جمعہ، 17 جولائی 2026
اے آئی کی دنیا

مصنوعی ذہانت کی خبریں، ٹولز اور معلومات

خبریں

کیا 2026 چین کے اے آئی ماڈلز کا سال ہوگا؟Wired کی رپورٹ

28 دسمبر 2025

کیا 2026 چین کے اے آئی ماڈلز کا سال ہوگا؟Wired  کی رپورٹ

ٹیکنالوجی کے معروف جریدے Wired نے اپنی تازہ رپورٹ میں یہ دعویٰ کیا ہے کہ سال 2026 میں مصنوعی ذہانت کی دنیا پر امریکی ماڈلز کے بجائے چین کے Alibaba کے تیار کردہ Qwen ماڈلز کا غلبہ ہو سکتا ہے۔ اس تجزیے کو عالمی اے آئی منظرنامے میں ایک بڑی تبدیلی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جہاں طویل عرصے سے برتری رکھنے والے امریکی ماڈلز کو پہلی بار سنجیدہ مقابلے کا سامنا ہے۔

رپورٹ کے مطابق Qwen ماڈلز کی تیز رفتار قبولیت محض تجرباتی یا تحقیقی سطح تک محدود نہیں رہی بلکہ یہ حقیقی مصنوعات اور سروسز میں براہِ راست استعمال ہو رہے ہیں۔ چین کے شہر ہانگژو میں قائم ایک اسٹارٹ اپ کے اسمارٹ گلاسز میں Qwen کی مدد سے حقیقی وقت میں ترجمہ ممکن بنایا گیا ہے، جہاں مینڈرن زبان کی گفتگو فوراً انگریزی میں صارف کی آنکھ کے سامنے شفاف اسکرین پر ظاہر ہو جاتی ہے۔ ماہرین کے نزدیک یہ وہ عملی استعمال ہے جس کی کمی پر امریکی ماڈلز کو تنقید کا سامنا رہا ہے۔

اس کے برعکس، رپورٹ میں OpenAI کے GPT-5 ماڈل پر بھی سخت سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ اگست 2025 میں جاری ہونے والے GPT-5 سے غیر معمولی توقعات وابستہ تھیں، تاہم صارفین اور محققین نے اس کے انداز کو غیر متاثر کن اور بنیادی نوعیت کی غلطیوں سے بھرپور قرار دیا۔ اسی طرح Meta کا Llama 4 بھی خاطر خواہ اثر ڈالنے میں ناکام رہا، جس کے باعث امریکی اے آئی برتری پر اعتماد کمزور ہوا۔

دوسری جانب Qwen ماڈلز کی مقبولیت کے اعداد و شمار نمایاں طور پر مختلف تصویر پیش کرتے ہیں۔ ڈیولپر پلیٹ فارم HuggingFace کے مطابق جولائی 2025 میں پہلی بار چینی اے آئی ماڈلز ڈاؤن لوڈز میں امریکی ماڈلز سے آگے نکل گئے، جن میں نصف سے زائد حصہ Qwen کا تھا۔ مجموعی طور پر Qwen ماڈلز 600 ملین سے زیادہ بار ڈاؤن لوڈ ہو چکے ہیں، جو ان کی عالمی رسائی کو ظاہر کرتا ہے۔

دلچسپ طور پر Qwen کو صرف چینی کمپنیوں تک محدود نہیں رکھا گیا۔ Airbnb کے سی ای او نے اعتراف کیا کہ ان کی کمپنی بڑی حد تک Qwen پر انحصار کر رہی ہے کیونکہ یہ ماڈلز تیز، کم لاگت اور عملی ضروریات کے زیادہ قریب ہیں۔ اسی طرح Nvidia، Perplexity اور BYD بھی Qwen کو اپنی مصنوعات اور نظاموں میں ضم کر چکے ہیں، جبکہ اطلاعات کے مطابق Meta بھی اپنے ایک نئے ماڈل کی تربیت میں Qwen کا استعمال کر رہی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ Qwen کی کامیابی کی ایک بڑی وجہ اس کا اوپن ویٹ ڈیزائن ہے، جو ڈیولپرز کو ماڈل اپنی ضرورت کے مطابق ڈھالنے کی آزادی دیتا ہے۔ اسی وجہ سے Qwen ٹیم کو 2025 میں عالمی سطح کی اے آئی کانفرنس NeurIPS میں بہترین تحقیقی مقالے کا اعزاز بھی ملا۔ اس کے ساتھ ساتھ ایک اور چینی اسٹارٹ اپ DeepSeek نے کم کمپیوٹنگ پاور میں اعلیٰ کارکردگی دکھا کر امریکی ماڈلز کے لیے دباؤ مزید بڑھا دیا ہے۔

رپورٹ کا اختتام اس نکتے پر ہوتا ہے کہ مصنوعی ذہانت کو صرف بینچ مارکس کی بنیاد پر نہیں بلکہ اس بات سے جانچا جانا چاہیے کہ وہ حقیقی دنیا میں کتنی وسیع پیمانے پر استعمال ہو رہی ہے۔ اس معیار پر دیکھا جائے تو Qwen اور دیگر چینی اوپن ماڈلز تیزی سے آگے بڑھتے دکھائی دیتے ہیں، اور یہی رجحان 2026 میں عالمی اے آئی طاقت کا توازن بدل سکتا ہے۔

یہ تحریر اے آئی کی دنیا کے فیس بک پیج پر پوسٹ کی گئی ہے۔

اس تحریر پر فیس بک پر تبصرہ کریں

مزید پڑھیں