جب بچہ ماں کی کوکھ سے نکلتا ہے، وہ دنیا کو نہیں پہچانتا، الفاظ کو نہیں جانتا، اور چہروں کی تمیز سے بھی ناواقف ہوتا ہے۔ مگر وہ ایک ہستی کو فوراً پہچانتا ہے , ماں۔ اُس کی خوشبو، اُس کی دھڑکن، اُس کی گود۔ ماں کا چہرہ اس کی پہلی اسکرین ہے، اور اُس کے آنچل کی سایہ دار گہرائی اُس کی پہلی یونیورسٹی۔
لیکن آج، وقت بدل چکا ہے۔
اب بچے کی آنکھ کھلتے ہی کسی چہرے سے زیادہ، ایک چمکتی ہوئی اسکرین اُس کی توجہ کھینچتی ہے۔ جس عمر میں ماں لوریاں سناتی تھی، آج "کارٹون نیٹ ورک" سُنا رہا ہے۔ جس وقت ماں آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا کرتی تھی: “یہ کیا ہے؟ یہ کون ہے؟” — اب وہ کام ٹچ اسکرین والے "انٹرایکٹو ایپس" نے سنبھال لیا ہے۔
اب سوال یہ نہیں کہ سکرین سکھاتی ہے یا نہیں سکھاتی ہے۔
سوال یہ ہے کہ وہ کس کی جگہ لے رہی ہے؟
بچے مانوس ہوتے ہیں اُس سے جو اُنہیں تحفظ دے، جو ہر روز، ہر لمحہ اُن کے ساتھ ہو، جو اُن کی آواز پر پلٹ کر دیکھے، اُن کے رونے پر تڑپے، اُن کی خاموشی میں چھپے سوال کو سنے۔ اور افسوس کہ یہ سب کچھ اب اسکرین کر رہی ہے , وہ بھی رنگوں، گانوں، اینیمیشن، اور "گیمیفائیڈ سیکھنے" کے سحر میں۔
اب بچے ماں کی آنکھوں میں نہیں، سکرین کی روشنی میں دیکھتے ہیں۔
وہ وہاں چہروں کو ہنستے، بولتے، اور ناچتے دیکھتے ہیں , وہ سب کچھ جو ایک ماں حقیقت میں کرتی ہے، اب سکرین تخیل میں کر رہی ہے، زیادہ تیز، زیادہ پرکشش، زیادہ جاذب۔
مگر کیا سچائی کی خوشبو بھی ڈیجیٹل ہو سکتی ہے؟
ماں، جو کبھی بچے کی پہلی لغت ہوا کرتی تھی، اب ایک خاموش تماشائی ہے۔
وہ کھڑی دیکھتی ہے، کیسے اُس کا بچہ اُس سے زیادہ “یُوٹیوب” کی نرسری نظموں سے مانوس ہے۔
وہ سمجھ نہیں پاتی کہ وہ ماں کم اور "بیک گراؤنڈ" زیادہ ہوتی جا رہی ہے۔
لیکن کیا قصور اسکرین کا ہے؟ شاید نہیں۔
قصور اُس خالی وقت کا ہے، جو ماں کے ہاتھ سے پھسلتا جا رہا ہے، اُس عدم دستیابی کا ہے، جو معاشی دوڑ، سماجی تقاضوں، اور تھکن سے پیدا ہو رہا ہے۔
اور سکرین تو بس ایک موقع سے فائدہ اٹھا رہی ہے , وہ وہ خلاء بھر رہی ہے جس میں کبھی ماں کی ہنسی، باپ کی کہانی، اور نانی کی تھپکی تھی۔
اصل سوال اب یہ نہیں کہ بچے ماں سے زیادہ سکرین سے مانوس ہو جائیں گے یا نہیں،
اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہم اُنہیں اتنا وقت دے رہے ہیں کہ وہ ہمیں مانوس رکھ سکیں؟
اور مانوسیت؟ وہ صرف وقت سے بنتی ہے , لمس سے، خاموشیوں سے، اور اُس نظر سے جس میں محبت چھپی ہو، جواب نہیں۔
تو اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کے بچے آپ کو سکرین سے زیادہ یاد رکھیں،
تو اُن کے ساتھ وہ وقت گزاریں جس میں سکرین کا گزر نہ ہو۔
اُنہیں وہ خاموشیاں دیں، جن میں صرف دل بولتا ہو۔
اور کبھی کبھار، بغیر کسی سبق کے، اُن کے پاس بیٹھ جائیں۔ صرف یوں ہی۔
کیونکہ شاید، یہی "یونانی سبق" ہو جسے سکرین کبھی نہ سکھا سکے۔
"یہ تحریر اے آئی کی دنیا کے فیس بک پیج پر پوسٹ کی گئی ہے۔"