گزشتہ چند برسوں میں مصنوعی ذہانت کے گرد بننے والی توقعات اور دعوے اب آہستہ آہستہ زمینی حقیقت سے ٹکرا رہے ہیں۔ جن مسائل کو ابتدا میں عارضی سمجھا گیا تھا، وہ اب مستقل نوعیت اختیار کرتے جا رہے ہیں۔ خاص طور پر بڑے لینگوئج ماڈلز میں پائی جانے والی غلط معلومات یا “ہیلوسینیشنز” آج بھی جوں کی توں موجود ہیں، بلکہ نئے “ریزننگ” ماڈلز میں یہ مسئلہ زیادہ پُراعتماد انداز میں سامنے آ رہا ہے۔ انسانی نگرانی کا تصور، جسے ایک حفاظتی جال سمجھا جاتا تھا، عملی طور پر کمزور ثابت ہوا ہے کیونکہ زیادہ تر صارفین اب آؤٹ پٹ کو پڑھنے یا پرکھنے کی زحمت ہی نہیں کرتے۔
اسی تناظر میں یہ احساس مضبوط ہوتا جا رہا ہے کہ 2026 مصنوعی ذہانت کے لیے مایوسی کا سال ثابت ہو سکتا ہے۔ کاروباری دنیا میں اے آئی ایجنٹس سے جو بڑے پیمانے پر خودکاری کی امید باندھی گئی تھی، وہ پوری ہوتی نظر نہیں آ رہی۔ مختلف انٹرپرائز پلیٹ فارمز پر ان ایجنٹس کا استعمال محدود رہا ہے اور پائلٹ منصوبوں کی ناکامی کی شرح انتہائی بلند ہے۔ اندرونی رپورٹس کے مطابق کئی اداروں نے تسلیم کیا ہے کہ اعتماد کے مسائل اور ناقص نتائج کے باعث انہیں اے آئی کے استعمال کو محدود کرنا پڑ رہا ہے۔ اس صورتِ حال نے انتظامیہ کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ شاید انہیں سائنسی حقیقت کے بجائے سائنس فکشن بیچا گیا تھا۔
مثال کے طور پر Klarna نے 2025 میں اے آئی پر مبنی کسٹمر سپورٹ کے تجربے کے بعد دوبارہ انسانی ایجنٹس کو بھرتی کیا، کیونکہ خودکار نظام صارفین کی تسلی برقرار رکھنے میں ناکام رہا۔ اسی طرح مارکیٹ ریسرچ ادارہ Forrester پیش گوئی کر چکا ہے کہ ادارے اپنے اے آئی بجٹس کا ایک بڑا حصہ مؤخر کر دیں گے۔ یہ صورتحال ماضی کے اُس تاریخی لمحے کی یاد دلاتی ہے جب 1966 کی ALPAC رپورٹ نے مشینی ترجمے کو “غیر مفید” قرار دے کر ایک دہائی تک فنڈنگ روک دی تھی۔ اب اسی نوعیت کے بیانات بڑے لینگوئج ماڈلز کے بارے میں سنائی دینے کا امکان ہے۔
دوسری بڑی پیش گوئی ڈیٹا سینٹرز میں NVIDIA کی برتری کے خاتمے سے متعلق ہے۔ اگرچہ اینویڈیا اب تک اے آئی انفراسٹرکچر کا مرکزی ستون رہی ہے، مگر حالات تیزی سے بدل رہے ہیں۔ Google اور Meta کا TorchTPU منصوبہ CUDA پر انحصار کو توڑنے کی سمت ایک اہم قدم ہے، جبکہ گوگل اپنے TPUs کو کلاؤڈ کے علاوہ براہِ راست ڈیٹا سینٹرز کو فروخت کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔ اسی طرح Amazon Web Services اور Anthropic کا Project Rainier اینویڈیا کو ایک بڑے ٹریننگ ورک لوڈ سے باہر کر چکا ہے۔
چین میں بھی ملکی چپس کی جانب تیز رفتار منتقلی دیکھی جا رہی ہے، جس سے عالمی سطح پر ASICs کی مانگ میں اضافہ ہو رہا ہے۔ چونکہ یہ چپس سستی اور توانائی کے لحاظ سے زیادہ مؤثر ہیں، اس لیے اینویڈیا آہستہ آہستہ ایک مہنگے مگر غیر ضروری آپشن کے طور پر دیکھی جا سکتی ہے۔ اگر CUDA کی اجارہ داری ختم ہو جاتی ہے تو اینویڈیا کا سب سے بڑا دفاعی حصار بھی ٹوٹ سکتا ہے۔
مجموعی طور پر یہ پیش گوئیاں اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ مصنوعی ذہانت کا سفر سیدھی لکیر میں آگے نہیں بڑھ رہا۔ ہائپ، وعدوں اور حقیقت کے درمیان بڑھتا ہوا فرق اعتماد کو نقصان پہنچا رہا ہے۔ ممکن ہے کہ آنے والا سال ٹیکنالوجی کی رفتار سے زیادہ اس کے احتساب اور حقیقت پسندانہ استعمال کا سال ثابت ہو، جہاں کم دعوے اور زیادہ ٹھوس نتائج ہی بقا کی ضمانت بنیں۔
یہ تحریر اے آئی کی دنیا کے فیس بک پیج پر پوسٹ کی گئی ہے۔