جمعہ، 17 جولائی 2026
اے آئی کی دنیا

مصنوعی ذہانت کی خبریں، ٹولز اور معلومات

خبریں

کیا لینگویج ماڈلز دنیا کو سمجھنے لگے ہیں؟

2 جنوری 2026

کیا لینگویج ماڈلز دنیا کو سمجھنے لگے ہیں؟

چین کی Southern University of Science and Technology، Microsoft Research، Princeton University اور دیگر اداروں کے محققین نے یہ ثابت کیا ہے کہ جدید لینگویج ماڈلز نہ صرف متن پیدا کر سکتے ہیں بلکہ وہ “ورلڈ سمیولیٹر” کے طور پر بھی کام کر سکتے ہیں۔

تحقیق کے مطابق Qwen2.5-7B اور Llama 3.1-8B جیسے ماڈلز کو جب مخصوص ماحول پر فائن ٹیون کیا گیا تو وہ اس ماحول کی آئندہ حالت کی پیش گوئی 99 فیصد تک درستگی کے ساتھ کرنے کے قابل ہو گئے، خاص طور پر ایسے اسٹرکچرڈ سیٹنگز میں جہاں قوانین واضح ہوں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اے آئی ایجنٹس اب صرف ہدایات پڑھ کر نہیں بلکہ “دنیا کے اندر رہ کر” سیکھ سکتے ہیں، چاہے وہ دنیا ورچوئل ہی کیوں نہ ہو۔

یہ نتائج اس بڑے صنعتی رجحان کی تائید کرتے ہیں جسے David Silver اور Richard Sutton نے “Era of Experience” کا نام دیا ہے۔ اس تصور کے مطابق مستقبل کی اے آئی سسٹمز جامد، انسانوں کے بنائے ہوئے ڈیٹا سیٹس پر انحصار کرنے کے بجائے خود ماحول کے ساتھ تعامل کے ذریعے سیکھیں گی۔ یعنی اے آئی کو محض کتابیں نہیں پڑھائی جائیں گی بلکہ اسے تجربہ حاصل کرنے دیا جائے گا۔

تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا کہ گھریلو کاموں جیسے اسٹرکچرڈ ماحول، جہاں چیزیں محدود اور اصول واضح ہوتے ہیں، وہاں ماڈلز نے ملٹی اسٹیپ تعاملات میں 90 فیصد سے زیادہ مطابقت دکھائی۔ اس کے برعکس ای کامرس جیسے اوپن اینڈڈ ماحول، جہاں صارفین کا رویہ غیر متوقع ہوتا ہے، وہاں یہ مطابقت تقریباً 70 فیصد رہی۔ تاہم جیسے ہی ان سمیولیشنز کو حقیقی مشاہدات سے گراؤنڈ کیا گیا، درستگی تقریباً 100 فیصد تک پہنچ گئی۔ یہ نکتہ خاص طور پر اہم ہے کیونکہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ خالص تصوراتی سمیولیشن اور حقیقی دنیا کے ڈیٹا کا امتزاج اے آئی کو کہیں زیادہ مضبوط بنا سکتا ہے۔

یہ پیش رفت اس خیال کو تقویت دیتی ہے کہ بڑے لینگویج ماڈلز صرف “ٹیکسٹ مشینیں” نہیں رہے۔ وہ اب ایسے سسٹمز بن رہے ہیں جو دنیا کے اصول، ترتیب اور نتائج کو اندرونی طور پر ماڈل کر سکتے ہیں۔ یہی صلاحیت مستقبل میں زیادہ خودمختار ایجنٹس، بہتر روبوٹکس، اور حقیقی دنیا میں قابلِ اعتماد اے آئی فیصلوں کی بنیاد بن سکتی ہے۔ اگر یہ رجحان جاری رہا تو آنے والے برسوں میں اے آئی کی تربیت کا مرکز ڈیٹا سے ہٹ کر تجربے کی طرف منتقل ہوتا دکھائی دے گا۔
یہ تحریر اے آئی کی دنیا کے فیس بک پیج پر پوسٹ کی گئی ہے
#AiKiDuniya,#ArtificialIntelligence,#WorldModels,#AIAgents,#EraOfExperience,#MachineLearning,#FutureOfAI

اس تحریر پر فیس بک پر تبصرہ کریں

مزید پڑھیں