پاکستان میں بے روزگاری، اسکل گیپ اور ڈگری بمقابلہ مہارت کی بحث اب کسی تعارف کی محتاج نہیں رہی۔ ہزاروں نوجوان ڈگری لینے کے باوجود عملی مہارتوں کی کمی کی وجہ سے مارکیٹ میں جگہ نہیں بنا پاتے، جبکہ دوسری طرف ٹیک اور اے آئی سے جڑی نوکریوں کی طلب مسلسل بڑھ رہی ہے۔ اسی خلا میں گوگل نے خاموشی سے ایک ایسا راستہ تیار کیا ہے جو پاکستانی نوجوانوں کے لیے کیریئر کے نئے دروازے کھول سکتا ہے۔
یہ راستہ کسی ایک کورس یا ویب سائٹ تک محدود نہیں بلکہ ایک مکمل اسکل ایکو سسٹم ہے، جسے عام طور پر لوگ اب “Google Skills” کے نام سے جاننے لگے ہیں۔ اس کا مقصد یہی ہے کہ سیکھنے والا صفر سے آغاز کرے اور ایسی مہارتیں حاصل کرے جو عالمی مارکیٹ میں قابلِ قبول ہوں۔ خاص بات یہ ہے کہ یہاں ملنے والے سرٹیفکیٹس صرف کاغذی نہیں بلکہ جاب مارکیٹ میں قابلِ اعتبار سمجھے جاتے ہیں۔
پاکستانی نوجوانوں کے لیے اس پلیٹ فارم کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ یہاں ڈگری شرط نہیں۔ اگر کسی کے پاس کمپیوٹر سائنس کا پس منظر نہیں بھی ہے تو وہ پھر بھی اے آئی، ڈیٹا اینالیٹکس، آئی ٹی سپورٹ، سائبر سیکیورٹی، ڈیجیٹل مارکیٹنگ یا کلاؤڈ جیسے شعبوں میں قدم رکھ سکتا ہے۔ کورسز کو اس انداز میں ڈیزائن کیا گیا ہے کہ وہ تھیوری کے بجائے عملی کام پر فوکس کریں، تاکہ سیکھنے والا حقیقی مسائل حل کرنا سیکھے۔
اے آئی کے تناظر میں دیکھا جائے تو گوگل نے حالیہ برسوں میں اپنے لرننگ پروگرامز میں مصنوعی ذہانت کو مرکزی حیثیت دی ہے۔ بنیادی اے آئی فہم سے لے کر ذمہ دار اے آئی، پرامپٹنگ، ڈیٹا ہینڈلنگ اور کلاؤڈ بیسڈ اے آئی ورک فلو تک، سب کچھ مرحلہ وار سکھایا جاتا ہے۔ یہی وہ اسکلز ہیں جن کی آج فری لانسنگ، ریموٹ جابز اور بین الاقوامی کمپنیوں میں مانگ ہے۔
پاکستان جیسے ملک کے لیے ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ ان میں سے بہت سے کورسز کم لاگت یا مکمل طور پر مفت ہیں، اور آن لائن ہونے کی وجہ سے کسی بڑے شہر میں منتقل ہونے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ ایک طالب علم، فری لانسر یا جاب کرنے والا فرد اپنی سہولت کے مطابق یہ اسکلز سیکھ سکتا ہے اور وقت کے ساتھ اپنے کیریئر کی سمت بدل سکتا ہے۔
اصل فرق یہ ہے کہ یہاں تعلیم کو محض سیکھنے تک محدود نہیں رکھا گیا بلکہ اسے روزگار سے جوڑا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ گوگل کے سرٹیفکیٹس کو کئی بین الاقوامی کمپنیاں ہائرنگ کے دوران ایک مضبوط اسکل سگنل کے طور پر دیکھتی ہیں۔ پاکستان کے نوجوانوں کے لیے یہ ایک عملی موقع ہے کہ وہ روایتی ڈگری کے انتظار کے بجائے عالمی معیار کی مہارتوں پر سرمایہ کاری کریں۔
یہ تحریر اے آئی کی دنیا کے فیس بک پیج پر پوسٹ کی گئی ہے۔ اور انکے لنکس کمنٹس سیکشن میں لگا دیے ہیں۔
#AIKiDuniya, #GoogleSkills, #PakistanYouth, #DigitalSkills, #AISkills, #FutureOfWork, #اردوٹیک