آج مصنوعی ذہانت کے بارے میں جو بیانیہ پیش کیا جا رہا ہے، اس میں ایک طرف اسے انسانیت کے مسائل کا حل قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ دوسری طرف یہ سوال بھی شدت اختیار کر رہا ہے کہ کیا یہ ٹیکنالوجی واقعی اپنی موجودہ شکل میں اتنی قابل ہے جتنا ہمیں بتایا جا رہا ہے۔ ایک حالیہ تحقیق نے اس دعوے کو چیلنج کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت جلد ہی انسانوں کی جگہ لے لے گی۔ نتائج حیران کن ہیں اور شاید کچھ لوگوں کے لیے پریشان کن بھی۔
یہ تحقیق ایک منفرد طریقہ کار کے ذریعے کی گئی جسے ریسرچ ٹیم نے Remote Labor Index یا RLI کا نام دیا۔ اس میں فری لانسنگ پلیٹ فارم Upwork سے حاصل کردہ حقیقی اور مکمل شدہ پیشہ ورانہ کام مصنوعی ذہانت کے ماڈلز کو دیے گئے۔ پھر انسانوں نے دونوں کے نتائج کا تقابلی جائزہ لیا۔ مقصد یہ تھا کہ دیکھا جائے آیا موجودہ AI نظام حقیقت میں وہی معیار فراہم کر سکتے ہیں جو ایک پیشہ ور انسان فراہم کرتا ہے۔
نتائج کے مطابق بہترین کارکردگی دکھانے والا ماڈل Anthropic کا Claude Opus 4.5 تھا، مگر اس کی کامیابی کی شرح صرف 3.75 فیصد رہی۔ یعنی 96.25 فیصد مواقع پر مصنوعی ذہانت انسانی معیار تک نہ پہنچ سکی۔ Google کے Gemini ماڈل کی کارکردگی اس سے بھی کم رہی۔ اگرچہ نئے ورژنز میں معمولی بہتری آئی ہے، لیکن مجموعی تصویر اب بھی تشویشناک ہے۔
تحقیق میں ناکامی کی چار بنیادی وجوہات سامنے آئیں۔ بعض اوقات AI نے ناقابل استعمال یا خراب فائلیں تیار کیں۔ کئی معاملات میں کام ادھورا تھا، جیسے آٹھ منٹ کی ویڈیو کی جگہ آٹھ سیکنڈ کا کلپ۔ معیار کے مسائل بھی عام تھے، اور بعض ڈیزائن یا تھری ڈی ماڈلز میں عدم تسلسل پایا گیا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ عمومی اور پیشہ ورانہ ماحول میں AI کی قابلِ اعتماد کارکردگی ابھی بہت محدود ہے۔
دوسری جانب، کچھ شعبوں میں مصنوعی ذہانت نے بہتر نتائج دیے۔ تخلیقی خیالات، اشتہاری مواد، سادہ کوڈنگ، ڈیٹا اسکریپنگ اور رپورٹ نویسی جیسے کاموں میں اس کی کارکردگی نسبتاً بہتر رہی۔ یہی وجہ ہے کہ Microsoft اور دیگر بڑی کمپنیاں اسے اپنے نظام میں شامل کر رہی ہیں، مگر حالیہ سافٹ ویئر مسائل یہ بھی ظاہر کرتے ہیں کہ مکمل انحصار ابھی خطرناک ہو سکتا ہے۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ Yann LeCun جیسے ممتاز سائنسدان بھی موجودہ بڑے لینگویج ماڈلز کی حدود کی نشاندہی کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق صرف ڈیٹا اور کمپیوٹنگ طاقت بڑھانا مسئلے کا حل نہیں۔ مصنوعی ذہانت ابھی دنیا کو سمجھنے کے بجائے صرف انسانی زبان کی نقل کر رہی ہے۔
یہ تحقیق اس امر کی یاد دہانی ہے کہ مصنوعی ذہانت ایک طاقتور معاون ٹول ہو سکتی ہے، مگر مکمل متبادل نہیں۔ معاشی سطح پر اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری اس مفروضے پر کی جا رہی ہے کہ AI جلد ہی انسانی محنت کی جگہ لے لے گی۔ اگر یہ مفروضہ غلط ثابت ہوا تو اس کے مالی نتائج بھی سنگین ہو سکتے ہیں۔
مصنوعی ذہانت کا مستقبل روشن ہو سکتا ہے، مگر موجودہ مرحلے پر اسے حقیقت پسندانہ تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ ٹیکنالوجی کی تاریخ گواہ ہے کہ ہر نئی ایجاد کے ساتھ غیر حقیقی توقعات وابستہ کی جاتی ہیں۔
یہ تحریر اے آئی کی دنیا کے فیس بک پیج پر پوسٹ کی گئی ہے