گوگل میں جیمنی اے پی آئی پر کام کرنے والی پرنسپل انجینئر Jaana Dogan کے مطابق Anthropic کے ٹول Claude Code نے صرف ایک گھنٹے میں ایسا ڈسٹری بیوٹڈ ایجنٹ آرکسٹریشن سسٹم تیار کر دیا، جس پر ان کی گوگل ٹیم پچھلے ایک سال سے کام کر رہی تھی۔ حیران کن بات یہ ہے کہ یہ نتیجہ صرف تین پیراگراف پر مشتمل مسئلے کی وضاحت سے حاصل کیا گیا۔
یہ انکشاف اس لیے بھی غیر معمولی توجہ کا مرکز بنا کیونکہ ایک Google انجینئر کی جانب سے کسی حریف کمپنی کے اے آئی کوڈنگ ٹول کی کھل کر تعریف شاذ و نادر ہی دیکھنے میں آتی ہے۔ تاہم ڈوگن نے اس پہلو کی وضاحت بھی کی کہ گوگل خود Anthropic کا بڑا سرمایہ کار ہے، جہاں تقریباً تین ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کے ساتھ ساتھ ایک حالیہ معاہدہ بھی شامل ہے، جس کے تحت Anthropic کو دسوں ارب ڈالر مالیت کے ایک ملین تک ٹینسر پروسیسنگ یونٹس فراہم کیے جائیں گے۔
ڈوگن کے مطابق یہ واقعہ اس تیز رفتار تبدیلی کی علامت ہے جو اے آئی کوڈنگ میں چند ہی برسوں میں رونما ہوئی ہے۔ 2022 میں اے آئی زیادہ سے زیادہ چند لائنوں کی تکمیل تک محدود تھا، جبکہ 2025 میں یہی سسٹمز مکمل کوڈ بیس اور پیچیدہ سافٹ ویئر ڈھانچے تیار کرنے کی صلاحیت دکھا رہے ہیں۔ یہ رجحان پوری انڈسٹری میں واضح ہو چکا ہے، جہاں Dario Amodei کے مطابق Anthropic کے تقریباً 90 فیصد کوڈ اب اے آئی کے ذریعے لکھا جا رہا ہے، جبکہ گوگل نے خود تسلیم کیا ہے کہ اس کے نئے کوڈ کا لگ بھگ 50 فیصد حصہ اے آئی تیار کرتا ہے۔
ماہرین کے نزدیک یہ پیش رفت صرف رفتار کا معاملہ نہیں بلکہ سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ کی نوعیت میں بنیادی تبدیلی کا اشارہ ہے۔ جہاں پہلے بڑے انجینئرنگ سسٹمز بنانے میں مہینے یا سال لگتے تھے، اب وہی کام گھنٹوں میں ممکن ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ اس سے نہ صرف ٹیموں کے سائز اور اخراجات پر اثر پڑے گا بلکہ یہ سوال بھی شدت اختیار کرے گا کہ مستقبل میں انسانی پروگرامرز کا کردار کس حد تک تبدیل ہو جائے گا۔
یہ واقعہ اس حقیقت کو مزید واضح کرتا ہے کہ اے آئی کوڈنگ اب محض ایک معاون ٹول نہیں رہا بلکہ تیزی سے ایک مرکزی پیداواری قوت بن رہا ہے، جہاں مقابلہ صرف بہتر ماڈلز کا نہیں بلکہ اس رفتار کا ہے جس سے کمپنیاں نئے سسٹمز تخلیق کر سکتی ہیں۔
یہ تحریر اے آئی کی دنیا کے فیس بک پیج پر پوسٹ کی گئی ہے
#AiKiDuniya,#AICoding,#ClaudeCode,#Google,#Anthropic,#FutureOfSoftware