ٹیکنالوجی کی دنیا ایک ایسے موڑ پر کھڑی ہے جہاں مستقبل کے دو بڑے دھارے بیک وقت تیز ہو رہے ہیں۔ ایک طرف مصنوعی ذہانت کی حیران کن پیش رفت ہے اور دوسری جانب وہ طاقت جو کمپیوٹنگ کے پورے تصور کو ازسر نو لکھ سکتی ہے۔ گُوگل کے سی ای او سندر پچائی نے بی بی سی نیوزنائٹ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کوانٹم کمپیوٹنگ اسی مقام پر ہے جہاں مصنوعی ذہانت پانچ سال پہلے کھڑی تھی۔ یہ جملہ معمولی نہیں۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ آنے والے چند برسوں میں وہی تیزی، وہی غیر متوقع ترقی، اور وہی عالمی ہلچل کوانٹم کمپیوٹنگ بھی پیدا کر سکتی ہے۔
حالیہ برسوں میں گُوگل نے Willow چپ کے ذریعے وہ کارنامہ دکھایا جو آج کے سپر کمپیوٹرز کے تصور سے بھی آگے تھا۔ یہ چپ مخصوص پیچیدہ کیلکولیشنز موجودہ دنیا کے تیز ترین سپر کمپیوٹروں سے تیرہ ہزار گنا تیزی سے انجام دیتی ہے۔ اس کے باوجود پچائی نے واضح کیا کہ مکمل طور پر فعال اور روزمرہ استعمال کے قابل کوانٹم کمپیوٹر اب بھی ایک دہائی یا اس سے زیادہ دور ہیں۔ مگر ٹیکنالوجی کی تاریخ بتاتی ہے کہ جب رفتار بڑھتی ہے تو دہائیاں کبھی کبھار چند برسوں میں سمٹ کر رہ جاتی ہیں۔
سرمایہ کاری کی دنیا میں اس پیش رفت کے اثرات بہت واضح دکھائی دے رہے ہیں۔ کوانٹم کمپیوٹنگ سے متعلق کمپنیوں کی اسٹاک ویلیوز پچھلے دو برسوں میں غیر معمولی حد تک بڑھی ہیں۔ IonQ نے دو سو چوراسی فیصد اضافہ دیکھا، ڈی ویو نے دو ہزار چھ سو فیصد سے زیادہ اور Rigetti جیسی کمپنیوں نے کئی ہزار فیصد تک ترقی حاصل کی۔ اتنی زیادہ تیزی کے باوجود یہ حقیقت بھی سامنے ہے کہ حالیہ ہفتوں میں یہ تمام اسٹاک اپنی بلند ترین سطح سے کم از کم پینتیس فیصد نیچے آ چکے ہیں۔ یہ گراوٹ اس بات کا اشارہ ہے کہ مارکیٹ ایک ایسے انقلاب کی تیاری کر رہی ہے جو ابھی مکمل طور پر سامنے نہیں آیا۔
اصل سوال یہ نہیں کہ کوانٹم کمپیوٹنگ کب آئے گی۔ اصل سوال یہ ہے کہ جب آئے گی تو دنیا کو کیسے بدلے گی۔ اگر مصنوعی ذہانت نے ڈیٹا، زبان، ترقی اور انسانی مہارت کے تصور کو بدل دیا ہے تو کوانٹم کمپیوٹنگ پوری فزکس اور کمپیوٹنگ کی بنیاد بدل دے گی۔ پیچیدہ سائنسی مسائل، ادویات کی دریافت، توانائی کے نظام، موسم کی پیشگوئی، کرپٹوگرافی اور صنعتی ڈیزائن جیسے شعبے ایک نئے دور میں داخل ہوں گے۔ پانچ برس پہلے کسی نے نہیں سوچا تھا کہ AI ہماری روزمرہ گفتگو، تعلیم، کام اور تخلیقی عمل میں یوں شامل ہو جائے گی۔ آج بھی بہت سے لوگ نہیں جانتے کہ کوانٹم کمپیوٹنگ ان سب سے کہیں بڑا طوفان ثابت ہو سکتی ہے۔
سندر پچائی نے جس پرجوش انداز میں آنے والے مرحلے کی پیش گوئی کی ہے، وہ ٹیکنالوجی کے اگلے بڑے قدم کی طرف واضح اشارہ ہے۔ ایک ایسا قدم جو دنیا کی معیشت، ریاستوں کی طاقت، اور انسان کے سیکھنے سوچنے کے طریقے سب کچھ بدل دے گا۔ مصنوعی ذہانت نے ذہانت کی تعریف بدلی تھی۔ کوانٹم کمپیوٹنگ حساب اور حقیقت دونوں کی تعریف بدلنے والی ہے۔
یہ تحریر اے آئی کی دنیا کے فیس بک پیج پر پوسٹ کی گئی ہے۔