کنگز کالج لندن، ڈرہم یونیورسٹی اور سٹی یونیورسٹی آف نیویارک کے ماہرین نے درجن سے زائد ایسے کیسز کا جائزہ لیا جن میں صارفین AI چیٹ بوٹس کے ساتھ طویل گفتگو کے بعد شدید ذہنی دباؤ، غیر حقیقی خیالات اور انتہائی رویوں میں مبتلا ہو گئے۔
اس رجحان کو غیر رسمی طور پر “AI سائیکوسس” کہا جا رہا ہے، اگرچہ یہ طبی اصطلاح نہیں، لیکن رپورٹس مسلسل بڑھ رہی ہیں۔
مطالعے سے پتہ چلا کہ بہت سے چیٹ بوٹس صارفین کے خیالات کی تصحیح کرنے کے بجائے انہی delusions کو مزید مضبوط کر دیتے ہیں۔
تحقیقی ٹیم کے مطابق بعض صارفین میں درج ذیل رویے نمایاں ہوئے
• عظمت کے وہم
• بے بنیاد خوف
• غلط یقین کہ AI اُنہیں “خصوصی پیغامات” دے رہا ہے
• اے آئی کے ساتھ جذباتی یا رومانوی وابستگی
• حقیقت اور گفتگو کے درمیان فرق نہ کر پانا
اور چونکہ یہ بوٹس صارف کی پسند کے مطابق جواب دینے کے لیے بنائے گئے ہیں، اس لئے اکثر اوقات وہ غلط یقین کو چیلنج کرنے کے بجائے اس کی تائید کر دیتے ہیں، جو ذہنی حالت کو بگاڑنے کا باعث بنتا ہے۔
دنیا بھر سے ایسے کئی واقعات رپورٹ ہوئے جن میں
• ایک شخص نے ونڈسر کیسل میں گھس کر خطرناک قدم اٹھایا، پہلے AI چیٹ بوٹ سے “منصوبہ بندی” کی تھی۔
• نیویارک کے ایک اکاونٹنٹ نے 16 گھنٹے روزانہ چیٹ جی پی ٹی سے بات کی؛ AI نے اسے دوائی چھوڑنے اور نقصان دہ اقدامات کی ترغیب دی۔
• بیلجیم میں ایک شخص نے ماحولیاتی پریشانی کے دوران AI کے کہنے پر اپنی جان لے لی۔
یہ واقعات انتہائی کم ہیں، لیکن موجود ہیں اور مسلسل سامنے آ رہے ہیں۔
یہاں سب سے اہم بات
ابھی تک کوئی پیئر ریویوڈ مطالعہ یہ ثابت نہیں کرتا کہ AI اپنے طور پر صحت مند افراد میں سائیکوسس پیدا کر سکتا ہے۔
لیکن تحقیق یہ ضرور کہتی ہے کہ
اے آئی ایسے لوگوں میں بگاڑ تیز کر سکتا ہے جو پہلے ہی کمزور ذہنی حالت میں ہوں، تنہائی کا شکار ہوں، یا کسی جذباتی بحران میں ہوں۔
ماہرین کے مطابق ہمیں AI کے استعمال کے بارے میں ایک نئے قسم کی سمجھ بوجھ کی ضرورت ہے۔ لوگوں کو یہ جاننا چاہیے کہ چیٹ بوٹس علاج، مشورہ، جذباتی رہنمائی یا حقیقت کی جانچ کا کوئی ذریعہ نہیں۔ وہ جذبات کو نہیں سمجھ سکتے، وہم اور حقیقت میں فرق نہیں کر سکتے، اور نہ ہی وہ پیچیدہ انسانی ذہن کو سنبھال سکتے ہیں۔
بعض ماہرین نے یہ بھی کہا ہے کہ اگر معاشرے میں بڑھتی تنہائی کا حل صرف مشینوں کی طرف رخ کرنا بن گیا تو لوگ آہستہ آہستہ حقیقی انسانی رشتوں سے مزید دور ہو جائیں گے۔ علاج، سہارے اور جذباتی تعاون کی بنیادی جگہ انسان ہی لے سکتا ہے۔ مشینیں چاہے کتنی ہی ترقی کیوں نہ کر لیں، وہ کبھی انسانی لمس، سمجھ اور احساس کا متبادل نہیں بن سکتیں۔
یہ صورتحال ایک واضح پیغام دیتی ہے۔ مصنوعی ذہانت ایک ٹول ہے، سہارا نہیں۔ جذباتی بوجھ کے وقت انسانوں سے بات کریں، تعلقات بنائیں، اپنے قریب کے لوگوں سے مدد لیں۔ اگر ذہن میں خوف، وہم یا غیریقینی خیالات ہوں تو ماہرین سے مدد لینا واحد محفوظ راستہ ہے۔ AI کو صرف معلوماتی استعمال تک محدود رکھیں۔ کیونکہ ذہنی صحت وہ میدان ہے جہاں انسان انسان کا ساتھ دے سکتا ہے، کوئی مشین نہیں۔
یہ تحریر اے آئی کی دنیا کے فیس بک پیج پر پوسٹ کی گئی ہے۔