انتھروپک Anthropic کے چیف پروڈکٹ آفیسر Mike Krieger نے دعوی کیا ہے کہ کمپنی کے اندر تقریباً سارا کوڈ اب اس کے اپنے اے آئی سسٹم Claude کے ذریعے لکھا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق انجینئرز باقاعدگی سے ایسے پل ریکویسٹس شپ کر رہے ہیں جن میں دو سے تین ہزار لائنز تک کا کوڈ مکمل طور پر اے آئی نے تیار کیا ہوتا ہے۔
یہ بات محض ایک اچانک دعویٰ نہیں بلکہ ایک پیش گوئی کی عملی شکل ہے۔ ایک سال قبل Dario Amodei نے یہ کہا تھا کہ جلد ہی نوے فیصد کوڈ اے آئی لکھے گی، اور اُس وقت اس بات کو حد سے زیادہ جرات مندانہ سمجھا گیا تھا۔ آج Anthropic کے اندرونی تجربے نے یہ دکھا دیا ہے کہ وہ پیش گوئی نہ صرف درست تھی بلکہ حقیقت اس سے بھی آگے نکل چکی ہے۔ جہاں پہلے ستر سے نوے فیصد تک بات کی جا رہی تھی، اب یہ شرح عملی طور پر سو فیصد کے قریب پہنچ چکی ہے۔
اس تبدیلی کے ساتھ انجینئر کے کردار میں بھی بنیادی فرق آ گیا ہے۔ اب کام لائن بہ لائن کوڈ لکھنے کا نہیں رہا بلکہ مجموعی ڈیزائن، سمت کے تعین، کوڈ کی جانچ اور اسٹریٹجک فیصلوں پر مرکوز ہو گیا ہے۔ Anthropic کی اپنی تحقیق کے مطابق ملازمین روزمرہ کام میں Claude کا استعمال نمایاں حد تک کر رہے ہیں، جس کے نتیجے میں پیداواری صلاحیت میں پچاس فیصد سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ یہ اضافہ صرف رفتار کا نہیں بلکہ کام کی نوعیت کا بھی ہے۔
Claude Code کی خودمختاری میں بھی نمایاں بہتری آئی ہے۔ کچھ عرصہ پہلے تک یہ ٹول محدود ایکشنز کے بعد انسانی مداخلت کا محتاج ہوتا تھا، مگر اب یہ کہیں زیادہ اقدامات خود انجام دے سکتا ہے۔ کمپنی کے اندر ایسے انجینئر بھی ہیں جنہوں نے مہینوں سے خود ایک لائن کوڈ نہیں لکھی، بلکہ مکمل پروجیکٹس صرف اے آئی کے ذریعے شپ کیے ہیں۔ ان کے مطابق تھکا دینے والا اور تکراری کام اے آئی نے سنبھال لیا ہے، جبکہ انسان کو تخلیقی فیصلوں کا وقت ملا ہے۔
یہ پیش رفت پوری انڈسٹری کے لیے سوالات بھی کھڑے کر رہی ہے۔ اگر ایک جدید اے آئی لیب میں کوڈنگ تقریباً مکمل طور پر خودکار ہو سکتی ہے تو باقی دنیا میں اس کا کیا مطلب ہوگا؟ ابھی دیگر بڑی ٹیک کمپنیوں میں یہ شرح کہیں کم ہے، مگر فرق تیزی سے گھٹ رہا ہے۔ خود Satya Nadella اس بات کی نشاندہی کر چکے ہیں کہ ان کی کمپنی میں بھی قابلِ ذکر مقدار میں کوڈ اے آئی کے ذریعے تیار ہو رہا ہے، جو آنے والے وقت کی سمت واضح کرتا ہے۔
اس کے ساتھ کچھ احتیاطی نکات بھی سامنے آتے ہیں۔ اے آئی اگرچہ کوڈ لکھ رہی ہے، مگر انسانی کردار ختم نہیں ہوا۔ پرامپٹس کی تیاری، سسٹم ڈیزائن، اور کوڈ کی حتمی جانچ آج بھی انسان کے ذمے ہے۔ اس کے باوجود سرمایہ کاروں اور مارکیٹ نے اس خبر کو سنجیدگی سے لیا ہے، خاص طور پر اُن آئی ٹی سروس کمپنیوں کے لیے جن کا کاروبار روایتی سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ پر کھڑا ہے۔
مجموعی طور پر یہ لمحہ اس بات کی علامت ہے کہ ہم سافٹ ویئر کی دنیا میں ایک نئے دور میں داخل ہو چکے ہیں۔ کوڈ لکھنا اب مرکزی مہارت نہیں رہا، بلکہ درست سوال پوچھنا، نظام کو سمجھنا اور سمت دینا اصل طاقت بنتا جا رہا ہے۔ Anthropic کے اندر جو کچھ ہو رہا ہے، وہ ممکنہ طور پر آنے والے کل کی جھلک ہے، جہاں اے آئی کوڈ لکھے گی اور انسان معنی، مقصد اور ذمہ داری طے کرے گا۔
یہ تحریر اے آئی کی دنیا کے فیس بک پیج پر پوسٹ کی گئی ہے
#AiKiDuniya, #Anthropic, #ClaudeAI, #ArtificialIntelligence, #AICoding, #FutureOfWork, #SoftwareEngineering, #AIResearch