بیسویں صدی کے عظیم ریاضی دان Paul Erdős نے اپنی زندگی میں ایسے پیچیدہ سوالات اور قیاسات پیش کیے جو دہائیوں تک دنیا کے بہترین ذہنوں کے لیے ایک چیلنج بنے رہے۔ ان مسائل کو حل کرنا صرف ریاضیاتی مہارت نہیں بلکہ تخلیقی بصیرت کی بھی آزمائش سمجھا جاتا تھا۔ طویل عرصے تک یہ تصور عام تھا کہ ایسے مسائل صرف انسان ہی حل کر سکتا ہے، مگر اب اس یقین کو مصنوعی ذہانت نے ہلا کر رکھ دیا ہے۔
اسی ماہ ایک امریکی اے آئی اسٹارٹ اپ Harmonic نے اعلان کیا کہ اس کے تیار کردہ اے آئی سسٹم Aristotle نے ایک Erdos مسئلہ حل کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔ اس عمل میں اسے OpenAI کی جدید ٹیکنالوجی GPT-5.2 Pro سے مدد ملی۔ یہ خبر ریاضی اور کمپیوٹر سائنس کے حلقوں میں تیزی سے پھیل گئی، کیونکہ بہت سے ماہرین کے نزدیک یہ پہلا واضح اشارہ تھا کہ اے آئی اب سنجیدہ تعلیمی تحقیق کی سطح تک پہنچ چکی ہے۔
کئی سائنس دانوں اور ریاضی دانوں کے مطابق Erdos مسائل میں پیش رفت اس بات کا ثبوت ہے کہ مصنوعی ذہانت اب صرف ڈیٹا دہرانے کا آلہ نہیں رہی بلکہ وہ تحقیق کے عمل میں عملی کردار ادا کر سکتی ہے۔ تاہم یہ خوش فہمی سب نے یکساں طور پر قبول نہیں کی۔ Terence Tao جو دنیا کے ممتاز ترین ریاضی دانوں میں شمار ہوتے ہیں، اس پیش رفت کو ایک ذہین طالب علم سے تشبیہ دیتے ہیں جو بہت کچھ یاد تو کر لیتا ہے مگر مفہوم کی گہرائی تک نہیں پہنچ پاتا۔ ان کے مطابق اے آئی کے پاس اتنا وسیع پس منظر موجود ہے کہ وہ بظاہر فہم کا تاثر دے سکتی ہے، چاہے اصل ادراک محدود ہی کیوں نہ ہو۔
یہ بحث دراصل ایک بنیادی سوال کو جنم دیتی ہے۔ کیا اے آئی واقعی کوئی نیا خیال تخلیق کر رہی ہے یا وہ صرف انسانوں کے پہلے سے موجود کام کو بہتر انداز میں جوڑ رہی ہے۔ یہی سوال مستقبل میں سائنسی تحقیق کی سمت کا تعین کرے گا۔ اس کے باوجود ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ اے آئی بطور ٹول غیر معمولی طاقت حاصل کر چکی ہے۔ یہ سسٹمز انسانی دماغ سے کہیں زیادہ معلومات محفوظ کر سکتے ہیں اور وہ مواد سامنے لا سکتے ہیں جو برسوں پرانی تحقیق میں کہیں دب چکا ہو۔
اسی تناظر میں Derya Unutmaz جو Jackson Laboratory سے وابستہ ہیں، کا کہنا ہے کہ جدید اے آئی سسٹمز اب ایسے تجربات یا مفروضے تجویز کر دیتے ہیں جن پر سائنس دانوں نے پہلے غور ہی نہیں کیا ہوتا۔ ان کے مطابق یہ براہ راست دریافت نہیں بلکہ تحقیق کی سمت متعین کرنے میں ایک طاقتور مدد ہے، جو پچاس تجربات کے بجائے صرف پانچ مؤثر تجربات تک محدود کر دیتی ہے۔
جی پی ٹی-5 کی ریاضیاتی صلاحیتوں پر توجہ اس وقت بڑی ھی جب Kevin Weil نے سوشل میڈیا پر دعویٰ کیا کہ اس ٹیکنالوجی نے کئی Erdos مسائل حل کر لیے ہیں۔ بعد ازاں ماہرین نے نشاندہی کی کہ ان میں سے بعض حل پہلے سے موجود تحقیقی مقالوں میں ملتے ہیں، جن میں کچھ جرمن زبان میں بھی تھے۔ اگرچہ ابتدائی دعوے پر نظرثانی کی گئی، مگر اس حقیقت سے انکار ممکن نہ رہا کہ اے آئی نے ایسی تحقیق سامنے لا دی جو انسانی ماہرین کی نظروں سے اوجھل رہی تھی۔
اسی عمل کو Thomas Bloom جو University of Manchester سے وابستہ ہیں، ایک عملی کامیابی قرار دیتے ہیں۔ ان کے مطابق اگر کوئی گریجویٹ طالب علم ایسا ہی حل پیش کرتا تو وہ اسے علمی جریدے میں شائع کرنے کا مشورہ دیتے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اے آئی کی پیدا کردہ تحقیق کم از کم بنیادی تعلیمی معیار پر پوری اترتی ہے۔
اس پیش رفت کے پیچھے ٹیکنالوجی کی ارتقا کی ایک طویل کہانی ہے۔ جدید اے آئی سسٹمز نیورل نیٹ ورکس پر مبنی ہیں جو متن، آواز اور تصاویر میں پیٹرنز شناخت کر کے خود سیکھتے ہیں۔ پچھلے ڈیڑھ سال میں ری انفورسمنٹ لرننگ جیسی تکنیکوں نے ان سسٹمز کو اس قابل بنایا ہے کہ وہ پیچیدہ مسائل پر طویل وقت تک کام کریں اور مختلف راستے آزما سکیں۔ یہی وجہ ہے کہ اب یہ سسٹمز ریاضی، سائنس اور پروگرامنگ میں بظاہر استدلال جیسی صلاحیت دکھا رہے ہیں۔
اس کے باوجود ایک حقیقت برقرار ہے۔ اے آئی اکیلے کام نہیں کر سکتی۔ انسانی ماہر کی رہنمائی، سوالات کی درست تشکیل اور نتائج کی چھان بین اب بھی ناگزیر ہے۔ خود محققین کے مطابق اے آئی ایک تجربہ کار ساتھی کی طرح ہے، مگر فیصلہ اور فہم کی آخری ذمہ داری انسان پر ہی آتی ہے۔
یوں Erdos مسائل پر اے آئی کی پیش رفت ہمیں کسی حتمی نتیجے سے زیادہ ایک عبوری حقیقت دکھاتی ہے۔ شاید اے آئی ابھی انسانی تخلیق کی جگہ نہ لے سکے، مگر یہ طے ہے کہ اس نے تحقیق کے عمل کو تیز، وسیع اور زیادہ قابلِ رسائی بنا دیا ہے۔ آنے والے برسوں میں اصل سوال یہ نہیں ہو گا کہ اے آئی تحقیق کر سکتی ہے یا نہیں، بلکہ یہ ہو گا کہ انسان اس طاقتور اوزار کو کس حد تک سمجھداری سے استعمال کرتا ہے۔
ماخذ: The New York Times (Cade Metz)
یہ تحریر اے آئی کی دنیا کے فیس بک پیج پر پوسٹ کی گئی ہے
#AiKiDuniya, #ArtificialIntelligence, #Mathematics, #Research, #FutureOfScience, #AIDevelopment