واشنگٹن میں ہونے والے عالمی مالیاتی اجلاسوں میں اس ہفتے ایک غیر معمولی موضوع نے سب کی توجہ حاصل کی، جہاں Anthropic کے Claude Mythos Preview ماڈل نے عالمی سطح پر سائبر سیکیورٹی خدشات کو نمایاں کر دیا۔ ماہرین اور پالیسی ساز اب اس نئی ٹیکنالوجی کے ممکنہ اثرات پر سنجیدگی سے غور کر رہے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق یہ ماڈل بڑے آپریٹنگ سسٹمز اور براؤزرز میں ہزاروں سنگین کمزوریاں تلاش کرنے میں کامیاب رہا ہے، جس نے عالمی ریگولیٹرز کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مالیاتی ادارے اب فوری طور پر اپنے سسٹمز کے دفاع کو مضبوط بنانے کی ضرورت محسوس کر رہے ہیں۔
یورپی بینکاری اتھارٹی کے سربراہ François-Louis Michaud نے اس بات پر زور دیا کہ اگرچہ بینکنگ سسٹم مضبوط ہے، مگر اے آئی سے پیدا ہونے والے سائبر خطرات کے لیے فوری تیاری ناگزیر ہے۔ اسی طرح Andrew Bailey اور Christine Lagarde نے بھی اس خطرے کے فوری جائزے کی ضرورت پر زور دیا۔
مزید برآں Jamie Dimon نے واضح طور پر کہا کہ یہ ماڈل ایسے متعدد سیکیورٹی مسائل کو سامنے لا رہا ہے جو پہلے پوشیدہ تھے، اور یہ مالیاتی نظام کے لیے ایک سنجیدہ چیلنج بن سکتا ہے۔
یہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ مصنوعی ذہانت اب صرف ترقی کا ذریعہ نہیں بلکہ ایک دو دھاری تلوار بن چکی ہے، جو جہاں نئی سہولیات فراہم کرتی ہے وہیں نئے خطرات بھی پیدا کر رہی ہے۔ آنے والے وقت میں یہ طے کرے گا کہ دنیا اس طاقتور ٹیکنالوجی کو کس حد تک محفوظ طریقے سے استعمال کر سکتی ہے۔
یہ تحریر اے آئی کی دنیا کے فیس بک پیج پر پوسٹ کی گئی ہے
#AiKiDuniya, #Anthropic, #ClaudeMythos, #CyberSecurity, #ArtificialIntelligence, #GlobalEconomy