گوگل نے ایک ایسا اعلان کر دیا ہے جو اسمارٹ فونز اور لیپ ٹاپس کے مستقبل کو مکمل طور پر بدل سکتا ہے۔ کمپنی اب صرف اے آئی چیٹ بوٹس نہیں بنا رہی بلکہ ایسے “ایجنٹک اے آئی سسٹمز” تیار کر رہی ہے جو انسان کی جگہ خود کام انجام دے سکیں۔
اینڈرائیڈ شو کے دوران گوگل نے “جیمنائی انٹیلیجنس” متعارف کروائی، ایک ایسا اے آئی سسٹم جو مختلف ایپس کے اندر جا کر خود کام مکمل کر سکتا ہے۔ مثال کے طور پر گروسری آرڈر کرنا، فارم بھرنا، ایپس کے درمیان معلومات منتقل کرنا یا کئی مرحلوں پر مشتمل کام خود انجام دینا۔
یہ صرف وائس اسسٹنٹ نہیں بلکہ ایک ایسا ڈیجیٹل ایجنٹ ہے جو اسکرین پر ہونے والی سرگرمیوں کو سمجھتا ہے اور انسان کی ہدایات پر مختلف ایپس میں کارروائیاں کر سکتا ہے۔
اسی کے ساتھ گوگل نے ایک نئی کیٹیگری بھی متعارف کروائی ہے جسے “گوگلبک” کہا جا رہا ہے۔ یہ اے آئی فرسٹ لیپ ٹاپس ہوں گے جو شروع سے ہی جیمنائی اے آئی کے گرد ڈیزائن کیے گئے ہیں۔ اس منصوبے میں ایسر، ایسوس، ایچ پی، لینووو اور ڈیل جیسی بڑی کمپنیاں شامل ہیں، جبکہ ان ڈیوائسز کی متوقع لانچ اس سال خزاں میں بتائی جا رہی ہے۔
گوگل کا مقصد واضح دکھائی دیتا ہے۔ کمپنی اب صرف سرچ انجن یا موبائل آپریٹنگ سسٹم تک محدود نہیں رہنا چاہتی بلکہ وہ ایسی دنیا بنا رہی ہے جہاں کمپیوٹر خود “سمجھیں” اور “عمل” بھی کریں۔
جیمنائی انٹیلیجنس سب سے پہلے سام سنگ گلیکسی اور گوگل پکسل ڈیوائسز پر اس موسمِ گرما میں متعارف کروائی جائے گی، جبکہ بعد میں دیگر اینڈرائیڈ فونز تک بھی اس کی توسیع متوقع ہے۔
یہ پیش رفت ایک نئے دور کی نشاندہی کرتی ہے جہاں انسان ایپس استعمال نہیں کرے گا بلکہ اے آئی ایجنٹس انسان کی طرف سے ایپس استعمال کریں گے۔ یعنی مستقبل میں شاید ہمیں اسکرینز پر کم اور اے آئی پر زیادہ انحصار کرنا پڑے۔
مصنوعی ذہانت کی جنگ اب صرف چیٹ بوٹس کی نہیں رہی۔ اصل مقابلہ اب اس بات پر ہے کہ کون سی کمپنی سب سے پہلے “ذاتی ڈیجیٹل ایجنٹ” انسان کے ہاتھ میں دیتی ہے۔
یہ تحریر اے آئی کی دنیا کے فیس بک پیج پر پوسٹ کی گئی ہے
#AiKiDuniya, #GoogleAI, #Gemini, #AndroidAI, #ArtificialIntelligence