انتھروپک نے 20 فروری کو اپنے Claude Code ڈیسک ٹاپ ورژن کی ایک بڑی اپ ڈیٹ جاری کی ہے جس کے بعد یہ ٹول مزید طاقتور اور خودمختار ہو گیا ہے۔ اس اپ ڈیٹ میں لائیو ایپ پری ویو شامل کیا گیا ہے، یعنی ڈویلپر کوڈ لکھتے ہی اپنی ایپ کو فوراً چلتا ہوا دیکھ سکتے ہیں۔ اس کے ساتھ خودکار کوڈ ریویو بھی شامل ہے جو ممکنہ غلطیوں، ساختی مسائل اور بہتری کے نکات کی نشاندہی خود کرتا ہے، جبکہ GitHub پل ریکویسٹ مانیٹرنگ اور آٹو مرج جیسی سہولتیں ٹیم ورک کو تیز اور منظم بناتی ہیں۔
کلاڈ کوڈ اب صرف کوڈ مکمل کرنے والا اسسٹنٹ نہیں رہا بلکہ ایک مکمل ایجنٹک ڈیولپمنٹ ماحول بنتا جا رہا ہے۔ سسٹم پل ریکویسٹ کو مانیٹر کر سکتا ہے، تجاویز دے سکتا ہے اور مخصوص شرائط پوری ہونے پر خودکار طور پر مرج بھی کر سکتا ہے۔ اس کا مطلب ہے کم دستی مداخلت اور زیادہ مؤثر ورک فلو۔
کمپنی کے مطابق اس پروڈکٹ کی سالانہ بنیادوں پر آمدنی کی رفتار 2.5 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکی ہے، جو 2026 کے آغاز سے دوگنی سے بھی زیادہ ہے۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ اے آئی کوڈنگ ٹولز اب محض تجربہ نہیں بلکہ سنجیدہ کاروباری ماڈل بن چکے ہیں۔
سیشن موبیلیٹی ایک اور نمایاں اضافہ ہے۔ اس فیچر کے ذریعے ڈویلپر اپنا کام کمانڈ لائن، ڈیسک ٹاپ اور کلاؤڈ کے درمیان منتقل کر سکتے ہیں۔ یعنی جو ٹاسک آپ نے ایک ڈیوائس پر شروع کیا، وہی سیشن آپ فون یا کسی اور سسٹم پر جاری رکھ سکتے ہیں۔ یہ جدید ریموٹ ورک کلچر کے لیے نہایت اہم پیش رفت ہے۔
یہ تمام تبدیلیاں اس سمت کی نشاندہی کرتی ہیں جہاں اے آئی صرف کوڈ تجویز نہیں کرے گا بلکہ پورے سافٹ ویئر ڈیولپمنٹ سائیکل کا حصہ بن جائے گا۔ سوال اب یہ نہیں کہ اے آئی کوڈ لکھ سکتا ہے یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ کب تک یہ مکمل پروجیکٹس کو خود سنبھالنے کے قابل ہو جائے گا۔