اے آئی کمپنی Higgsfield AI نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی 95 منٹ طویل سائنس فکشن فلم “Hell Grind” مکمل طور پر جنریٹو اے آئی کی مدد سے تیار کی گئی، اور اسے بنانے میں صرف دو ہفتے لگے۔
یہ فلم جمعرات کو کانز فلم فیسٹیول میں پیش کی گئی، جہاں اسے ممکنہ طور پر دنیا کی پہلی مکمل فیچر فلم قرار دیا جا رہا ہے جو روایتی فلم سازی کے بجائے بنیادی طور پر مصنوعی ذہانت سے بنائی گئی۔
رپورٹس کے مطابق فلم کی مجموعی لاگت تقریباً پانچ لاکھ ڈالر رہی۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ اس بجٹ کا تقریباً 80 فیصد حصہ صرف اے آئی کمپیوٹنگ پاور پر خرچ ہوا، یعنی اداکاروں، سیٹس یا بڑے پروڈکشن اخراجات سے زیادہ سرمایہ مشینوں کو چلانے پر لگا۔
یہ پیش رفت ایک بڑا سوال پیدا کرتی ہے۔
اگر مکمل فلمیں ہفتوں میں بننے لگیں، تو مستقبل میں فلم سازوں، اینی میٹرز، ایڈیٹرز اور ویژول ایفیکٹس انڈسٹری کا کردار کیسے بدلے گا؟
تاہم اس کے ساتھ ایک واضح حد بھی سامنے آ گئی ہے۔
کانز فلم فیسٹیول کے منتظمین نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ فلمیں جو زیادہ تر جنریٹو اے آئی سے تیار کی گئی ہوں، انہیں فیسٹیول کے سب سے بڑے اعزاز Palme d’Or کے لیے اہل نہیں سمجھا جائے گا۔
یعنی کم از کم اس وقت فلمی دنیا اب بھی انسانی تخلیق اور مشینی تخلیق کے درمیان فرق برقرار رکھنا چاہتی ہے۔
مصنوعی ذہانت فلمیں بنا سکتی ہے۔
لیکن سوال شاید اب بھی یہی ہے۔
کیا مشینیں وہ جذبات، تجربات اور انسانی کہانیاں تخلیق کر سکیں گی جن پر عظیم سنیما کھڑا ہے؟
یہ بحث ابھی ختم نہیں ہوئی، شاید ابھی شروع ہوئی ہے۔
فلم کے آفیشیل ٹریلر کا لنک کمنٹ میں۔ 👇
یہ تحریر اے آئی کی دنیا کے فیس بک پیج پر پوسٹ کی گئی ہے
#AiKiDuniya, #ArtificialIntelligence, #HiggsfieldAI, #HellGrind, #CannesFilmFestival, #GenerativeAI, #FutureOfCinema, #AITe