انتھروپک نے ایک نیا AI Exposure Index متعارف کرایا ہے جو یہ اندازہ لگاتا ہے کہ کون سی وائٹ کالر ملازمتیں بڑے لینگویج ماڈلز کی وجہ سے سب سے زیادہ آٹومیشن کے خطرے میں ہیں۔
اس تحقیق کے مطابق کمپیوٹر پروگرامرز سب سے زیادہ متاثر ہونے والے پیشوں میں شامل ہیں، جہاں تقریباً 75 فیصد کام ایسے ہیں جنہیں اے آئی خودکار بنا سکتی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ کے کئی معمول کے کام مستقبل میں اے آئی ٹولز کے ذریعے انجام دیے جا سکتے ہیں۔
تاہم انتھروپک کے ماہرین معاشیات کے مطابق ابھی تک ایسا کوئی واضح ثبوت نہیں ملا کہ اے آئی کی وجہ سے ان پیشوں میں بڑے پیمانے پر بے روزگاری میں اضافہ ہوا ہو۔
البتہ تحقیق میں یہ بھی دیکھا گیا کہ 22 سے 25 سال کی عمر کے نوجوانوں کے لیے بھرتیوں کی رفتار سست پڑ رہی ہے، خاص طور پر ان شعبوں میں جہاں اے آئی کا اثر زیادہ ہے۔ اس سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ ابتدائی کیریئر والی ملازمتیں سب سے پہلے دباؤ محسوس کر سکتی ہیں۔
یہ صورتحال اس بڑے سوال کو بھی جنم دیتی ہے کہ آیا اے آئی مکمل طور پر ملازمتیں ختم کرے گی یا صرف کام کی نوعیت کو بدل دے گی، جہاں انسان اور اے آئی مل کر نئی قسم کے ورک فلو تشکیل دیں گے۔
یہ تحریر اے آئی کی دنیا کے فیس بک پیج پر پوسٹ کی گئی ہے