مصنوعی ذہانت کی صنعت میں ایک غیر معمولی بحث نے جنم لیا ہے، اور دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ بحث کسی ناقد یا حکومتی ادارے نے نہیں بلکہ خود دنیا کی بڑی اے آئی کمپنیوں میں سے ایک نے چھیڑی ہے۔
انتھروپک کے اعلیٰ عہدیداروں نے ایک نئے مضمون میں مطالبہ کیا ہے کہ جدید ترین مصنوعی ذہانت کے نظاموں کی ترقی کو سست کیا جائے یا عارضی طور پر روک دیا جائے تاکہ حفاظتی تحقیق کو آگے بڑھنے کا وقت مل سکے۔
کمپنی کا مؤقف ہے کہ مصنوعی ذہانت اب ایسے مرحلے کے قریب پہنچ رہی ہے جہاں نظام خود اپنی صلاحیتوں کو بہتر بنانے کے قابل ہو سکتے ہیں۔ اگر ایسا ہوا تو ترقی کی رفتار انسانی نگرانی اور کنٹرول سے آگے نکل سکتی ہے۔
انتھروپک نے اس صورتحال کا موازنہ جوہری ہتھیاروں کے کنٹرول سے کیا ہے، جہاں طاقتور ٹیکنالوجی کی ترقی کے ساتھ حفاظتی اصول اور عالمی نگرانی بھی ضروری سمجھی جاتی ہے۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کمپنی خود اسٹاک مارکیٹ میں آنے کی تیاری کر رہی ہے اور حال ہی میں خفیہ طور پر آئی پی او دستاویزات جمع کرا چکی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ ناقدین اس مطالبے کو مختلف زاویوں سے دیکھ رہے ہیں۔
کچھ ماہرین کا کہنا ہے کہ کمپنی حقیقی حفاظتی خدشات اٹھا رہی ہے، جبکہ بعض ناقدین کے مطابق ایسی تجاویز نئی یا چھوٹی کمپنیوں کے لیے رکاوٹ بن سکتی ہیں اور موجودہ بڑے کھلاڑیوں کو مزید فائدہ پہنچا سکتی ہیں۔
انتھروپک کے چیف ایگزیکٹو ڈاریو امودی پہلے بھی خبردار کر چکے ہیں کہ انتہائی طاقتور مصنوعی ذہانت کے باعث تباہ کن نتائج کا امکان موجود ہے۔ ان کے مطابق ایسے نتائج کے امکانات کو مکمل طور پر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
مصنوعی ذہانت کی صنعت آج ایک عجیب تضاد کا شکار نظر آتی ہے۔
ایک طرف کمپنیاں پہلے سے زیادہ طاقتور ماڈلز بنانے کی دوڑ میں شامل ہیں، اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری حاصل کر رہی ہیں اور مارکیٹ میں برتری کے لیے مقابلہ کر رہی ہیں۔
دوسری طرف وہی کمپنیاں خبردار بھی کر رہی ہیں کہ ترقی کی رفتار شاید اتنی تیز ہو چکی ہے کہ انسانوں کے پاس اس کے اثرات کو سمجھنے اور محفوظ بنانے کے لیے کافی وقت نہیں بچ رہا۔
اب سوال صرف یہ نہیں کہ اگلا اے آئی ماڈل کتنا طاقتور ہوگا۔
اصل سوال یہ بنتا جا رہا ہے کہ کیا انسان مصنوعی ذہانت کی رفتار کے ساتھ قدم ملا کر چل بھی سکے گا یا نہیں۔
یہ تحریر اے آئی کی دنیا کے فیس بک پیج پر پوسٹ کی گئی ہے
حوالہ: Reuters، The Telegraph، Censinet