گروکیپیڈیا
آپ نے یہ سنا ہوگا کہ ایلن مسک اب علم کی دنیا میں اپنی نئی جنگ لڑنے آئے ہیں ، وہ اکیلے نہیں، بلکہ ان کے ساتھ ہے ان کی کمپنی xAI اور اس کے زیرِ اختیار اے آئی ماڈل Grok۔ 27 اکتوبر 2025 کو انہوں نے دنیا کے سامنے پیش کیا ہے ایک نیا منصوبہ جس کا نام ہے Grokipedia، “بیٹا v0.1” کے مرحلے میں۔ یہ خود کو پیش کرتا ہے بطور “ویکیپیڈیا کے مقابل” ، ایک آن لائن انسائیکلوپیڈیا جو مکمل طور پر مصنوعی ذہانت سے چلایا جائے گا۔ 
مسک کی جانب سے اس کے پسِ منظر میں ایک بڑا دعویٰ یہ ہے کہ ویکیپیڈیا کو انہوں نے “حقائق کی اجارہ داری” والا ادارہ قرار دیا تھا اور Grokipedia کو اس تسلط کو ختم کرنے والا راستہ بتایا گیا ہے۔  اس کے مطابق، Grokipedia کو بنایا گیا ہے “زیادہ سے زیادہ سچائی کی جستجو” کے جذبے کے تحت، وہ اس کام کے لیے Grok AI اور ایک اور بڑی طاقت یعنی ٹویٹر نام کے پلیٹ فارم X کی “ریئل ٹائم ڈیٹا” کے استعمال کا وعدہ کرتے ہیں۔ 
پروگرام اور استعمال کی تفصیل کچھ یوں ہے کہ صارف جب Grokipedia میں کسی موضوع کی تلاش کرے گا، مثال کے طور پر “پاکستان کی سیاسی تاریخ” یا “کوانٹم کمپیوٹنگ کیا ہے” تو وہ محض ویسے لنک نہیں دیکھے گا جیسے ویکیپیڈیا میں کرتا ہے، بلکہ ایک مکمل مضمون دکھایا جائے گا، جسے Grok ماڈل نے یا تو پیدا کیا ہے یا حال ہی میں “حقائق کے لیے چیک” کیا ہے، اس میں ہر مضمون کے نیچے وقت کی مہر (timestamp) بھی ہوگی کہ “دو گھنٹے قبل Grok نے اس موضوع کو حقائق کے لیے چیک کیا ہے”۔  مزید یہ کہ صارفین خود براہِ راست مضمون میں ترمیم نہیں کریں گے جیسا ویکیپیڈیا میں ہوتا ہے، بلکہ تبدیلیوں کی تجویز فارم کے ذریعے جمع کی جائے گی، اور کنٹرول مکمل طور پر Grok یا xAI کے ہاتھ میں ہوگا۔ 
گروک کے اس ماڈل کی ساخت اور مقصد یہ ہے کہ یہ رئیل ٹائم (real-time) میں ڈیٹا اور خبریں، سماجی رابطے کی سائٹس اور دوسرے وسائل سے انفارمیشن لیتا ہے تاکہ “روایتی انسائیکلوپیڈیاؤں” کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے اپ ڈیٹ شدہ اور جدید مضمون فراہم کرے۔ مسک نے اسے ویکیپیڈیا کی خامیوں بشمول اداریاتی تعصب (editorial bias) اور “سست اپ ڈیٹس” کا حل بتایا ہے۔ 
گروکیپیڈیا کے لانچ کے فوری بعد جو منظرنامہ سامنے آیا، وہ متاثر کن اور تشویش ناک دونوں طرح سے تھا۔ ٹائم لائن کے مطابق سائٹ لانچ کے فوراً بعد غلطیوں کا سامنا کرنا پڑا اور سرورز عارضی طور پر دستیاب نہیں رہے، یعنی ٹریفک اتنا زیادہ تھا کہ سائٹ ڈیلیٹ ہوئی یا منقطع ہوئی۔  دوسری جانب مشاہدہ کیا گیا کہ بعض موضوعات پر Grokipedia کے مضامین تقریباً ویکیپیڈیا کے ٹیکسٹ کے نقل شدہ ورژن تھے، یعنی کاپی-پیسٹ کی صورت اختیار کر چکے تھے۔ 
تو یہ سوال بنتا ہے کہ Grokipedia واقعی ویکیپیڈیا کی اجارہ داری ختم کر دے گا؟ یا یہ محض ایک مختلف زاویے والا علم فراہم کرے گا؟ ذیل میں اس کے ممکنہ اثرات، خطرات اور اس کے مستقبل کے منظرناموں پر روشنی ڈالی جائے گی۔
سب سے پہلے، اگر Grokipedia کامیاب ہو جائے تو یہ “علم کے سورس” کی دنیا میں اہم تبدیلی لا سکتا ہے۔ مثال کے طور پر، اب تحقیق کار، طلبہ یا عام قارئین ویکیپیڈیا کی بجائے Grokipedia کو اولین ماخذ کے طور پر استعمال کریں گے، جہاں مضمون ہمیشہ تازہ ہو، خبر کا حصہ ہو، اور فوراً دستیاب ہو۔ اس سے علم کی دستیابی کی رفتار میں اضافہ ہو گا۔
مزید یہ کہ Grok AI کے زیرِ عمل ماڈل کو ٹویٹر جیسے فورم سے براہِ راست انفارمیشن مل رہی ہو گی ، یعنی لائیو ٹرینڈنگ موضوعات، فوری تبدیلیاں، اور سماجی ردعمل جو اکثر روایتی انسائیکلوپیڈیاں نہیں پکڑپاتیں۔
دوسری طرف، اس ماڈل سے منسلک خطرات بالکل نظرانداز نہیں کیے جا سکتے۔ جو سب سے اہم ہے وہ ہے اعتبار (credibility) کا بحران۔ ویکیپیڈیا کی سب سے بڑی طاقت یہ ہے کہ متعدد انسانی ایڈیٹرز، حوالہ جات، اور شفافیت پر مبنی ماڈل موجود ہیں ، یعنی بہ آسانی معلوم ہو سکتا ہے کہ مضمون کس نے لکھا، کون اسے تبدیل کر سکتا ہے، کون سا ماخذ استعمال ہوا ہے۔ Grokipedia کے ماڈل میں یہ شفافیت کم نظر آتی ہے ، اگرچہ “حقائق جانچنے” کی مہر دکھائی جاتی ہے، مگر واضح نہیں کہ کس نے، کب، اور کس ڈیٹا کی بنیاد پر اس کی تصدیق کی۔ اس سے صارفین کے اعتماد میں کمی ہو سکتی ہے۔
تیسرا خطرہ جانب داری (bias) کا ہے۔ چونکہ Grokipedia کا ماڈل Grok ہے، اور Grok ٹویٹر کے مواد سے براہِ راست خوراک حاصل کرتا ہے، اس لیے صارفین کے تبصرے، رجحانات، نفسیاتی ٹرینڈز اور مخصوص آراء ماڈل کی بنیاد بن سکتی ہیں۔ ابھی شواہد مل چکے ہیں کہ Grokipedia نے ایسے مقالات پیش کیے ہیں جن میں ماحولیاتی تبدیلی کی سطح یا جنسی شناخت کے موضوعات پر روایتاً “دائیں بازو” والا نقطۂ نظر زیادہ غالب ہے۔  اس کا مطلب یہ ہے کہ “اعلی درجے کی شفافیت” کے دعوے کے باوجود، یہ ماڈل بھی کسی زاویے کا نمائندہ بن سکتا ہے۔
چوتھا نقطہ تصدیق اور ماخذ کی کمی ہے۔ مضامین کی کاپی ہونے کی نشاندہی کے مطابق Grokipedia نے بعض اوقات ویکیپیڈیا کے متن کو تقریباً نقل کیا ہے ، یہ مسئلہ اس ماڈل کی اصل “نئی تحقیق” یا “اصل علم” فراہم کرنے کی صلاحیت پر سوال اٹھاتا ہے۔  اس کا مطلب ہے کہ علم کا “صفر سے تخلیق” کا عمل ابھی مکمل نہیں ہوا۔
پانچواں، سافٹ ویئر اور ڈیٹا کنٹرول کا سوال ہے۔ چونکہ Grokipedia کا مواد مکمل طور پر ایک مصنوعی ذہانت ماڈل کے تحت ہے، اس لیے اسٹرکچرل خطرات جیسے ڈیٹا کی ترمیم، ماڈل کی تربیت، اور سرورز کے کنٹرول کا مسئلہ ہوسکتا ہے۔ کسی وقت یہ ماڈل کسی سرکاری، صنعتی یا ذاتی قوت کے زیرِ اثر آ سکتا ہے۔ 
ان تمام حقائق کے باوجود، Grokipedia کا منظرنامہ دلچسپ ہے۔ اگر یہ درست سمت میں جائے، تو ہمیں علم کے ایک نئے ماڈل کی طرف بڑھنا پڑے گا،وہ ماڈل جہاں تحریر کرنے والا صرف انسان نہیں بلکہ مشین بھی ہے، لیکن انسانی رہنمائی کے تحت۔ اس میں یہ فائدہ ہے کہ علم کی فراہمی زیادہ تیز، کم لاگت، اور ممکنہ طور پر زیادہ یونیورسل ہو سکتی ہے۔
لیکن یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ علم صرف دستیابی کی بات نہیں، بلکہ معیار کی بات ہے۔ اگر مضمون جلد دستیاب ہو جائے مگر غلط ہو، مخدوش ہو یا یکطرفہ ہو ، تو اس میں علم کا نقصان زیادہ ہے۔ اس لیے Grokipedia کو یہ ثابت کرنا ہے کہ وہ “انصاف، شفافیت، اور معیار” تینوں کو ایک ساتھ لے کر چل سکتا ہے۔
مزید یہ کہ اس کی کامیابی کا انحصار کمیونٹی کی شمولیت پر ہوگا۔ ویکیپیڈیا کی طاقت اس کی انسانی برادری میں ہے: رضاکار، ماہرین، حوالہ جات، اور تنقید کا عمل۔ اگر Grokipedia صرف مشین پر منحصر رہے، تو وہ وہ “تصدیق کا عمل” کھو سکتا ہے جو علم کو قابلِ بھروسہ بناتا ہے۔
آنے والے مہینے اور سال بتائیں گے کہ Grokipedia کا سفر کس سمت جائے گا۔ مسک نے وعدہ کیا ہے کہ ورژن 1.0 “10 گنا بہتر” ہوگا، یعنی ابھی یہ صرف آغاز ہے۔  ہمیں دیکھنا ہے کہ یہ وعدہ پورا ہوتا ہے یا نہیں۔
مختصر یہ کہ: Grokipedia ایک بڑا چیلنج ہے، ایک ممکنہ انقلاب ہے ، مگر ابھی اختتام نہیں۔ علم کا نیا میدان ہے جہاں مشین اور انسان مل کر کام کریں گے، مگر ابھی انسان کا فہم، تشویش اور تجزیہ زیادہ اہم ہے۔ اسے صرف “ایک نیا ویکیپیڈیا” نہ سمجھا جائے، بلکہ “علم کا نیا تجربہ” سمجھا جائے۔
“یہ تحریر اے آئی کی دنیا کے فیس بک پیج پر پوسٹ کی گئی ہے۔”