جمعہ، 17 جولائی 2026
اے آئی کی دنیا

مصنوعی ذہانت کی خبریں، ٹولز اور معلومات

تجزیے

کیا ہم لینگویج ماڈلز کے اختتام کے آغاز کو دیکھ رہے ہیں؟

29 دسمبر 2025

کیا ہم لینگویج ماڈلز کے اختتام کے آغاز کو دیکھ رہے ہیں؟

میٹا کے چیف اے آئی سائنسدان Yann LeCun کی جانب سے جاری ہونے والا نیا ریسرچ پیپر خاموشی سے ایک بڑے سوال کو جنم دے رہا ہے: کیا ہم لینگویج ماڈلز کے اختتام کے آغاز کو دیکھ رہے ہیں؟ اس تحقیق نے صرف ایک نیا ماڈل پیش نہیں کیا بلکہ مصنوعی ذہانت کی بنیادی سمت پر بھی سوال اٹھا دیا ہے، وہ سمت جس پر گزشتہ برسوں سے پوری انڈسٹری چل رہی تھی۔

یہ پیپر VL-JEPA نامی ویژن لینگویج ماڈل پر مبنی ہے، جو Joint Embedding Predictive Architecture (JEPA) کا تسلسل ہے اور Meta FAIR کے محققین نے تیار کیا ہے۔ اس ماڈل کی سب سے انقلابی بات یہ ہے کہ یہ جنریٹو نہیں ہے۔ یعنی یہ چیٹ جی پی ٹی جیسے ماڈلز کی طرح لفظ بہ لفظ جواب پیدا نہیں کرتا بلکہ براہِ راست معنی کو سمجھتا ہے۔ یہ تصاویر اور ویڈیوز کو دیکھ کر پہلے اندرونی فہم بناتا ہے اور صرف ضرورت پڑنے پر زبان کو آؤٹ پٹ کے طور پر استعمال کرتا ہے۔

روایتی لینگویج ماڈلز ٹوکنز میں سوچتے ہیں۔ انہیں جواب جاننے کے لیے پورا جملہ پیدا کرنا پڑتا ہے۔ اس کے برعکس VL-JEPA ایک خاموش معنوی حالت میں کام کرتا ہے۔ یہ سوچنے کے لیے بولنے کا محتاج نہیں۔ یہی وہ فلسفہ ہے جس پر یان لیکون برسوں سے زور دیتے آ رہے ہیں کہ زبان خود ذہانت نہیں، بلکہ صرف اظہار کا ایک ذریعہ ہے، اصل ذہانت دنیا کو سمجھنے میں ہے۔

یہ فرق ویڈیو فہم میں خاص طور پر واضح ہو جاتا ہے۔ سستے ویژن ماڈلز ہر فریم کو الگ الگ دیکھ کر فوری لیبل لگا دیتے ہیں، جس سے نتائج غیر مستحکم اور غلط ہو سکتے ہیں۔ جبکہ VL-JEPA وقت کے ساتھ معنی کو ٹریک کرتا ہے۔ ابتدا میں سرخ نقطے عارضی اندازے دکھاتے ہیں، مگر جیسے ہی کافی شواہد جمع ہوتے ہیں، نیلا نقطہ ایک مستحکم فہم کی نمائندگی کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ ماڈل محض “بوتل” نہیں کہتا بلکہ پورے عمل کو سمجھ کر بتاتا ہے کہ “کنستر اٹھایا جا رہا ہے”۔

یہ صلاحیت روبوٹکس، ویئرایبل ڈیوائسز، اور حقیقی دنیا کے ایجنٹس کے لیے نہایت اہم ہے۔ کیونکہ یہاں مسئلہ اشیاء کو دیکھنے کا نہیں بلکہ عمل، وقت اور تسلسل کو سمجھنے کا ہے۔ VL-JEPA کم پیرامیٹرز کے ساتھ بہتر نتائج دیتا ہے، تیزی سے سیکھتا ہے، اور بغیر ٹوکن جنریشن کے ویڈیوز کو زیادہ مؤثر انداز میں سمجھ لیتا ہے۔

یان لیکون خود اس نکتے پر بارہا زور دے چکے ہیں کہ چار سالہ بچہ اتنا بصری ڈیٹا دیکھ لیتا ہے جتنا بڑے لینگویج ماڈلز پوری انسانیت کے متن سے سیکھتے ہیں، مگر پھر بھی ہم گھریلو روبوٹ نہیں بنا سکے۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ ہم دنیا کو غلط سطح پر ماڈل کر رہے ہیں۔ JEPA اسی مسئلے کو حل کرنے کی کوشش ہے، یعنی دنیا کو اس سطح پر سمجھنا جو منصوبہ بندی اور عمل کے لیے ضروری ہو، نہ کہ ایٹمز تک جا کر۔

اگرچہ ناقدین یہ بھی کہتے ہیں کہ ابتدائی ڈیموز میں ماڈل کی پیش گوئیاں کئی بار غلط ہوتی ہیں، مگر اصل اہمیت درستگی سے زیادہ سمت کی ہے۔ یہ تحقیق چیٹ بوٹس کی دوڑ سے ہٹ کر حقیقی فہم، خاموش استدلال اور معنوی سوچ کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ ممکن ہے یہ لینگویج ماڈلز کے بعد کا دور ہو، جہاں اے آئی الفاظ میں نہیں بلکہ معنی میں سوچے گی۔
یہ تحریر اے آئی کی دنیا کے فیس بک پیج پر پوسٹ کی گئی ہے
#AiKiDuniya,#AIResearch,#MetaAI,#YannLeCun,#JEPA,#VisionLanguageModel,#FutureOfAI

اس تحریر پر فیس بک پر تبصرہ کریں

مزید پڑھیں