل توجہ ایک نئے فیچر پر ہے جسے “ڈیسک ٹاپ انٹیلیجنس” کہا جا رہا ہے۔
یہ فیچر ایک بڑی تبدیلی کی علامت ہے۔
اس کے ذریعے اے آئی صرف سوالات کے جواب نہیں دے گا بلکہ صارف کی اسکرین کو بھی سمجھ سکے گا۔ یعنی آپ کے سامنے جو کچھ کھلا ہوگا، جیسے کیلنڈر یا کوئی دستاویز، اے آئی اسے دیکھ کر اسی کے مطابق جواب دے سکے گا۔ یوں یہ صرف ایک چیٹ بوٹ نہیں بلکہ ایک حقیقی ڈیجیٹل معاون بننے کی طرف بڑھ رہا ہے۔
یہ قدم اس لیے بھی اہم ہے کیونکہ اب تک میک صارفین کو اے آئی استعمال کرنے کے لیے ویب یا دیگر غیر رسمی طریقوں پر انحصار کرنا پڑتا تھا۔ اب ایک مکمل ایپ کے ذریعے تجربہ زیادہ تیز، آسان اور مربوط ہو جائے گا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ سب ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب Apple بھی اپنے سسٹم میں بڑی تبدیلیوں کی تیاری کر رہا ہے، جہاں مستقبل میں اس کے اسسٹنٹ کو بھی زیادہ ذہین اور طاقتور بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
مجموعی طور پر دیکھا جائے تو یہ واضح ہے کہ اے آئی اب صرف سوال جواب کا ذریعہ نہیں رہا بلکہ آہستہ آہستہ ہمارے کمپیوٹرز کے اندر ایک مستقل معاون کی شکل اختیار کر رہا ہے۔ اور آنے والے وقت میں اصل مقابلہ اس بات پر ہوگا کہ کون سا اے آئی صارف کے کام کو سب سے بہتر طریقے سے سمجھ کر اس کی مدد کر سکتا ہے۔
یہ تحریر اے آئی کی دنیا کے فیس بک پیج پر پوسٹ کی گئی ہے
#AiKiDuniya, #Google, #Gemini, #ArtificialIntelligence, #TechNews, #FutureOfAI