اے آئی اور روبوٹکس کی دنیا میں ایک بار پھر مستقبل سے متعلق ایک جرات مندانہ دعویٰ سامنے آیا ہے۔ CES 2026 کے دوران گفتگو کرتے ہوئے Jensen Huang نے کہا ہے کہ ہیومینائیڈ روبوٹس اسی سال انسانی سطح کی صلاحیتوں تک پہنچ سکتے ہیں۔ یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب دنیا بھر کی ٹیک کمپنیاں انسان جیسی حرکت، توازن اور فیصلے کرنے والے روبوٹس کو حقیقت بنانے کی دوڑ میں شامل ہیں۔
لاس ویگاس میں ہونے والی اس نمائش کے دوران NVIDIA کے سی ای او نے اعتماد کے ساتھ کہا کہ ٹیکنالوجی جس رفتار سے آگے بڑھ رہی ہے، اس کے نتائج بہت جلد سب کے سامنے ہوں گے۔ ان کے مطابق روبوٹس کو اب صرف پروگرام نہیں کیا جا رہا بلکہ انہیں ورچوئل ماحول میں تربیت دی جا رہی ہے، جہاں وہ لاکھوں تجربات سے سیکھ کر حقیقی دنیا میں کام کے قابل بنتے ہیں۔ یہی وہ بنیاد ہے جس پر این ویڈیا کے پلیٹ فارمز روبوٹکس انقلاب میں مرکزی کردار ادا کر رہے ہیں۔
نمائش میں پیش کیے گئے روبوٹس قدرتی انداز میں چلنے، اردگرد کے ماحول کو سمجھنے اور بنیادی کام انجام دینے کی صلاحیت دکھا رہے تھے۔ یہ مظاہرے اس بات کا اشارہ ہیں کہ ذہانت کے معاملے میں مشینیں تیزی سے انسان کے قریب پہنچ رہی ہیں۔ تاہم، یہاں تصویر کا دوسرا رخ بھی موجود ہے۔
ماہرین کے مطابق اصل مسئلہ اب سوچنے یا فیصلہ کرنے کا نہیں بلکہ جسمانی مہارت کا ہے۔ انسانی ہاتھ اور انگلیاں ہزاروں سینسرز پر مشتمل ہوتی ہیں، جو دباؤ، زاویے اور گرفت کو انتہائی باریکی سے کنٹرول کرتی ہیں۔ موجودہ روبوٹک ہاتھ سادہ اشیاء کو تو تقریباً مکمل کامیابی سے پکڑ لیتے ہیں، مگر پیچیدہ اشیاء جیسے چمچ، سکریو ڈرائیور یا نازک پرزوں کے ساتھ کامیابی کی شرح نمایاں طور پر کم ہو جاتی ہے۔
اسی حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے روبوٹکس کے کئی ماہرین نے کہا ہے کہ چھوٹے، طاقتور اور انتہائی درست ایکچیویٹرز اور موٹرز کی کمی اس وقت سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ یہاں تک کہ کچھ ماہرین کا خیال ہے کہ انسانی سطح کی مہارت حاصل کرنے میں ابھی ایک دہائی یا اس سے بھی زیادہ وقت لگ سکتا ہے، چاہے اے آئی سافٹ ویئر جتنا بھی آگے کیوں نہ چلا جائے۔
روبوٹس کے انسانی سطح تک پہنچنے کے دعوے کے ساتھ ایک اور بحث بھی تیزی سے شدت اختیار کر رہی ہے، اور وہ ہے روزگار پر اثرات۔ جینسن ہوانگ کا مؤقف ہے کہ روبوٹس نوکریاں ختم نہیں کریں گے بلکہ نئی نوکریاں پیدا کریں گے۔ ان کے مطابق دنیا کی آبادی میں کمی اور لاکھوں خالی آسامیوں کے باعث ہمیں “اے آئی امیگرنٹس” کی ضرورت ہے جو ان خلا کو پُر کر سکیں۔
دوسری جانب، اعداد و شمار ایک زیادہ پیچیدہ تصویر پیش کرتے ہیں۔ حالیہ رپورٹس کے مطابق صرف 2025 میں دسیوں ہزار ملازمتوں کے خاتمے کی وجہ اے آئی کو قرار دیا گیا۔ کئی ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگرچہ پیداواری صلاحیت بڑھے گی، مگر اس کا فائدہ چند کمپنیوں اور افراد تک محدود ہو سکتا ہے، جبکہ عام ورک فورس کو غیر یقینی مستقبل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
مزید یہ کہ کچھ بڑی روبوٹکس کمپنیاں پہلے ہی اعلان کر چکی ہیں کہ ان کے ہیومینائیڈ روبوٹس 2026 سے فیکٹریوں میں عملی طور پر تعینات کیے جائیں گے، اور اگلے چند برسوں میں ان کا دائرہ مزید وسیع ہو سکتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بحث اب نظریاتی نہیں رہی بلکہ عملی سطح پر اثر انداز ہونے والی ہے۔
چاہے ہیومینائیڈ روبوٹس واقعی اسی سال انسانی سطح تک پہنچیں یا نہیں، ایک بات واضح ہو چکی ہے: روبوٹس اور اے آئی اب مستقبل کی کہانی نہیں رہے۔ وہ آہستہ آہستہ معیشت، صنعت اور روزمرہ زندگی کا حصہ بن رہے ہیں۔ اصل سوال یہ نہیں کہ یہ تبدیلی آئے گی یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ ہم بطور معاشرہ اس کے لیے کس حد تک تیار ہیں۔
یہ تحریر اے آئی کی دنیا کے فیس بک پیج پر پوسٹ کی گئی ہے
#AiKiDuniya, #HumanoidRobots, #NVIDIA, #JensenHuang, #CES2026, #Robotics, #ArtificialIntelligence, #FutureOfWork